انجیل مقدس جلد دوم پارٹ7 آخری حصہ - Tibb4all

انجیل مقدس جلد دوم پارٹ7 آخری حصہ

انجیل مقدس جلد دوم پارٹ7 آخری حصہ
سیدنا عیسیٰ المسیح کی انجیل شریف


۲۷ پاروں  میں سے  ۱۶واں پارہ

رسولِ مقبول حضرتِ پولوس کا حضرتِ ططس کو تبلیغی خط





رکوع ۱


        (۱)پولوس کی طرف سے  جو پروردگار کا بندہ اور سیدنا عیسیٰ مسیح کا رسول ہے۔ پروردگار کے  برگزیدوں کے  ایمان اور اس حق کی پہچان کے  مطابق جو دین داری کے  موافق ہے۔ (۲) اس ہمیشہ کی زندگی کی امید پر جس کا وعدہ ازل سے  پروردگار نے  کیا ہے  جو جھوٹ نہیں بول سکتے۔ (۳) اور انہوں نے  مناسب وقتوں پر اپنے  کلام کو اس پیغام میں ظاہر کیا جو ہمارے  منجی، پروردگار کے  حکم کے  مطابق میرے  سپرد ہوئے۔ (۴) ایمان کی شرکت کے  رو سے  سچے  فرزند  ططس کے  نام، مہربانی، اور اطمینان، پروردگار اور ہمارے  منجی سیدنا عیسیٰ مسیح کی طرف سے  تمہیں حاصل ہوتا رہے۔
        (۵) میں نے  تمہیں کریتے  میں اس لئے  چھوڑا تھا کہ تم باقی ماندہ باتوں کو درست کرو اور میرے حکم کے  مطابق  شہر بہ شہر  ایسے  بزرگوں کو مقرر کرو۔ (۶) جو بے  الزام اور ایک ایک بیوی کے  شوہر ہوں اور ان کے  بچے مومن اور بد چلنی اور سرکشی کے  الزام سے  پاک ہوں۔ (۷)کیونکہ نگہبان  کو پروردگار کا مختار ہونے  کی وجہ سے  بے  الزام ہونا چاہیے۔ نہ خواری ہو۔ نہ غصہ ور، نہ نشہ میں غل مچانے  والا۔ نہ مار پیٹ کرنے  والا اور نہ ناجائز نفع کا لالچی۔ (۸) بلکہ مسافر پرور، خیر دوست، متقی، منصف مزاج، پاک اور ضبط کرنے  والا ہو۔ (۹) اور ایمان کے  کلام پر جو اس تعلیم کے  موافق ہے  قائم ہو تاکہ  صحیح تعلیم  کے  ساتھ نصیحت  بھی کر سکے  اور مخالفوں کو قائل بھی کر سکے۔
        (۱۰) کیونکہ بہت سے  لوگ سرکش اور بیہودہ گو اور دغا باز ہیں خاص کر مختونوں میں سے۔ (۱۱) ان کا منہ بند کرنا چاہیے۔ یہ لوگ ناجائز نفع کی خاطر  ناشائستہ باتیں سکھا کر گھر کے  گھر تباہ کر دیتے  ہیں۔ (۱۲) ان ہی میں سے  ایک شخص نے  کہا ہے  جو خاص ان کا نبی تھا کہ کریتی ہمیشہ جھوٹے  ، موذی جانور، احدی کھاؤ، ہوتے  ہیں۔ (۱۳) یہ گواہی سچ ہے۔ پس انہیں  سخت ملامت کیا کرو تاکہ  ان کا ایمان درست ہو جائے۔ (۱۴) اور وہ یہودیوں کی کہانیوں اور ان آدمیوں کے  حکموں پر توجہ نہ کریں جو حق سے  گمراہ ہوتے  ہیں۔ (۱۵) پاک لوگوں کے  لئے سب چیزیں  پاک ہیں مگر گناہ آلودہ اور بے  ایمان لوگوں کے  لئے  کچھ بھی پاک نہیں بلکہ  ان کی عقل اور دل دونوں  گناہ آلودہ ہیں۔ (۱۶)وہ پروردگار کی پہچان کا دعویٰ تو کرتے  ہیں مگر اپنے کاموں سے  اس کا انکار کرتے  ہیں کیونکہ وہ مکروہ اور نافرمان ہیں اور کسی نیک کام کے  قابل نہیں۔


رکوع ۲


        (۱)لیکن تم وہ باتیں بیان کرو جو صحیح تعلیم کے  مناسب ہیں۔ (۲) یعنی یہ کہ  بوڑھے  مرد پرہیزگار سنجیدہ اور متقی  ہوں اور ان کا ایمان، اور محبت اور صبر صحیح ہو۔ (۳) اسی طرح بوڑھی عورتوں  کی بھی وضع پارساؤں کی سی ہو۔ تہمت لگانے  والی اور زیادہ  مے  پینے میں مبتلا نہ ہوں بلکہ اچھی باتیں  سکھانے  والی  ہوں۔ (۴) تاکہ جوان عورتوں کو سکھائیں  کہ اپنے  شوہروں  کو پیار کریں۔ بچوں کو پیار کریں۔ (۵) متقی اور پاک  دامن اور گھر کا کاروبار کرنے  والی اور مہربان ہوں اور اپنے  اپنے  شوہر کے  تابع رہیں تاکہ کلامِ الٰہی بدنام نہ ہو۔ (۶) جوان آدمیوں  کو بھی اسی طرح نصیحت  کر کہ متقی بنیں۔ (۷) سب باتوں میں اپنے  آپ کو نیک کاموں کا نمونہ بناؤ۔ تمہاری تعلیم میں صفائی اور سنجیدگی۔ (۸) اور ایسی صحت کلامی پائی جائے  جو  ملامت کے  لئے  لائق  نہ ہو تاکہ  مخالف ہم پر عیب لگانے  کی کوئی وجہ نہ پا کر  شرمندہ ہو جائے۔ (۹) نوکروں کو نصیحت  کرو کہ اپنے  مالکوں  کے  تابع رہیں اور سب باتوں میں انہیں  خوش رکھیں اور ان کے  حکم سے  کچھ انکار نہ کریں۔ (۱۰) چوری چالاکی نہ کریں بلکہ ہر طرح کی دیانت داری اچھی طرح ظاہر کریں تاکہ ان سے  ہر بات میں ہمارے  منجی خدا کی تعلیم کو رونق ہو۔ کیونکہ پروردگار کی وہ مہربانی ظاہر ہوئی ہے  جو سب آدمیوں کی نجات کا باعث ہے۔ (۱۲) اور ہمیں  تربیت  دیتی ہے  تاکہ بے  دینی اور دنیوی  خواہشوں کا انکار کر کے  اس موجودہ  جہان میں  پرہیزگاری اور سچائی اور دین داری  کے  ساتھ زندگی گزاریں۔ (۱۳) اور اس مبارک امید یعنی اپنے  بزرگ  خدا اور منجی سیدنا عیسیٰ مسیح کی بزرگی کے  ظاہر ہونے  کے  منتظر رہیں۔ (۱۴) جنہوں نے  اپنے  آپ کو  ہمارے  واسطے دے  دیا تاکہ  فدیہ ہو کر ہمیں ہر طرح کی بے  دینی سے  چھڑا لیں اور پاک کر کے  اپنی خاص ملکیت  کے  لئے  ایسی امت بنائیں جو نیک کاموں میں سرگرم ہو۔
        (۱۵) پورے  اختیار کے  ساتھ یہ باتیں  کہو اور نصیحت  دو اور ملامت کرو۔ کوئی  تمہاری حقارت نہ کرنے  پائے۔


رکوع ۳


        (۱) ان کو یاد دلا ؤ کہ  حاکموں اور اختیار والوں کے  تابع رہیں اور ان کا حکم مانیں اور ہر نیک کام کے  لئے  مستعد رہیں۔ (۲) کسی کی بد گوئی نہ کریں۔ تکراری نہ ہوں بلکہ نرم مزاج ہوں اور سب آدمیوں کے  ساتھ کمال حلیمی سے  پیش آئیں۔ (۳)کیونکہ ہم بھی پہلے  نادان، نافرمان، فریب کھانے  والے  اور رنگ برنگ کی خواہشوں اور عیش و عشرت کے  بندے  تھے  اور بد خواہی اور حسد میں زندگی گزارتے  تھے۔ نفرت کے  لائق تھے  اور آپس میں  کینہ رکھتے  تھے۔ (۴) مگر جب ہمارے  منجی پروردگار کی مہربانی اور انسان کے  ساتھ اس کی الفت ظاہر ہوئی۔ (۵)تو انہوں نے  ہم کو نجات دی مگر سچائی کے  کاموں کے  سبب سے  نہیں  جو ہم نے  خود کئے  بلکہ اپنی رحمت  کے  مطابق  نئی پیدائش  کے  غسل اور روحِ پاک کے  ہمیں نیا بنانے  کے  وسیلہ سے۔ (۶) جسے  انہوں نے  ہمارے  منجی سیدنا عیسیٰ مسیح کی معرفت  ہم پر افراط  سے  نازل فرمایا۔ (۷) تاکہ ہم ان کی مہربانی سے  سچے  ٹھہر کر ہمیشہ  کی زندگی کی امید کے  مطابق  وارث بنیں۔ (۸) یہ بات سچ ہے  اور میں چاہتا ہوں کہ  تم ان باتوں کا یقینی  طور سے  دعویٰ کرو تاکہ  جنہوں نے پروردگار کا یقین کیا ہے  وہ اچھے  کاموں میں لگے  رہنے  کا خیال رکھیں۔ یہ باتیں  بھلی اور آدمیوں کے  واسطے  فائدہ مند ہیں۔ (۹)مگر بیوقوفی  کی حجتوں اور نسب ناموں اور جھگڑوں اور ان لڑائیوں  سے  جو شریعت  کی بابت ہوں پرہیز کر و اس لئے  کہ یہ لاحاصل اور بے  فائدہ ہیں۔ (۱۰) ایک دو بار نصیحت  کر کے  بدعتی شخص  سے  کنارہ کرو۔ (۱۱) یہ جان کر کہ ایسا شخص سرکش ہو گیا ہے  اور اپنے  آپ کو مجرم ٹھہرا کر گناہ کرتا رہتا ہے۔
آخری ہدایات
        (۱۲) جب میں تمہارے  پاس ارتماس یا تخکس کو بھیجوں تو میرے  پاس نیکپلس آنے  کی کوشش کرنا کیونکہ میں نے  وہیں جاڑا کاٹنے  کا قصد کر لیا ہے۔ (۱۳) زینا س عالم شرع اور اپلوس  کو کوشش کر کے  روانہ کر دو۔ اس طور پر کہ ان کو کسی چیز کی حاجت نہ رہے۔ (۱۴) اور ہمارے  لوگ بھی ضرورتوں کو رفع کرنے  کے  لئے  اچھے  کاموں میں لگے  رہنا سیکھیں تاکہ بے  پھل نہ رہیں۔
        (۱۵) میرے  سب ساتھی تمہیں سلام کہتے  ہیں جو ایمان کے  رو سے  ہمیں عزیز رکھتے  ہیں ان سے  سلام کہہ۔
                تم سب پر مہربانی ہوتی رہے۔



سیدنا عیسیٰ المسیح کی انجیل شریف

۲۷ پاروں  میں سے  ۱۷واں پارہ

رسولِ مقبول حضرتِ پولوس کا حضرتِ فلیمون کو تبلیغی خط




رکوع ۱


        (۱)پولوس کی طرف سے  جو سیدنا عیسی ٰ مسیح کا قیدی ہوں اور بھائی تیمتھیس کی طرف سے  اپنے  عزیز اور ہم خدمت  فلیمون۔ (۲)اور بہن افیہ اور اپنے  ہم سپاہ ارخپس اور فلیمون کے  گھر کی جماعت کے  نام۔ (۳)مہربانی اور اطمینان ہمارے  پروردگار اور مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کی طرف سے  تمہیں حاصل ہوتا رہے۔
        (۴) میں تمہاری اس محبت کا اور ایمان کا حال سن کر جو سب پارساؤں کے  ساتھ اور مولا سیدنا عیسیٰ پر ہے۔ (۵) ہمیشہ اپنے پروردگار کا شکر کرتا ہوں اور اپنی دعاؤں میں تمہیں  یاد کرتا ہوں۔ (۶)تاکہ  تمہارے  ایمان کی شراکت  تمہاری ہر خوبی کی پہچان میں سیدنا عیسیٰ مسیح کے  واسطے  موثر ہو۔ (۷) کیونکہ اے  دینی بھائی !مجھے  تمہاری محبت  سے  خوشی اور تسلی ہوئی  اس لئے  کہ  تمہارے  سبب سے  مومنین  کے  دل تازہ ہوئے  ہیں۔
        (۸)پس اگرچہ مجھے  سیدنا عیسیٰ مسیح میں بڑی دلیری تو ہے  کہ تمہیں مناسب حکم دوں۔ (۹) مگر مجھے  یہ زیادہ پسند ہے  کہ میں  بوڑھا پولوس  بلکہ اس وقت  سیدنا عیسیٰ مسیح کا قیدی بھی ہو کر محبت کی راہ سے  التماس کروں۔ (۱۰)سو اپنے  فرزند  انیمس کی بابت  جو قید کی حالت میں مجھ سے  پیدا ہوا تم سے  التماس کرتا ہوں۔ (۱۱) پہلے  تو وہ کچھ تمہارے  کام کا نہ تھا مگر اب تمہارے  اور میرے  دونوں کے  کام کا ہے۔ (۱۲)خود اس کو یعنی اپنے  کلیجے  کے  ٹکڑے  کو میں نے  تمہارے  پاس واپس بھیجا ہے۔ (۱۳) اس کو میں اپنے  ہی پاس رکھنا چاہتا تھا تاکہ تمہاری طرف سے  اس قید میں جو خوشخبری کے  باعث ہے  میری خدمت کرے۔ (۱۴)لیکن تمہاری مرضی کے  بغیر میں نے کچھ کرنا نہ چاہا تاکہ تمہارا نیک کام لاچاری سے  نہیں بلکہ  خوشی سے  ہو۔ (۱۵) کیونکہ ممکن ہے  کہ وہ تم سے اس لئے  تھوڑی دیر کے  واسطے جدا ہو ا ہو کہ  ہمیشہ  تمہارے  پاس رہے۔ (۱۶) مگر اب سے  غلام کی طرح نہیں  بلکہ غلام سے  بہتر ہو کر یعنی ایسے  بھائی  کی طرح رہے  جو جسم میں بھی اور مولا میں بھی میرا نہایت  عزیز ہو اور تمہارا اس سے  بھی کہیں زیادہ۔ (۱۷) پس اگر تم مجھے  شریک جانتے  ہو تو اسے  اس طرح قبول کرنا جس طرح مجھے۔ (۱۸) اور اگر اس نے  تمہارا کچھ نقصان کیا ہے  یا اس پر تمہارا کچھ آتا ہے  تو اسے  میرے  نام سے  لکھ لو۔ (۱۹) میں پولوس اپنے  ہاتھ سے  لکھتا ہوں کہ خود ادا کروں گا اور اس کے  کہنے  کی کچھ حاجت نہیں کہ میرا قرض جو تم پر ہے  وہ تو خود ہے۔ (۲۰) اے  دینی بھائی! میں چاہتا ہوں کہ مجھے  تمہاری  طرف سے  مولا میں خوشی حاصل ہو۔ سیدنا عیسیٰ مسیح میں میرے  دل کو تازہ کرو۔ (۲۱) میں تمہاری فرمانبرداری کا یقین کر کے  تمہیں  لکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ جو کچھ میں کہتا ہوں تم اس سے  بھی زیادہ کرو گے۔ (۲۲) اس کے  سوا میرے  لئے ٹھہرنے  کی جگہ تیار کرو کیونکہ  امید ہے  کہ میں تمہاری دعاؤں کے  وسیلہ سے  تمہیں بخشا جاؤں گا۔
        (۲۳) اپفراس جو سیدنا عیسیٰ مسیح میں میرے  ساتھ قید ہے۔ (۲۴) اور مرقس اور ارسترخس اور دیماس اور لوقا جو میرے  ہم خدمت ہیں تمہیں سلام کہتے  ہیں۔
        (۲۵) ہمارے  مولا و آقا سیدنا عیسیٰ مسیح  کی مہربانی تمہاری روح پر ہوتی رہے۔ آمین۔



انجیل شریف
ازلی محبوب( سیدنا عیسیٰ مسیح) کی معرفت  اللہ و تبارک تعالیٰ کا کلام

اہلِ عبرانیوں کے  نام ایک  تبلیغی خط



رکوع ۱


        (۱)اگلے  زمانہ میں  اللہ و تبارک تعالیٰ نے  آباؤ اجداد سے  حصہ بہ حصہ اور طرح بہ طرح انبیاء کرام کے  ذریعہ کلام کر کے۔ (۲)اس ایاّم کے  آخر میں ہم سے  ازلی محبوب کے  ذریعہ کلام کیا جسے  پروردگارِ عالم نے  تمام چیزوں کا وارث ٹھہرایا اور آپ  کے  وسیلہ سے  اس نے  عالم کو خلق کیا۔ (۳)آپ رب العالمین کی بزرگی کا عکس اور ان کی ماہیت کا عین نقش ہو کر تمام چیزوں کو اپنی قدرت کے  کلام سے  سنبھالتے  ہیں۔ آ پ گناہوں کی تطہیر کر کے  عرشِ معلیٰ پر حشمت کی دہنی طرف جا بیٹھے۔
پروردگارِ عالم کے  ازلی محبوب کی عظمت
(۴) اور فرشتوں سے  اسی قدر بزرگ ترین ہو گئے  جس قدر آپ نے  میراث میں ان سے  عمدہ ترین نام پایا۔ (۵)کیونکہ فرشتگان میں سے  رب العالمین نے  کب کسی سے  فرمایا کہ
        تم میرے  ازلی محبوب ہو۔
        آج تم مجھ سے  زائیدہ ہوئے 
اور پھر یہ کہ
        میں اس کا پروردگار ہوں گا
        اور وہ میرا محبوب ہو گا۔
(۶)اور جب اکلوتے  محبوب کو دنیا میں بھیجتے  ہیں تو فرماتے  ہیں کہ
        اللہ و تبارک تعالیٰ کے  سب فرشتگان آپ کو سجدہ کریں
(۷)اور فرشتگان کی بابت یہ فرماتے  ہیں کہ
        وہ اپنے  فرشتوں کو ہوائیں
        اور اپنے  عابدوں کو آگ کے  شعلے  بناتا ہے۔
(۸)مگر محبوب کی بابت فرماتے  ہیں کہ
        رب العالمین آپ کا تخت ابد الاآباد رہے  گا
        اور آپ کی سلطنت  کا عصا سچائی کا عصا ہے۔
        (۹)آپ نے  سچائی سے  محبت اور بدکاری سے  نفرت رکھی۔
        اسی سبب سے  پروردگار نے  یعنی آپ کے  رب نے 
        خوشی کے  تیل سے 
        آپ کے  ہمدستوں کی نسبت آپ کو زیادہ پاک کیا۔
(۱۰) اور یہ کہ
        اے  مولا ! آپ نے  تو ابتدا میں زمین کی نیو ڈالی
        اور آسمان آپ کے  ہاتھوں کی کاری گری ہیں۔
        (۱۱)وہ  نیست ہو جائیں گے  مگر آپ ہی کو بقا ہے 
        اور وہ سب پوشاک کی مانند بوسیدہ ہو جائیں گے۔
        (۱۲)مگر آپ انہیں لبادہ کی طرح طے  کریں گے 
        اور وہ پوشاک کی طرح بدل جائیں گے 
        مگر آپ تو وہی ہیں
        اور آپ کے  برس ختم نہ ہوں گے۔
(۱۳)لیکن اللہ و تبارک تعالیٰ نے  فرشتگان میں سے  کب کسی سے  فرمایا کہ تم میری دہنی طرف بیٹھو
        جب تک میں تمہارے  دشمنوں کو تمہارے  پاؤں تلے  کی چوکی نہ کر دوں۔
(۱۴)کیا وہ سب خدمت گزار روحیں نہیں جو نجات کے  وارثوں کی خاطر خدمت کو بھیجی جاتی ہیں؟


 رکوع ۲: اتنی بڑی نجات


        (۱)اس لئے  جو باتیں ہم نے  سنیں ان پر اور بھی دل لگا کر غور کرنا چاہیے  تاکہ بہہ کر ان سے  دور نہ چلیں جائیں۔ (۲)کیونکہ جو کلام فرشتگان کے  ذریعہ فرمایا گیا تھا جب وہ قائم رہا اور ہر قصور اور نا فرمانی کا واجبی  بدلہ ملا۔ (۳) تو اتنی بڑی نجات سے  غافل رہ کر ہم کیوں کر بچ سکتے  ہیں؟ جس کا بیان پہلے  پروردگار کے  وسیلہ سے  ہوا اور سننے  والوں سے  ہمیں پایۂ ثبوت کو پہنچا۔ (۴)اور ساتھ ہی  رضائے الٰہی کے  موافق نشانوں اور عجیب کاموں اور طرح طرح  کے  معجزوں اور روحِ الٰہی کی نعمتوں کے  ذریعہ  سے  اس کی شہادت دیتے  رہے۔
ہماری نجات کے  سردار
        (۵)رب العالمین نے  اس آنے  والے  جہان کو جس کا ہم ذکر کرتے  ہیں  فرشتگان کے  تابع نہیں کیا۔
(۶)بلکہ کسی نے  یہ شہادت دی ہے  کہ
        انسان کیا چیز ہے  جو آپ اس کا خیال کرتے  ہیں؟
        یا آدم زاد کیا ہے  جو آپ اس پر نگاہ کرتے  ہیں؟
        (۷) آپ نے  اسے  فرشتگان سے  کچھ ہی کم کیا۔
        آپ نے  اس پر بزرگی اور عزت کا تاج رکھا
        اور اپنے  ہاتھوں کے  کاموں پر اسے  اختیار بخشا۔
        (۸)آپ نے  تمام چیزیں تابع کر کے  اس کے  پاؤں تلے  کر دی ہیں۔
پس جس صورت میں رب العالمین نے  تمام چیزیں اس کے  تابع کر دیں تو اس نے  کوئی چیز ایسی نہ چھوڑی جو اس کے  تابع نہ کی ہو مگر اب تک تمام چیزیں  اس کے  تابع نہیں دیکھتے۔ (۹) البتہ ان کو دیکھتے  ہیں جو فرشتگان سے  کچھ ہی کم کئے  گئے  یعنی سیدنا عیسیٰ کو کہ موت کا دکھ سہنے  کے  سبب سے  بزرگی اور عزت کا تاج انہیں پہنایا گیا ہے  تاکہ پروردگار کی مہربانی سے آپ ہر ایک آدمی کے  لئے  موت کا مزہ چکھیں۔ (۱۰) کیونکہ جس کے لئے  تمام چیزیں ہیں اور جس کے  وسیلہ سے  تمام چیزیں  ہیں اس کو یہی مناسب تھا کہ جب بہت سے  فرزندوں کو بزرگی میں داخل کرے  تو ان کی نجات کے  بانی کو دکھوں کے  ذریعہ سے  کامل کر لے۔ (۱۱) اس لئے  کہ پاک کرنے  والا اور پاک ہونے  والے  سب ایک ہی اصل سے  ہیں۔ اسی باعث وہ انہیں بھائی کہنے  سے  نہیں شرماتا۔ (۱۲)چنانچہ وہ فرماتے  ہیں کہ
        تمہارا نام میں اپنے  بھائیوں سے  بیان کروں گا
        جماعت میں تمہاری حمد کے  گیت گاؤں گا۔
(۱۳) اور پھر یہ کہ میں اس پر بھروسہ رکھوں گا اور پھر یہ کہ دیکھو میں ان لڑکوں سمیت جنہیں پروردگار نے  مجھے  دیا۔ (۱۴) پس جس صورت میں کہ لڑکے  خون اور گوشت میں شریک ہیں تو وہ خود بھی ان کی طرح  ان میں شریک ہوا تاکہ موت کے  وسیلہ سے  جسے  موت پر قدرت حاصل تھی یعنی ابلیس کو نیست و نابود کر دے۔ (۱۵) اور جو عمر بھر موت کے  ڈر سے  غلامی میں گرفتار رہے  انہیں چھڑا لے۔ (۱۶) پس انہیں (یعنی سیدنا عیسیٰ) سب باتوں میں اپنے  بھائیوں کی مانند بننا لازم ہوا تاکہ  امت کے  گناہوں کا کفارہ دینے  کے  واسطے  ان باتوں میں جو پروردگارِ عالم سے  تعلق رکھتی ہیں ایک رحم دل اور دیانت دار امامِ اعظم بنے۔ (۱۸) کیونکہ جس صورت میں آپ نے  خود ہی آزمائش کی حالت میں دکھ اٹھایا تو آپ ان کی بھی مدد کر سکتے  ہیں جن کی آزمائش ہوتی ہے۔


رکوع ۳: سیدنا عیسیٰ مسیح حضرت موسیؑ سے  بلند رتبہ ہیں


        (۱)پس اے  پاک بھائیو!تم جو آسمانی بلاوے  میں شریک ہو۔ اس رسول مقبول اور امامِ اعظم عیسیٰ پر غور کرو جس کا ہم اقرار کرتے  ہیں۔ (۲)جو اپنے  مقرر کرنے  والے  کے  حق میں دیانت دار تھے  جس طرح حضرت موسیٰؑ  ان کے  سارے  گھر میں تھے۔ (۳)کیونکہ آپ موسیٰؑ  سے  اس قدر زیادہ عزت کے  لائق سمجھے  گئے  جس قدر گھر کا بنانے  والا گھر سے  زیادہ عزت دار ہوتا ہے۔ (۴)چنانچہ ہر ایک  گھر کا کوئی نہ کوئی بنانے  والا ہوتا ہے  مگر جس نے  تمام چیزیں  بنائیں وہ پروردگارِ عالم ہیں۔ (۵)حضرت موسیٰؑ  تو ان کے  سارے  گھر میں خادم کی طرح دیانت دار رہیں تاکہ آئندہ بیان ہونے  والی باتوں کی شہادت دیں۔ (۶)لیکن سیدنا عیسیٰ مسیح محبوب کی طرح پروردگار کے  گھر کے  مختار ہیں اور ان کا گھر ہم ہیں بشرطیکہ اپنی دلیری اور امید کا فخر آخر تک مضبوطی سے  قائم رکھیں۔
(۷)پس جس طرح روحِ الٰہی فرماتا ہے۔
        اگر آج تم اس کی آواز سنو
        (۸)تو اپنے  دلوں کو سخت نہ کرو جس طرح غصہ دلانے  کے  وقت آزمائش کے  دن جنگل میں کیا تھا۔
        (۹)جہاں تمہارے  آباء و  اجداد نے  مجھے  جانچا اور آزمایا
        اور چالیس برس تک میرے  کام دیکھے۔
        (۱۰)اسی لئے  میں اس پشت سے  ناراض ہوا
        اور کہا کہ ان کے  دل ہمیشہ گمراہ ہوتے  رہتے  ہیں۔  اور انہوں نے  میری راہوں کو نہیں پہچانا۔
        (۱۱)چنانچہ میں نے  اپنے  غضب میں قسم کھائی کہ یہ میرے  آرام میں داخل نہ ہونے  پائیں گے۔
(۱۲)اے  بھائیو!خبر دار ! تم میں سے  کسی کا ایسا بُرا اور بے  ایمان دل نہ ہو جو زندہ رب سے  پھر جائے۔ (۱۳) بلکہ جس روز تک آج کا دن کہا جاتا ہے  ہر روز آپس میں نصیحت کیا کرو تاکہ تم میں سے  کوئی گناہ کے  فریب میں آ کر سخت  دل نہ ہو جائے۔ (۱۴)کیونکہ ہم سیدنا عیسیٰ مسیح میں شریک ہوئے  ہیں بشرطیکہ  اپنے  ابتدائی  بھروسہ پر آخر تک مضبوطی سے  قائم رہیں۔ (۱۵) چنانچہ فرمایا جاتا ہے  کہ     اگر آج تم اس کی آواز سنو
        تو اپنے  دلوں کو سخت نہ کرو
        جس طرح کہ غصہ دلانے  کے  وقت کیا تھا۔
(۱۶)کن لوگوں نے  آواز سن کر غصہ دلایا؟ کیا ان سب نے  نہیں جو موسیٰؑ  کے  وسیلہ سے  مصر سے  نکلے  تھے ؟ (۱۷) اور وہ کن لوگوں سے  چالیس برس تک ناراض رہا؟ کیا ان سے  نہیں جنہوں نے  گناہ کیا اور ان کی لاشیں بیابان میں پڑی رہیں؟ (۱۸)اور کن کی بابت اس نے  قسم کھائی کہ وہ میرے  آرام میں داخل نہ ہونے  پائیں گے  سوا ان کے  جنہوں نے  نافرمانی کی؟ (۱۹)غرض ہم دیکھتے  ہیں کہ وہ بے  ایمانی کے  سبب سے  داخل نہ ہو سکے۔


رکوع ۴


        (۱)پس جب پروردگارِ عالم کے  آرام میں داخل ہونے  کا وعدہ باقی ہے  تو ہمیں ڈرنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے  کوئی اس میں داخل ہونے  سے  محروم رہ جائے۔ (۲)کیونکہ ہمیں بھی ان ہی کی طرح خوشخبری سنائی گئی لیکن سنے  ہوئے  کلام نے  ان کو اس لئے  کچھ فائدہ نہ دیا کہ سننے  والوں کے  دلوں میں ایمان کے  ساتھ نہ بیٹھا۔ (۳)اور ہم جو ایمان لائے  اس آرام میں داخل ہوتے  ہیں جس طرح اس نے  فرمایا کہ
        میں نے  اپنے  غضب میں قسم کھائی
        کہ یہ میرے  آرام میں داخل نہ ہونے  پائیں گے 
گو بنائے عالم کے  وقت اس کے  کام ہو چکے  تھے۔ (۴) چنانچہ ا س نے  ساتویں دن کی بابت کسی موقع پر اس طرح کہا ہے  کہ پروردگار نے  اپنے  سب کاموں کو پورا کر کے  ساتویں دن آرام فرمایا۔ (۱۵)اور پھر اس مقام پر ہے  کہ
        وہ میرے  آرام میں داخل نہ ہونے  پائیں گے۔
(۶)پس جب یہ بات باقی ہے  کہ بعض اس آرام میں داخل ہوں اور جن کو پہلے  خوشخبری سنائی گئی تھی وہ نافرمانی کے  سبب سے  داخل نہ ہوئے۔ (۷)تو پھر ایک خاص دن ٹھہرا کر اتنی مدت کے  بعد حضرت داؤد ؑ  کی کتاب میں اسے  آج کا دن کہتے  ہیں جیسا پیشتر فرمایا گیا ہے  کہ
        اگر آج تم اس کی آواز سنو
        تو اپنے  دلوں کو سخت نہ کرو۔
(۸)اور اگر حضرت یشوع ؑ نے  انہیں آرام میں داخل کیا ہوتا تو وہ اس کے  بعد دوسرے  دن کا ذکر نہ کرتے۔ (۹) پس پروردگار کی امت کے  لئے  سبت کا آرام باقی ہے۔ (۱۰) کیونکہ جو اس کے  آرام میں داخل ہوا اس نے  بھی پروردگار کی طرح  اپنے  کاموں کو پورا کر کے  آرام فرمایا۔ (۱۱)پس آؤ ہم اس آرام میں داخل ہونے  کی کوشش کریں تاکہ ان کی طرح نافرمانی کر کے  کوئی شخص گر نہ پڑے۔ (۱۲) کیونکہ پروردگار کا کلام زندہ اور موثر اور ایک دو دھاری تلوار سے  زیادہ تیز ہے  اور نفس اور روح اور بند بند اور گودے  کو جدا کر کے  گزر جاتا ہے  اور دل کے  خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے۔ (۱۳) اور اس سے  مخلوقات  کی کوئی چیز  چھپی نہیں بلکہ جس سے  ہم کو کام ہے  اس کی نظروں میں تمام چیزیں کھلی اور بے  پردہ ہیں۔
سیدنا عیسی ٰ مسیح امامِ اعظم
        (۱۴) پس جب ہمارے  ایک ایسے  بڑے  امامِ اعظم ہیں جو آسمانوں سے  گزر گئے  یعنی ا للہ و تبارک  تعالیٰ کے  محبوب سیدنا عیسیٰ تو آؤ ہم اپنے  اقرار پر قائم رہیں۔ (۱۵) کیونکہ ہمارا ایسا امامِ اعظم نہیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے  بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمائے  گئے  تو بھی بے  گناہ رہے۔ (۱۶) پس آؤ ہم مہربانی کے  تخت کے  پاس دلیری سے  چلیں تاکہ ہم پر رحم ہو اور وہ مہربانی حاصل کریں جو ضرورت کے  وقت ہماری مدد کرے۔


رکوع ۵


        (۱)کیونکہ ہر امامِ اعظم آدمیوں میں سے  منتخب ہو کر آدمیوں ہی کے  لئے  ان باتوں کے  واسطے  مقرر کیا جاتا ہے  جو پروردگار سے  تعلق رکھتی ہیں تاکہ منتیں اور گناہوں کی قربانیاں پیش کرے۔ (۲) اور وہ نادانوں اور گمراہوں سے  نرمی کے  ساتھ پیش آنے  کے  قابل ہوتا ہے  اس لئے  کہ وہ خود بھی کمزوری میں مبتلا رہتا ہے۔ (۳) اور اسی سبب سے اس پر فرض ہے  کہ گناہوں کی قربانی جس طرح امت کی طرف سے  پیش کرے  اسی طرح اپنی طرف سے  بھی چڑھائے۔ (۴)اور کوئی شخص اپنے  آپ یہ عزت اختیار نہیں کرتا جب تک حضرت ہارونؑ  کی طرح پروردگار کی طرف سے  بلایا نہ جائے۔ (۵) اسی طرح سیدنا عیسیٰ نے  بھی امامِ اعظم ہونے  کی بزرگی اپنے  تئیں نہیں دی بلکہ پروردگار نے  دی جس نے  آپ سے  فرمایا تھا کہ
        تم میرے  محبوب ہو۔
        آج تم مجھ سے  زائیدہ ہوئے۔
(۶)چنانچہ پروردگارِ عالم دوسرے  مقام پر ارشاد فرماتے  ہیں کہ
        تم ملکِ صدق کے  طور پر
        ابد تک امام ہو۔
(۷)آپ نے  اپنی بشریت کے  دنوں میں زور زور سے  پکار کر اور آنسو آنسو بہا بہا کر پروردگار سے  دعائیں اور التجائیں کیں جو آپ کو موت سے  بچا سکتا تھا اور خدا ترسی کے  سبب سے  آ پ کی سنی گئی۔ (۸)اور باوجود ازلی محبوب ہونے  کے  آپ نے  دکھ اٹھا اٹھا کر فرمانبرداری سیکھی۔ (۹) اور کامل بن کر اپنے  سب فرمانبرداروں کے  لئے  ابدی نجات کا باعث ہوئے۔ (۱۰) اور آپ کو پروردگار کی طرف سے  ملکِ صدق کے  طور پر امامِ اعظم کا خطاب ملا۔


ایمان سے  انحراف کے  خلاف انتباہ
        (۱۱)آپ کے  بارے  میں ہمیں بہت سی باتیں کہنا ہے  جن کا سمجھانا مشکل ہے  اس لئے  کہ تم اونچا سننے  لگے  ہو۔ (۱۲)وقت کے  خیال سے  تو تمہیں استاد ہونا چاہیے  تھا مگر اب اس بات کی حاجت ہے  کہ کوئی شخص پروردگارِ عالم کے  کلام کے  ابتدائی اصول تمہیں پھر سکھائے  اور سخت ِ غذا کی جگہ تمہیں دودھ پینے  کی حاجت پڑ گئی۔ (۱۳) کیوں کہ دودھ پیتے  ہوئے کو سچائی کے  کلام کا تجربہ نہیں ہوتا اس لئے  کہ وہ بچہ ہے۔ (۱۴)اور سخت غذا پوری عمر والے  کے  لئے  ہوتی ہے  جن کے  حواس کام کرتے  کرتے  نیک و بد میں امتیاز کرنے  کے  لئے تیز ہو گئے  ہیں۔


رکوع ۶


پس آؤ سیدنا عیسیٰ مسیح کی تعلیم کی ابتدائی باتیں چھوڑ کر کمال کی طرف قدم بڑھائیں اور مردہ کاموں سے توبہ کرنے  اور پروردگار پر ایمان لانے  کی۔ (۲)اور اصطباغ اور ہاتھ رکھنے  اور مردوں کے  جی اٹھنے  اور غیر فانی عدالت  کی تعلیم کی بنیاد دوبارہ نہ ڈالیں۔ (۳) اور رب العالمین چاہے  تو ہم یہی کریں گے۔ (۴) کیونکہ  جن لوگوں کے  دل ایک بار روشن ہو گئے  اور وہ آسمانی مہربانی کا مزہ چکھ چکے  اور روحِ الٰہی میں شریک ہو گئے۔ (۵)اور پروردگار کے  عمدہ کلام اور آئندہ جہان کی قوتوں کا ذائقہ لے  چکے۔ (۶) اگر وہ سرکش ہو جائیں تو انہیں  توبہ کے  لئے پھر نیا بنانا نا ممکن ہے  اس لئے  کہ وہ پروردگار کے  ازلی محبوب کو اپنی طرف سے  دوبارہ مصلوب کر کے  علانیہ ذلیل کرتے  ہیں۔ (۷)کیونکہ جو زمین اس بارش کا پانی پی لیتی ہے  جو اس پر بار بار ہوتی ہے  اور ان کے  لئے کار آمد سبزی پیدا کرتی ہے  جن کی طرف سے  اس کی کاشت بھی ہوتی ہے  وہ رب العالمین کی طرف سے  برکت پاتی ہے۔ (۸)اور اگر جھاڑیاں اور اونٹ کٹارے  اگاتی ہے  تو نا مقبول اور قریب ہے  کہ لعنتی ہو اور اس کا انجام جلایا جانا ہے۔
        (۹)لیکن اے  عزیزو! اگر چہ ہم یہ باتیں کہتے  ہیں تو بھی تمہاری نسبت  ان سے  بہتر اور نجات والی باتوں کا یقین کرتے  ہیں۔ (۱۰) اس لئے  کہ اللہ و تبارک تعالیٰ بے  انصاف نہیں جو تمہارے  کام اور اس محبت کو بھول جائے  جو تم نے  ا س کے  نام کے  واسطے  اس طرح ظاہر کی کہ پارساؤں کی خدمت کی اور کر رہے  ہو۔ (۱۱) اور ہم اس بات کے  آرزومند ہیں تاکہ تم میں سے  ہر شخص پوری امید کے  واسطے  آخر تک اسی طرح کوشش ظاہر کرتا ہے۔ (۱۲) تاکہ تم سست نہ ہو جاؤ بلکہ ان کی مانند بنو جو ایمان اور تحمل کے  باعث وعدوں کے  وارث ہوتے  ہیں۔
پروردگارِ عالم کا معتبرہ وعدہ
        (۱۳)چنانچہ جب پروردگار نے  حضرت ابراہیمؑ  سے  وعدہ کرتے  وقت قسم کھانے  کے  واسطے  کسی کو اپنے  سے  بڑا نہ پایا تو اپنی ہی قسم کھا کر۔ (۱۴) فرمایا کہ یقیناً  میں تمہیں برکات پر برکات عطا کروں گا اور تمہاری اولاد کو بہت بڑھاؤں گا۔ (۱۵) اور اس طرح صبر کر کے  انہوں نے  وعدہ کی ہوئی چیز کو حاصل کیا۔ (۱۶) آدمی تو اپنے  سے  بڑے  کی قسم کھایا کرتے  ہیں اور ان کے  ہر قضیہ کا آخری ثبوت قسم سے  ہوتا ہے۔ (۱۷) اس لئے  جب پروردگار نے  چاہا کہ  وعدہ کے  وارثوں پر اور بھی صاف طور سے  ظاہر کرے  کہ میرا ارادہ بدل نہیں سکتا تو قسم کو درمیان میں لائے۔ (۱۸)تاکہ  دو بے  تبدیل چیزوں کے  باعث  جن کے  بارے  میں  پروردگار کا جھوٹ بولنا ممکن نہیں ہماری پختہ  طور سے  دلجمعی ہو جائے  جو پناہ لینے  کو اس لئے  دوڑے  ہیں کہ اس امید کو جو سامنے  رکھی ہوئی ہے  قبضہ میں لائیں۔ (۱۹) وہ ہماری جان کا ایسا لنگر ہے  جو ثابت اور قائم رہتا ہے  اور پردہ کے  اندر تک بھی پہنچتا ہے۔ (۲۰)جہاں سیدنا عیسیٰ مسیح ہمیشہ کے  لئے  ملکِ صدق کے  طور پر امامِ اعظم بن کر ہماری خاطر پیشرو کے  طور پر داخل ہوئے  ہیں۔


رکوع ۷: فضیلت امامتِ ملکِ صدق


        (۱) کیونکہ  ملکِ صدق شاہ شالیم پروردگار کے  امام ہمیشہ امام رہتے  ہیں۔ جب حضرت ابراہیم ؑ  بادشاہوں کو قتل کر کے  واپس آرہے  تھے  تو اسی نے  ان کا استقبال کیا اور آپ کے  لئے  برکت چاہی۔ (۲)انہیں کو حضرت ابراہیمؑ  نے  عشر ادا کیا۔ یہ اول تو اپنے  نام کے  معنی کے  موافق سچائی کا بادشاہ ہیں اور پھر شالیم یعنی صلح کا بادشاہ۔ (۳)آپ بے  پدر اور بے  ماں اور بے  شجرہ نسب ہیں۔ نہ آپ کی عمر کا شروع نہ زندگی کا آخر بلکہ پروردگار کے  ازلی محبوب کے  مشابہ ٹھہرے۔
        (۴) پس غور کرو کہ یہ کیسے  بزرگ تھے  جن کا قوم کے  بزرگ حضرت ابراہیم ؑ  نے  لوٹ کے  عمدہ سے  عمدہ مال کا عشر دیا۔ (۵)اب لاوی کی اولاد میں سے  جو امامت کا عہدہ پاتے  ہیں ان کو حکم ہے  کہ امت یعنی اپنے  بھائیوں سے  اگر چہ وہ حضرت ابراہیم ہی کی صلب سے  پیدا ہوئے  ہوں شریعت کے  مطابق  عُشر لیں۔ (۶)مگر جس کا شجرہ نسب ان سے  جدا ہے  اس نے  حضرت ابراہیم ؑ  سے  عُشر لیا اور جن سے  وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کے  لئے  برکت چاہی۔ (۷) اور اس میں کلام نہیں کہ  چھوٹا بڑے  سے  برکت پاتا ہے۔ (۸)اور یہاں  تو مرنے  والے  آدمی عُشر لیتے  ہیں مگر وہاں وہی لیتا ہے  جس کے  مطابق شہادت دی جاتی ہے  کہ زندہ ہے۔ (۹)پس ہم کہہ سکتے  ہیں کہ لاوی نے  بھی جو عُشر لیتا ہے  حضرت ابراہیم ؑ  کے  ذریعہ  سے  عُشر دیا۔ (۱۰) اس لئے  کہ جس وقت  ملکِ صدق نے  حضرت ابراہیم ؑ  کا استقبال کیا تھا وہ اس وقت تک اپنے  والد کی صلب میں تھے۔
        (۱۱)پس اگر نبی لاوی کی امامت سے  کاملیت حاصل ہوتی (کیونکہ اسی کی ماتحتی  میں امت کو شریعت  ملی تھی) تو پھر کیا حاجت تھی کہ دوسرا امام ملکِ صدق کے  طور پر پیدا ہوا اور حضرت  ہارون ؑ  کے  طریقہ کا نہ گنا جائے۔ (۱۲)اور جب امامت بدل گئی تو شریعت کا بھی بدلنا ضرور ہے۔
        (۱۳) کیوں کہ جس کی بابت یہ باتیں کہی جاتی ہیں کہ وہ دوسرے  قبیلہ میں شامل ہے  جس میں سے  کسی نے  قربان گاہ کی خدمت نہیں کی۔ (۱۴) چنانچہ ظاہر ہے  کہ  ہمارے  مولا یہوداہ کے  قبیلہ میں پیدا ہوئے  اور اس فرقہ کے  حق میں حضرت موسیٰؑ  نے  امامت کا کچھ ذکر نہیں کیا۔
ملکِ صدق کی مانند ایک اور امام
(۱۵)اور جب ملک صدق  کی مانند ایک اور ایسے  امام پیدا ہونے  والے  تھے۔ (۱۶) جو جسمانی احکام کی شریعت کے  موافق نہیں بلکہ غیر فانی زندگی کی قوت کے  مطابق مقرر ہوئے  تو ہمارا دعویٰ اور بھی صاف ظاہر ہو گیا۔
(۱۷)کیونکہ آپ کے  حق میں یہ شہادت دی گئ ہے  کہ
        آپ ملکِ صد ق کے  طور پر ابد تک امام ہیں۔
(۱۸) غرض پہلا حکم کمزور اور بے  فائدہ ہونے  کے  سبب سے  منسوخ ہو گیا۔ (۱۹)(کیوں کہ شریعت نے  کسی چیز  کو کامل نہیں کیا)اور اس کی جگہ ایک بہتر امید رکھی گئی جس کے  وسیلہ سے  ہم پروردگار کے  نزدیک جا سکتے  ہیں۔ (۲۰) اور چونکہ سیدنا مسیح کا تقرر بغیر جسم کے  نہ ہوا۔ (۲۱)( کیونکہ آپ تو بغیر قسم کے  امام مقرر ہوئے  ہیں مگر یہ قسم کے  ساتھ آپ کی طرف سے  ہوا جس نے  آپ کی بابت فرمایا کہ
        پروردگار نے  قسم کھائی ہے  اور اس سے  پھریں گے  نہیں کہ آپ ابد تک امام ہیں۔ )۔
(۲۲)اس لئے  سیدنا عیسی ٰ مسیح ایک بہتر عہد کے  ضامن ٹھہرے۔ (۲۳) اور چونکہ موت کے  سبب سے  قائم نہ رہ سکتے  تھے  اس لئے  تو بہت سے  امام مقرر ہوئے۔ (۲۴) مگر چونکہ آپ ابد تک قائم رہنے  والے  ہیں اس لئے  آپ کی امامت لازوال ہے۔ (۲۵) اسی لئے جو آپ کے  وسیلہ سے  پروردگارِ عالم کے  پاس آتے  ہیں آپ انہیں پوری پوری نجات دے  سکتے  ہیں کیوں کہ آپ ان کی شفاعت کے  لئے  ہمیشہ زندہ ہیں۔
        (۲۶)چنانچہ ایسے  ہی امامِ اعظم ہمارے  لائق تھے  جو پاک اور بے  ریا اور بے  داغ اور گنہگاروں سے  جدا اور آسمانوں سے  بلند کئے  گئے  ہوں۔ (۲۷) اور ان امامِ اعظموں کی مانند اس کے  محتاج نہ ہو کہ ہر روز پہلے  اپنے  گناہوں اور پھر امت  کے  گناہوں کے  واسطے  قربانیاں چڑھائے  کیونکہ آپ ایک ہی بار گزرے  جس وقت اپنے  آپ کو قربان کیا۔ (۲۸) اس لئے  کہ شریعت تو کمزور آدمیوں کو امام اعظم مقرر کرتی ہے  مگر اس قسم کا کلام جو شریعت  کے  بعد کھائی گئی اس ازلی محبوب کو مقرر کرتا ہے  جو ہمیشہ کے  لئے  کامل کیے  گئے  ہوں۔


رکوع ۸: سیدنا عیسی ٰ مسیح ہمارے  امامِ اعظم


        (۱) اب جو باتیں ہم کہہ رہے  ہیں ان میں سے  بڑی بات یہ ہے  کہ  ہمارے  ایسے  امام اعظم ہیں جو آسمانوں  پر کبریا کے  تخت کی دہنی طرف جا بیٹھے۔ (۲) اور مقدِس اور اس حقیقی خیمہ کے  خادم ہیں جسے  پروردگار نے  کھڑا کیا ہے  نہ کہ انسان نے۔ (۳)اور چونکہ ہر امامِ اعظم منتیں اور قربانیاں پیش کرنے  کے  واسطے  مقرر ہوتے  ہیں اس لئے  ضرور ہوا کہ آپ کے  پاس بھی پیش کرنے کو کچھ ہو۔ (۴) اور اگر آپ زمین پر ہوتے  تو ہر گز امام نہ ہوتے  اس لئے  کہ شریعت کے  موافق  منت پیش  والے  موجود ہوتے  ہیں۔ (۵) جو آسمانی چیزوں کی نقل اور عکس کی خدمت کرتے  ہیں چنانچہ جب حضرت موسیٰؑ  خیمہ بنانے  کو تھے  تو آپ کو یہ ہدایت ہوئی کہ  دیکھو! جو نمونہ تمہیں پہاڑ پر دکھا یا گیا تھا اسی کے  مطابق سب چیزیں بنانا۔ (۶) مگر اب آپ نے  اس قدر بہتر خدمت پائی جس قدر آپ بہتر عہد کے  درمیانی ٹھہرے  جو بہتر وعدوں کی بنیاد پر قائم کئے  گئے  ہیں۔ (۷) کیونکہ اگر پہلا عہد بے  نقص ہوتا تو دوسرے  کے  لئے  موقع نہ ڈھونڈا جاتا۔ (۸) پس آپ ان کے  نقص بتا کر فرماتے  ہیں کہ
        پروردگار فرماتے  ہیں کہ دیکھو! وہ دن آتے  ہیں
        کہ میں اسرائیل کے  گھرانے  اور یہوداہ کے  گھرانے  سے  ایک نیا عہد باندھوں گا۔
        (۹)یہ اس عہد کی مانند نہ ہو گا جو میں نے  ان کے  باپ دادا سے  اس دن باندھا تھا
        جب ملکِ مصر سے  نکال لانے  کے  لئے  ان کا ہاتھ پکڑا تھا۔ اس واسطے  کہ وہ میرے  عہد پر قائم نہیں رہے 
        اور پروردگار فرماتے  ہیں کہ میں نے  ان کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔
        (۱۰)پھر پروردگار فرماتے  ہیں کہ  جو عہد اسرائیل کے  گھرانے  سے  ان دنوں کے  بعد باندھوں گا وہ یہ ہے  کہ  میں اپنے  قانون ان کے  ذہن میں ڈالوں گا
اور ان کے  دلوں پر لکھوں گا اور میں ان کا پروردگار ہوں گا اور وہ میری امت ہوں گے۔
(۱۱) اور ہر شخص اپنے  ہم وطن اور اپنے  بھائی کو یہ تعلیم نہ دے  گا کہ تم پروردگار کو پہچانو کیونکہ چھوٹے  سے  بڑے  تک سب مجھے  جان لیں گے۔
(۱۲)اس لئے  کہ میں ان کے  کج پن پر رحم کروں گا
اور ان کے  گناہوں کو پھر کبھی یاد نہ کروں گا۔
(۱۳) جب پروردگار نے  نیا عہد کہا تو پہلے  کو پرانا ٹھہرایا اور جو چیز  پرانی اور مدت کی ہو جاتی ہے  وہ مٹنے  کی قریب ہوتی ہے۔


رکوع ۹: فضیلتِ قربانِ سیدنا عیسیٰ مسیح


        (۱)غرض پہلے  عہد میں بھی عبادت کے  احکام تھے  اور ایسا مقدِس جو دنیوی تھا۔ (۲)یعنی ایک خیمہ بنایا گیا تھا۔ اگلے  میں چراغ دان اور میز اور منت کی روٹیاں تھیں اور اسے  پاک مکان کہتے  ہیں۔ (۳) اور دوسرے  پردہ کے  پیچھے  وہ خیمہ تھا جسے  پاک ترین کہتے  ہیں۔ (۴) اس میں سونے  کا عود سوز اور چاروں طرف سونے  سے  منڈھا ہوا عہد کا صندوق تھا۔ اس میں من سے  بھرا ہوا ایک سونے  کا مرتبان اور پھولا پھلا ہوا حضرت ہارونؑ  کا عصا اور احکام عشرہ تھے۔ (۵)اور اس کے  اوپر بزرگی کے  کروبی تھے  جو کفارہ گاہ پر سایہ کرتے  تھے۔ ان باتوں کے  مفصل بیان کرنے  کا یہ موقع نہیں۔ (۶) جب یہ چیزیں  اس طرح بن چکیں تو پہلے  خیمہ میں تو امام ہر وقت داخل ہوتے  اور عبادت کا کام انجام دیتے  ہیں۔ (۷)مگر دوسرے  میں صرف امامِ اعظم ہی سال میں ایک بار تشریف لے  جاتے  ہیں اور بغیر خون کے  نہیں جاتے  جسے  اپنے  واسطے  اور امت کی بھول چوک کے  واسطے  پیش کرتے ہیں۔ (۸)اس سے  روح الٰہی کا یہ اشارہ ہے  کہ جب تک پہلا خیمہ کھڑا ہے  پاک مکان کی راہ ظاہر نہیں ہوئی۔ (۹)وہ خیمہ موجودہ زمانہ کے  لئے  ایک مثال ہے  اور اس کے  مطابق  ایسی منتیں اور قربانیاں پیش کی جاتی تھیں جو عبادت کرنے  والے  کو دل کے  اعتبار سے  کامل نہیں کر سکتیں۔ (۱۰) اس لئے  کہ  وہ صرف کھانے  پینے  اور طرح طرح  کے  وضو کی بنا پر جسمانی احکام ہیں جو اصلاح کے  وقت مقرر کئے  گئے  ہیں۔
        (۱۱)لیکن جب سیدنا عیسیٰ مسیح آئندہ کی اچھی چیزوں کے  امامِ اعظم ہو کر آئے  ہیں تو اس بزرگ تر اور کامل تر خیمہ کی راہ سے جو ہاتھوں کا بنا ہوا یعنی اس دنیا کا نہیں۔ (۱۲) اور بکروں اور بچھڑوں کا خون لے  کر نہیں بلکہ اپنا ہی خون لے  کر بیت اللہ میں ایک ہی بار تشریف لے  گئے  اور غیر فانی چھٹکارا کرایا۔ کیونکہ جب بکروں اور بیلوں کے  خون اور گائے  کی راکھ ناپاکوں پر چھڑکے  جانے  سے  ظاہری پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ (۱۴) تو سیدنا مسیح کا خون جنہوں نے  اپنے  آپ کو ازلی روح الٰہی کے  وسیلہ سے  پروردگار کے  سامنے  بے  عیب قربان کر دیا تمہارے  دلوں کو مردہ کاموں سے  کیوں نہ پاک کریں گے  تاکہ زندہ پروردگار کی عبادت کریں۔ (۱۵) اور اسی سبب سے  دو نئے  عہد کا درمیانی ہیں تاکہ  اس موت کے  وسیلہ سے  جو پہلے  عہد کے  وقت قصوروں کی معافی کے  لئے ہوئی ہے  بلائے  ہوئے  لوگ وعدہ کے  مطابق غیر فانی میراث حاصل کریں۔ (۱۶) کیونکہ جہاں وصیت ہے  وہاں وصیت کرنے  والے  کی موت بھی ثابت ہونا ضرور ہے۔ (۱۷) اس لئے  کہ وصیت موت کے  بعد ہی جاری ہوتی ہے  اور جب تک وصیت کرنے  ولا زندہ رہتا ہے  اس کا اجرا نہیں ہوتا۔ (۱۸) اسی لئے  پہلا عہد بھی بغیر  خون کے  نہیں باندھا گیا۔ (۱۹) چنانچہ جب حضرت موسیٰؑ  تمام امت کو شریعت کا ہر ایک حکم فرما چکے  تو بچھڑوں اور بکروں کا خون لے  کر پانی اور لال اُون اور زوفا کے  ساتھ توریت شریف اور تمام امت پر چھڑک دیا۔ (۲۰) اور فرمایا کہ اس عہد کا خون ہے  جس کا حکم پروردگارِ عالم نے  تمہارے  لئے  دیا ہے۔ (۲۱) اور اسی طرح انہوں نے  خیمہ اور عبادت کی تمام چیزوں پر خون چھڑکا۔ (۲۲) اور تقریباً  سب چیزیں  شریعت کے  مطابق خون سے  پاک کی جاتی ہیں اور بغیر خون بہائے  معافی نہیں ہوتی۔
سیدنا عیسیٰ مسیح کی قربانی گناہ معاف کرتی ہے 
        (۲۳)پس ضرور تھا کہ آسمانی چیزوں کی نقلیں  تو ان کے  وسیلہ سے  پاک کی جائیں مگر خود آسمانی چیزیں ان سے  بہتر قربانیوں  کے  وسیلہ سے۔ (۲۴) کیونکہ سیدنا عیسیٰ مسیح اس ہاتھ کے  بنائے  ہوئے  پاک مکان  میں داخل نہیں ہوئے  جو حقیقی پاک مکان کا نمونہ ہے  بلکہ آسمان ہی میں داخل ہوئے  تاکہ اب پروردگار کے  روبرو ہماری خاطر حاضر ہوں۔ (۲۵) یہ نہیں کہ  وہ اپنے  آپ کو بار بار قربان کریں جس طرح امامِ اعظم ہر سال بیت اللہ میں خون لے  کر جاتا ہے۔ (۲۶) ورنہ بنائے عالم سے  لے  کر آپ کو بار بار دکھ اٹھانا ضرور ہوتا مگر اب زمانوں کے  آخر میں ایک بار ظاہر ہوئے  تاکہ اپنے  آپ کو قربان کرنے  سے  گناہ کو مٹا دیں۔ (۲۷) اور جس طرح آدمیوں کے  لئے  ایک بار مرنا اور اس کے  بعد عدالت کا ہونا مقرر ہے۔ (۲۸) اسی طرح سیدنا عیسی ٰ مسیح بھی ایک بار بہت لوگوں کے  گناہ اٹھانے  کے  لئے  قربان ہو کر دوسری بار بغیر گناہ کے  نجات کے  لئے  ان کو دکھائی دیں گے  جو آپ کی راہ دیکھتے  ہیں۔


رکوع ۱۰


        (۱)کیونکہ شریعت جس میں آئندہ کی اچھی چیزوں کا عکس ہے  اور ان چیزوں کی اصلی صورت نہیں ان ایک ہی طرح کی قربانیوں سے  جو ہر سال بلا ناغہ پیش کی جاتی ہیں پاس آنے  والوں کو ہرگز کامل نہیں کر سکتی۔ (۲) ورنہ ان کا پیش کرنا موقوف نہ ہو جاتا؟ کیونکہ جب عبادت کرنے  والے  ایک بار پاک ہو جاتے  تو پھر ان کا دل انہیں گنہگار نہ ٹھہراتا۔ (۳) بلکہ وہ قربانیاں سال بہ سال گناہوں کو یاد دلاتی ہیں۔ (۴) کیونکہ ممکن نہیں کہ  بیلوں اور بکروں کا خون گناہوں کو دور کرے۔ اسی لئے  آپ دنیا میں تشریف لاتے  وقت فرماتے  ہیں کہ
        پروردگارِ عالم نے  قربانی اور منت کو پسند نہ کیا۔ بلکہ میرے  لئے  ایک بدن تیار کیا۔
        (۶)پوری سوختنی قربانیوں اور گناہ کی قربانیوں سے  آپ خوش نہ ہوئے۔
        (۷)اس وقت میں نے  کہا کہ دیکھو! میں آیا ہوں
        (کتاب مقدس کے  ورقوں میں میری نسبت لکھا ہوا ہے ) تاکہ اے  پروردگار آپ کی رضا پوری کروں۔
(۸)اوپر تو وہ فرماتے  ہیں کہ نہ آپ نے  قربانیوں اور منتوں اور پوری سوختنی قربانیوں اور گناہ کی قربانیوں کو پسند کیا اور نہ ان سے  خوش ہوئے  حالانکہ وہ قربانیاں شریعت کے  موافق پیش کی جاتی ہیں۔ (۹)اور پھر یہ فرماتے  ہیں کہ دیکھو میں آیا ہوں تاکہ رضائے  الٰہی پوری کروں۔ غرض وہ پہلے  کو موقوف کرتے  ہیں تاکہ دوسرے  کو قائم کریں۔ (۱۰)اسی مرضی کے  سبب سے  ہم سیدنا عیسی ٰ مسیح کے  جسمِ مبارک کے  ایک ہی بار قربان ہونے  کے  وسیلہ سے  پاک کئے  گئے  ہیں۔ (۱۱)اور ہر ایک امام تو کھڑا ہو کر  ہر روز عبادت کرتا ہے  اور ایک ہی طرح کی قربانیاں بار بار پیش کرتا ہے  جو ہر گز گناہوں کو دور نہیں کر سکتیں۔ (۱۲)لیکن سیدنا عیسیٰ مسیح ہمیشہ کے  لئے گناہوں کے  واسطے  ایک ہی قربانی پیش کر کے پروردگارِ عالم کی دہنی طرف جا بیٹھیں۔ (۱۲)اور اسی وقت سے  منتظر ہیں کہ آپ کے  دشمن آپ کے  پاؤں تلے  کی چوکی بنیں۔ (۱۴)کیونکہ آپ نے  ایک ہی قربانی چڑھانے  سے  ان کو ہمیشہ کے  لئے  کامل کر دیا ہے  جو پاک کئے  جاتے  ہیں۔ (۱۵)اور روحِ الٰہی بھی ہم کو یہی فرماتے  ہیں کیونکہ یہ کہنے  کے  بعد کہ
        (۱۶)پروردگارِ عالم فرماتے  ہیں جو عہد میں ان دنوں کے  بعد ان سے  باندھوں گا وہ یہ ہے  کہ
        میں اپنے  قانون ان کے  دلوں پر لکھوں گا
        اور ان کے  ذہن میں ڈالوں گا
(۱۷)پھر وہ یہ فرماتے  ہیں کہ
        ان کے  گناہوں اور بے  دینیوں کو پھر کبھی یاد نہ کروں گا۔
(۱۸)اور جب ان کی معافی ہو گئی ہے  تو پھر گناہ کی قربانی نہیں رہی۔
نصیحتِ وفاداری
        (۱۹)پس اے  بھائیو! چونکہ ہمیں سیدنا عیسیٰ مسیح کے  خون کے  سبب سے  اس نئی اور زندہ راہ سے  پاک مکان میں داخل ہونے  کی دلیری ہے۔ (۲۰)جو آپ نے  پردہ یعنی اپنے  جسمِ مبارک میں سے  ہو کر ہمارے  لئے  نامزد کی ہے۔ (۲۱) اور چونکہ ہمارے  ایسے  بڑے  امام ہیں جو اللہ و تبارک تعالیٰ کے  گھر کے  مختار ہیں۔ (۲۲)تو آؤ ہم سچے  دل اور پورے  ایمان کے  ساتھ اور دل کے  الزام کو دور کرنے  کے  لئے دلوں پر چھینٹے  لے  کر اور بدن کو صاف پانی سے  دھلوا کر رب العالمین کے  پاس چلیں۔ (۲۳)اور اپنی امید کے  اقرار کو مضبوطی سے  تھامے  رہیں کیونکہ جس نے  وعدہ کیا ہے  وہ سچا ہے۔ (۲۴)اور محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے  کے  لئے ایک دوسرے  کا لحاظ رکھیں۔ (۲۵)اور ایک دوسرے  کے  ساتھ جمع ہونے  سے  باز نہ آئیں جیسا بعض لوگوں کا دستور ہے  بلکہ ایک دوسرے  کو نصیحت کریں اور جس قدر اس دن کو نزدیک ہوتے  ہوئے  دیکھتے  ہو اسی قدر زیادہ کیا کرو۔
        (۲۶)کیونکہ حق کی پہچان حاصل کرنے  کے  بعد اگر ہم جان بوجھ کر گناہ کریں تو گناہوں کی کوئی اور قربانی باقی نہیں رہی۔ (۲۷)ہاں عدالت کا ایک ہولناک انتظار اور غضب ناک آتش باقی ہے  جو مخالفین کو کھا لے  گی۔ (۲۸)جب حضرت موسیٰؑ  کی شریعت کا نہ ماننے  والا دو یا تین شخصوں کی گواہی سے  بغیر رحم کئے  مارا جاتا ہے۔ (۲۹)تو خیال کرو کہ وہ شخص کس قدر زیادہ سزا کے  لائق ٹھہرے  گا جس نے  پروردگارِ عالم کے  ازلی محبوب کو پامال کر دیا اور عہد کے  خون کو جس سے  وہ پاک ہوا تھا ناپاک جانا اور مہربانی کے  روح کو بے  عزت کیا۔ (۳۰)کیونکہ اسے  ہم جانتے  ہیں کہ جس نے  فرمایا کہ انتقام لینا میرا کام ہے۔ بدلہ میں ہی دوں گا اور پھر یہ کہ پروردگار اپنی امت کی عدالت کریں گے۔ (۳۱) زندہ رب کے  ہاتھوں میں پڑنا ہولناک بات ہے۔
        (۳۲)لیکن ان پہلے  دنوں کو یاد کرو کہ تم نے  منور ہونے  کے  بعد دکھوں کی بڑی لڑائی کی برداشت کی۔ (۳۳)کچھ تو یوں کہ لعن طعن اور مصیبتوں کے  باعث تمہارا تماشہ بنا اور کچھ یوں کہ تم ان کے  شریک ہوئے  جن کے  ساتھ یہ بدسلوکی ہوتی تھی۔ (۳۴) چنانچہ تم نے  قیدیوں کی ہمدردی کی اور اپنے  مال کا لٹ جانا بھی خوشی سے  منظور کیا۔ یہ جان کر کے  تمہارے  پاس ایک بہتر اور دائمی ملکیت ہے۔
(۳۵)پس اپنا پختہ اعتبار ہاتھ سے  نہ جانے  دو۔ اس لئے  کہ اس کا بڑا اجر ہے۔ (۳۶) کیونکہ تمہیں صبر کرنا ضرور ہے  تاکہ رضائے  الٰہی پوری کر کے  وعدہ کی ہوئی چیز حاصل کرو۔
        (۳۷)اور اب بہت ہی تھوڑی مدت باقی ہے  کہ آنے  والا آئے  گا اور دیر نہ کرے  گا۔
        (۳۸)اور میرا سچا بندہ ایمان سے  جیتا رہے  گا۔  اگر وہ ہٹے  کا تو میرا دل اس سے  خوش نہ ہو گا۔
(۳۹)لیکن ہم ہٹنے  والے  نہیں کہ ہلاک ہوں بلکہ ایمان رکھنے  والے  ہیں کہ جان بچائیں۔


رکوع ۱۱:ایمانِ متقدّمین


        (۱)اب ایمان، امید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اَن دیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔ (۲)کیونکہ اسی کے  سبب سے  متقدمین کے  حق میں اچھی شہادت دی گئی۔ ایمان ہی سے  معلوم کرتے  ہیں کہ عالم رب العالمین کے  کہنے  سے  بنے  ہیں۔ یہ نہیں کہ جو کچھ نظر آتا ہے ظاہری چیزوں سے  بنا ہو۔ (۴)ایمان ہی سے  حضرت باہل نے  حضرت قائن سے  افضل قربانی پروردگار کے  لئے  پیش کی اور اسی کے  سبب سے  ان کے  سچا ہونے  کی شہادت دی گئی کیونکہ پروردگار نے  ان کی منت کی بابت  شہادت دی اور اگرچہ وہ مر گئے  تو بھی انہیں کے  وسیلہ سے  اب تک کلام کرتے  ہیں۔ (۵)ایمان ہی سے  حضرت حنوکؑ  اٹھا لئے  گئے  تاکہ موت کو نہ دیکھیں اور چونکہ رب العالمین نے  انہیں اٹھا لیا تھا اس لئے  ان کا پتہ نہ ملا کیونکہ اٹھائے  جانے  سے  پیشتر ان کے  حق میں یہ شہادت دی گئی تھی کہ یہ پروردگار کو پسند آیا ہے۔ (۶)اور بغیر ایمان کے  اس کو پسند آنا نا ممکن ہے۔ اس لئے  کہ پروردگار کے  پاس آنے  والے  کو ایمان لا نا چاہیے  کہ وہ موجود ہے  اور اپنے  طالبوں کو بدلہ دیتے  ہیں۔ (۷)ایمان ہی کے  سبب سے  حضرت نوح ؑ  نے  ان چیزوں کی بابت جو اس وقت تک نظر نہ آتی تھیں ہدایت پا کر پروردگار کے  خوف سے  اپنے  گھرانے  کے  بچاؤ کے  لئے  کشتی بنائی جس سے  اس نے  دنیا کو مجرم ٹھہرایا اور اس سچائی کے  وارث ہوئے  جو ایمان سے  ہے۔ (۸)ایمان ہی کے  سبب سے  حضرت ابراہیم ؑ  جب بلائے  گئے  تو حکم مان کر اس جگہ ہجرت کر گئے  جسے  میراث میں لینے  والے  تھے  اور اگرچہ جانتے  نہ تھے  کہ میں کہاں جاتا ہوں تو بھی روانہ ہو گئے۔ (۹)ایمان ہی سے  انہوں نے  ملکِ موعود میں اس طرح مسافرانہ طور پر بود و باش کی کہ گویا غیر ملک ہے  اور اضحاق ؑ  اور یعقوبؑ  سمیت جو ان کے  ساتھ اسی وعدہ کے  وارث تھے  خیموں میں سکونت کی۔ (۱۰)کیونکہ آپ اس پائیدار شہر کے  امید وار تھے  جس کا معمار اور بنانے  والا پروردگار ہے۔ (۱۱)ایمان ہی سے  حضرت سارہؑ  نے  بھی سنِ یاس کے  بعد حاملہ ہونے  کی طاقت پائی اس لئے  کہ انہوں  نے  وعدہ کرنے  والے  کو سچا جانا۔ (۱۲)پس ایک شخص جو مردہ سا تھا آسمان کے  ستاروں کے  برابر کثیر اور سمندر کے  کنارے  کی ریت کے  برابر بے  شمار اولاد پیدا ہوئی۔
        (۱۳)یہ سب ایمان کی حالت میں مرے  اور وعدہ کی ہوئی چیزیں نہ پائیں مگر دور ہی سے  انہیں دیکھ کر خوش ہوئے  اور اقرار کیا کہ ہم زمین پر پردیسی اور مسافر ہیں۔ (۱۴)جو ایسی باتیں کہتے  ہیں وہ ظاہر کرتے  ہیں کہ ہم اپنے  وطن کی تلاش میں ہیں۔ (۱۵)اور جس ملک سے  وہ نکل آئے  تھے  اگر اس کا خیال کرتے  تو انہیں واپس جانے  کا موقع تھا۔ (۱۶)مگر حقیقت میں وہ ایک بہتر یعنی آسمانی ملک کے  مشتاق تھے۔ اسی لئے  پروردگار ان سے  یعنی ان کا رب کہلانے  سے  شرمائے  نہیں چنانچہ اس نے  ان کے  ایک شہر تیار کیا۔
        (۱۷)ایمان ہی سے  حضرت ابراہیم ؑ  نے  آزمائش کے  وقت حضرت اضحاق ؑ  کو قربانی کے  لئے  پیش کیا اور جن وعدوں کو سچ مان لیا تھا وہ اس اکلوتے  کو نذر کرنے  لگے۔ (۱۸) جس کی بابت یہ فرمایا گیا تھا کہ حضرت اضحاق ہی سے  تمہاری نسل کہلائے  گی۔ (۱۹)کیونکہ وہ سمجھے  کہ پروردگارِ عالم مردوں میں سے  جلانے  پر بھی قادر ہے  چنانچہ ان ہی میں سے  تمثیل کے  طور پر وہ انہیں پھر ملے۔ (۲۰) ایمان ہی سے  حضرت اضحاق نے  ہونے  والی باتوں کی بابت  بھی حضرت یعقوب اور حضرت عیسو دونوں کو دعا دی۔ (۲۱) ایمان ہی سے  حضرت یعقوب نے  مرتے  وقت  حضرت یوسف کے  دونوں بیٹوں میں سے  ہر ایک کو دعا دی اور اپنے  عصا کے  سرے  پر سہارا لے  کر سجدہ کیا۔ (۲۲)ایمان ہی سے  حضرت یوسف  نے  جب وہ مرنے  کے  قریب تھے  بنی اسرائیل کی ہجرت کا ذکر کیا اور اپنی ہڈیوں کی بابت حکم دیا۔ (۲۳)ایمان ہی سے  حضرت موسیٰؑ  کے  والد اور والدہ نے  آپ کے  پیدا ہونے  کے  بعد تین مہینے  تک آپ کو چھپائے  رکھا کیونکہ  انہوں نے دیکھا کہ بچہ خوب صورت ہے  اور وہ بادشاہ کے  حکم سے  نہ ڈرے۔ (۲۴)ایمان ہی سے  حضرت موسیٰ نے  بڑے  ہو کر فرعون کی بیٹی کا بیٹا کہلانے  سے  انکار کیا۔ (۲۵) اس لئے  کہ انہوں نے  گناہ کا چند روزہ لطف اٹھانے  کی نسبت پروردگار کی امت کے  ساتھ  بدسلوکی برداشت کرنا زیادہ پسند کیا۔ (۲۶)اور سیدنا مسیح کے لئے  رسوا ہونے  کو مصر کے  خزانوں سے  بڑی دولت جانا کیونکہ  ان کی نگاہ اجر پانے  پر تھی۔ (۲۷)ایمان ہی سے  انہوں نے  بادشاہ کے  قہر کا خوف نہ کر کے  مصر سے  ہجرت کی۔ اس لئے  کہ آپ ان کو دیکھیں کہ گویا دیکھ کر ثابت قدم رہیں۔ (۲۸)ایمان ہی سے  آپ نے  فسح کرنے  اور خون چھڑکنے  پر عمل کیا تاکہ پہلوٹھوں کا ہلاک کرنے  والا بنی اسرائیل کو ہاتھ نہ لگائے۔ (۲۹)ایمان ہی سے  وہ بحر قلزم سے  اس طرح گزر گئے  جیسے  خشک زمین پر سے  اور جب مصریوں نے  یہ قصد کیا تو ڈوب گئے۔ (۳۰)ایمان ہی سے یریحو کی شہر پناہ جب سات دن تک اس کے  گرد پھر چکے  تو گر پڑی۔ (۳۱) ایمان ہی سے  راحب فاحشہ نافرمانوں کے  ساتھ ہلاک نہ ہوئی کیونکہ اس نے  جاسوسوں کو امن سے  رکھا تھا۔ (۳۳)اب اور کیا کہوں؟ اتنی فرصت کہاں کہ جدعون اور برق اور سمسون اور افتادہ اور داؤد اور سموئیل اور ، اور انبیاء کا احوال بیان کروں؟(۳۴)انہوں نے  ایمان ہی کے  سبب سے  سلطنتوں کو مغلو ب کیا۔ سچائی کے  کام کئے۔ وعدہ کی ہوئی چیزوں کو حاصل کیا۔ شیروں کے  منہ بند کئے۔ آگ کی تیزی کو بجھایا۔ تلوار کی دھار سے  سے  بچ نکلے۔ کمزوری میں زور آور ہوئے۔ لڑائی میں بہادر بنے  مشرکین کی فوجوں کو بھگا دیا۔ (۳۵)عورتوں نے  اپنے  مردوں کو پھر زندہ پایا۔ بعض مار کھاتے  کھاتے مر گئے  مگر رہائی منظور نہ کی تاکہ ان کو بہتر قیامت نصیب ہو۔ (۳۶) بعض ٹھٹھوں میں اڑائے  جانے  اور کوڑے  کھانے  بلکہ زنجیروں میں باندھے  جانے  اور قید میں پڑنے  سے  آزمائے  گئے۔ (۳۷) سنگسار کئے  گئے۔ آرے  سے  چیرے  گئے  آزمائیش میں پڑے۔ تلوار سے  شہید کئے  گئے۔ بھیڑوں اور بکریوں کی کھال اوڑھے  ہوئے  محتاجی میں، مصیبت میں، بدسلوکی کی حالت میں مارے  مارے  پھرے۔ (۳۸)دنیا ان کے  لائق نہ تھی، وہ جنگلوں اور پہاڑوں اور غاروں اور زمین کے  گڑھوں میں آوارہ پھر ا کئے۔ (۳۹) اور اگرچہ  ان سب کے  حق میں ایمان کے  سبب سے  اچھی شہادت دی گئی تو بھی انہیں  وعدہ کی ہوئی چیز نہ ملی۔ (۴۰) اس لئے  رب العالمین  نے  پیش بینی کر کے  ہمارے  لئے  کوئی بہتر چیز تجویز کی تھی تاکہ وہ ہمارے  بغیر  کامل نہ کئے  جائیں۔


رکوع ۱۲: سیدنا عیسیٰ مسیح کا نمونہ


        (۱)پس جب کہ گواہوں کا ایسا بڑا بادل ہمیں گھیرے  ہوئے  ہے  تو آؤ ہم بھی ہر ایک  بوجھ اور اس گناہ کو جو ہمیں آسانی سے  الجھا لیتا ہے  دور کر کے  اس دوڑ میں صبر سے  دوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔ (۲)اور ایمان کے  بانی اور کامل کرنے  والے  سیدنا عیسیٰ مسیح کو تکتے  رہیں جنہوں نے  اس خوشی کے  لئے جو آپ کی نظروں کے  سامنے  تھی شرمندگی کی پروانہ کر کے  صلیب کا دکھ سہا اور پروردگار کے  تخت کی دہنی طرف جا بیٹھے۔ (۳)پس ان پر غور کرو جس نے  اپنے  حق میں برائی کرنے  والے  گنہگاروں کی اس قدر مخالفت کی برداشت کی تاکہ تم بے  دل ہو کر ہمت نہ ہارو۔ (۴) تم نے  گناہ سے  لڑنے  میں اب تک ایسا مقابلہ نہیں کیا جس میں خون بہا ہو۔ (۵)اور تم اس نصیحت  کو بھول گئے  جو تمہیں فرزندوں کی طرح کی جاتی ہے  کہ
        اے  میرے  بیٹے  ! پروردگار کی تنبیہ کو نا چیز نہ جانو اور جب وہ تمہیں ملامت کریں تو بے  دل نہ ہو۔
        (۶)کیونکہ جس سے  پروردگار محبت رکھتے  ہیں اسے  تنبیہ بھی کرتے  ہیں
        اور جس کو پیارا بنا لیتے  ہیں اس کے  درے  بھی لگاتے  ہیں
(۷)تم جو کچھ دکھ سہتے  ہو وہ تمہاری ترتیب کے  لئے  ہے۔ پروردگار فرزند جان کر تمہارے  ساتھ سلوک کرتے  ہیں۔ وہ کون سا بیٹا ہے  جسے  باپ تنبیہ نہیں کرتا؟ (۸)اور اگر تمہیں  وہ تنبیہ نہیں کی گئی جس میں سب شریک ہیں تو تم فتنہ پرداز ٹھہرے  نہ بیٹے۔ (۹)علاوہ اس کے  جب ہمارے  جسمانی باپ ہمیں تنبیہ کرتے  تھے  اور ہم ان کی تعظیم کرتے  رہے  تو کیا روحوں کے  رب کی اس سے  زیادہ تابعداری نہ کریں جس سے  ہم زندہ رہیں؟ (۱۰)وہ تو تھوڑے  دنوں کے  واسطے  اپنی سمجھ کر موافق  تنبیہ کرتے  تھے  مگر یہ ہمارے  فائدہ کے  لئے  کرتے  ہیں تاکہ ہم بھی ان کی پاکیزگی میں شامل ہو جائیں۔ (۱۱) اور بالفعل ہر قسم کی تنبیہ خوشی کا نہیں بلکہ غم کا باعث معلوم ہوتی ہے  مگر جو اس کے  سہتے  سہتے پختہ ہو گئے  ہیں ان کو بعد میں چین کے  ساتھ سچائی کا پھل بخشتی ہے۔
ہدایات اور انتباہ
(۱۲)پس ڈھیلے  ہاتھوں اور سست گھٹنوں کو درست کرو۔ (۱۳) اور اپنے  پاؤں کے  لئے  سیدھے  راستے  بناؤ۔ (۱۴)سب کے  ساتھ میل ملاپ رکھنے  اور اس پاکیزگی کے  طالب رہو جس کے  بغیر کوئی  پروردگار نہ دیکھے  گا۔ (۱۵) غور سے  دیکھتے  رہو کہ کوئی شخص پروردگار کی مہربانی سے  محروم نہ رہ جائے۔ ایسا نہ ہو کہ  کوئی  کڑوی جڑ پھوٹ کر تمہیں  دکھ دے  اور اس کے  سبب سے اکثر لوگ ناپاک ہو جائیں۔ (۱۶) اور نہ کوئی  بد کار یا حضرت عیسو کی طرح بے  دین ہو جس نے  ایک وقت کے  کھانے  کے  عوض اپنے  پہلوٹھے  ہونے  کا حق بیچ ڈالا۔ (۱۷) کیونکہ  تم جانتے  ہو کہ اس کے  بعد جب انہوں نے  برکت کا وارث ہونا چاہا  تو منظور نہ ہوا۔ چنانچہ  ان کی نیت کی تبدیل  کا موقع نہ ملا گو انہوں نے  آنسو بہا بہا کر ا س کی بڑی تلاش کی۔
        (۱۸)تم اس پہاڑ کے  پاس نہیں آئے  جس کو چھونا ممکن تھا اور وہ آگ سے  جلتا تھا اور اس پر کالی گھٹا اور تاریکی اور طوفان۔ (۱۹)نرسنگے  کا شور اور کلام کرنے  والے  کی ایسی آواز تھی جس کے  سننے  والوں نے  درخواست کی کہ ہم سے  اور کلام نہ کیا جائے۔ (۲۰)کیونکہ وہ ا س حکم کی برداشت نہ کر سکے  کہ اگر کوئی جانور بھی اس پہاڑ کو چھوئے  تو سنگسار کیا جائے۔ (۲۱)اور وہ نظارہ  ایسا ہیبت ناک تھا کہ حضرت موسیٰؑ  نے  فرمایا ڈرتا اور کانپتا ہوں۔ (۲۲)بلکہ تم کوہ صیون اور زندہ رب کے  شہر یعنی آسمانی یروشلیم کے  پاس اور لاکھوں فرشتگان۔ (۲۳)اور ان پہلوٹھوں کی عام جماعت  جن کے  نام آسمان پر لکھے  ہیں اور سب کے  منصف رب اور کامل کئے  ہوئے  متقیوں کی روحوں۔ (۲۴)اور نئے  عہد کے  درمیانی سیدنا عیسیٰ مسیح اور چھڑکاؤ کے  اس خون کے  پاس آئے  جو حضرت ہابل ؑ  کے  خون کی نسبت  بہتر باتیں کہتا ہے۔ (۲۵)خبر دار ! اس کہنے  والے  کا انکار نہ کرنا کیونکہ جب وہ لوگ زمین پر ہدایت کرنے  والے  کا انکار کر کے  نہ بچ سکے  تو ہم آسمان پر کے  ہدایت کرنے  والے  سے  منہ موڑ کر کیوں کر بچ سکیں گے ؟ (۲۶) اس کی آواز نے  اس وقت تو زمین کو ہلا دیا مگر اب اس نے  یہ وعدہ کیا ہے  کہ ایک بار پھر میں فقط زمین ہی کو نہیں بلکہ آسمان کو بھی ہلا دوں گا۔ (۲۷)اور یہ عبارت کہ ایک بار پھر اس بات کو ظاہر کرتی ہے  کہ جو چیزیں ہلا دی جاتی ہیں مخلوق ہونے  کے  باعث ٹل جائیں گی تاکہ بے  ہلی چیزیں قائم رہیں۔ (۲۸)پس ہم وہ بادشاہی پا کر جو ہلنے  کی نہیں اس مہربانی کو ہاتھ سے  نہ دیں جس کے  سبب سے  پسندیدہ طور پر پروردگارِ عالم کی عبادت خدا ترسی اور خوف کے  ساتھ کریں۔ (۲۹)کیونکہ  رب بھسم کرنے  والی آگ ہے۔


رکو ع ۱۳


        (۱)برادرانہ محبت قائم رہے۔ (۲)مسافر پروری سے  غافل نہ رہو کیونکہ اسی کی وجہ سے  بعض نے  بے  خبری میں فرشتگان کی مہمان داری کی ہے۔ (۳)قیدیوں کو اس طرح یاد رکھو کہ گویا تم ان کے  ساتھ قید ہو اور جن کے  ساتھ بدسلوکی جاتی ہے  ان کو بھی یہ سمجھ کر یاد رکھو کہ ہم بھی جسم رکھتے  ہیں (۴)بیاہ کرنا سب میں عزت کی بات سمجھی جائے  اور بستر بے  داغ رہے  کیونکہ  پروردگار بدکاروں اور زانیوں کی عدالت کرے  گا۔ (۵)زر کی دوستی سے  خالی رہو اور جو تمہارے  پاس ہے  اسی پر قناعت کرو کیونکہ  اس نے  خود فرمایا ہے  کہ میں تم سے  ہر گز دست بردار نہ ہوں گا اور کبھی تمہیں نہ چھوڑوں گا۔ (۶) اس واسطے  ہم جو دلیری کے  ساتھ کہتے  ہیں کہ
        پروردگار میرا مددگار ہے۔ میں خوف نہ کروں گا۔  انسان میرا کیا کرے  گا؟
(۷)جو تمہارے  پیشوا تھے  اور جنہوں نے  تمہیں پروردگار کا کلام سنایا انہیں یاد رکھو اور ان کی زندگی  کے  انجام پر غور کر کے  ان جیسے ایمان دار ہو جاؤ۔ (۸)سیدنا عیسی ٰ مسیح کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہیں۔ (۹)مختلف اور بیگانہ تعلیم کے  سبب سے  بھٹکتے  نہ پھرو کیونکہ مہربانی سے  دل کا مضبوط رہنا بہتر ہے نہ کہ ان کھانوں سے  جن کے  استعمال کرنے  والوں نے  کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔ (۱۰)ہماری ایک ایسی قربان گاہ ہے  جس میں سے  خیمہ کی خدمت کرنے  والوں کو کھانے  کا اختیار نہیں۔ (۱۱)کیونکہ جن جانوروں کا خون امامِ اعظم پاک مکان میں گناہ کے  کفارہ کے  واسطے  لے  جاتا ہے  ان کے  جسم خیمہ گاہ کے  باہر جلائے  جاتے  ہیں۔ (۱۲)اسی لئے سیدنا عیسی ٰ مسیح نے  بھی امت  کو خود اپنے  خون سے  پاک کرنے  کے  لئے دروازہ کے  باہر دکھ اٹھایا۔ (۱۳)پس آؤ ان کی رسوائی کو اپنے  اوپر لئے  ہوئے  خیمہ گاہ سے  باہر ان کے  پاس چلیں۔ (۱۴) کیونکہ  یہاں ہمارا کوئی  قائم رہنے  والا شہر نہیں بلکہ  ہم آنے  والے شہر کی تلاش میں ہیں۔ (۱۵)پس  ہم ان کے  وسیلہ سے  حمد کی قربانی یعنی ان ہونٹوں کا پھل جو ان کے  نام کا اقرار کرتے  ہیں پروردگار کے  لئے ہر وقت چڑھایا کریں۔ (۱۶) اور بھلائی اور سخاوت کرنا نہ بھولو اس لئے  کہ پروردگار ایسی قربانیوں سے  خوش ہوتے  ہیں۔ (۱۷) اپنے  پیشواؤں کے  فرمانبردار اور تابع رہو کیونکہ وہ تمہاری روحوں کے  فائدہ کے  لئے  ان کی طرح جاگتے  رہتے  ہیں جنہیں حساب دینا پڑے گا تاکہ وہ خوشی سے  یہ کام کریں نہ رنج سے  کیونکہ اس صورت میں تمہیں کچھ فائدہ نہیں۔
        (۱۸)ہمارے  واسطے  دعا کرو کیونکہ ہمیں یقین ہے  کہ ہمارا دل صاف اور ہم ہر بات میں نیکی کے  ساتھ زندگی گزارنا چاہتے  ہیں۔ (۱۹) میں تمہیں یہ کام کرنے  کی اس لئے  اور بھی نصیحت کرتا ہوں کہ  میں جلد تمہارے  پاس پھر آنے  پاؤں۔
اختتامی دعا
        (۲۰)اب رب العالمین اطمینان کا چشمہ جو بھیڑوں کے  بڑے  چروا ہے  یعنی ہمارے  آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کو ابدی عہد کے  خون کے  باعث مردوں میں سے  زندہ کر کے  اٹھا لایا۔ (۲۱)تم کو ہر نیک بات میں کامل کرتے  تاکہ تم اس کی رضا پوری کرو اور جو کچھ اس کے  نزدیک پسندیدہ ہے  سیدنا عیسیٰ مسیح کے  وسیلہ سے  ہم میں پیدا کرے۔ جس کی تمجید ابد الاآباد ہوتی رہے۔ آمین۔
تسلیمات
        (۲۲)اے  بھائیو! میں تم سے  التماس کرتا ہوں کہ  اس نصیحت  کے  کلام کی برداشت کرو کیونکہ میں نے  تمہیں مختصر طور پر  لکھا ہے۔ (۲۳) تم کو واضح ہو کہ ہمارا بھائی تمیتھیس رہا ہو گیا ہے۔ اگر وہ جلد آ گیا تو میں اس کے  ساتھ تم سے  ملوں گا۔
        (۲۴) اپنے  سب پیشواؤں اور سب ہم ایمان  سے  سلام کہو۔ اطالیہ والے  تمہیں سلام کہتے  ہیں۔
        (۲۵) تم سب پر پروردگار کی مہربانی ہوتی رہے۔ آمین۔

 




سیدنا عیسیٰ المسیح کی انجیل شریف
۲۷ پاروں  میں سے  ۲۰واں پارہ

حضرتِ یعقوب کا تبلیغی خط




رکوع ۱

        (۱) پروردگارِ عالم اور آقا و مولا سیدنا عیسیٰ المسیح کے  بندہ یعقوب کی طرف سے  ان بارہ قبیلوں کو جو بجا رہتے  ہیں سلام پہنچے۔
ایمان اور حکمت
        (۲) اے  میرے  دینی بھائیو! جب تم طرح طرح کی آزمائیشوں میں پڑو۔ (۳) تو اس کو یہ جان کر کمال خوشی کی بات سمجھنا کہ تمہارے  ایمان کی آزمائش  صبر پیدا کرتی ہے۔ (۴) صبر کو اپنا پورا کام کرنے  دو تاکہ تم پورے  اور کامل ہو جاؤ اور تم میں کسی بات کی کمی نہ رہے۔
        (۵) لیکن اگر تم میں سے  کسی میں حکمت کی کمی ہو تو پروردگار سے  مانگے  جو بغیر ملامت کئے  سب کو فیاضی کے  ساتھ عطا فرماتے  ہیں۔ اس کو عطا کی جائے  گی۔ (۶) مگر ایمانِ سے  مانگے  اور کچھ شک نہ کرے  کیونکہ شک کرنے  والا سمندر کی لہر کی مانند ہوتا ہے  جو ہوا سے  بہتی اور اچھلتی ہے۔ (۷) ایسا آدمی یہ نہ سمجھے  کہ مجھے اللہ و تبارک تعالی  سے  کچھ ملے  گا۔ (۸) وہ شخص دو دلا ہے  اور اپنی سب باتوں میں بے  قیام۔
غربت اور دولت
        (۹) ادنیٰ بھائی اپنے  اعلیٰ مرتبہ پر فخر کرے۔ (۱۰) دولت مند  اپنی ادنیٰ حالت پر اس لئے  کہ گھاس کے  پھول کی طرح جاتا رہے  گا۔ (۱۱) کیونکہ سورج نکلتے  ہی سخت دھوپ پڑتی اور گھاس کو سکھا دیتی ہے  اور اس کا پھول گر جاتا ہے  اور اس کی خوبصورتی جاتی رہتی ہے۔ اسی طرح دولت مند بھی اپنی راہ چلتے  چلتے خاک میں مل جائے  گا۔
آزمائش
        (۱۲) قابلِ ستائش وہ مومن ہے  جو آزمائش  کی برداشت کرتا ہے  کیونکہ  جب مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ تاج حاصل کرے  گا جس کا پروردگارِ عالم نے  اپنے  محبت  کرنے  والوں سے  وعدہ کیا جائے۔ (۱۳)جب کوئی آزمایا جائے  تو یہ نہ کہے  نعوذ بااللہ میری آزمائش   اللہ و تبارک تعالی کی طرف سے  ہوتی ہے کیونکہ  نہ خدا تعالیٰ بدی سے  آزمائے  جا سکتے  ہیں اور نہ وہ کسی کو آزماتے  ہیں۔ (۱۴) ہاں، ہر شخص اپنی خواہشوں میں کھینچ کر اور پھنس  کر آزمایا جاتا ہے۔ (۱۵) پھر خواہش حاملہ ہو کر گناہ کو جنتی ہے  اور گناہ جب بڑھ چکا تو موت پیدا کرتا ہے۔ (۱۶)اے  میرے  پیارے  دینی بھائیو! فریب نہ کھانا، (۱۷) ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام اوپر سے  ہے  اور نوروں کے  خالق کی طرف سے  ملتا ہے  جس میں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے  اور نہ گردش کے  سبب سے  اس پر سایہ  پڑتا ہے۔  (۱۸) اس نے  اپنی مرضی سے  ہمیں کلامِ حق کے  وسیلہ سے  پیدا کیا تاکہ  اس کی مخلوقات  میں سے  ہم ایک طرح کے  پہلے  پھل ہوں۔
سننا اور عمل کرنا
        (۱۹) اے  میرے  پیارے  دینی بھائیو! یہ بات تم جانتے  ہو۔ پس ہر آدمی سننے  میں تیز اور بولنے  میں دھیرا اور قہر میں دھیما ہو۔ (۲۰) کیونکہ انسان کا قہر اللہ و تبارک تعالیٰ  کی سچائی کا کام نہیں کرتا۔ (۲۱) اس لئے  ساری  نجاست اور بدی کے  فضلہ کو دوُر کر کے اس کلام اللہ کو حلیمی سے  قبول کر لو اور جو دل میں بویا گیا اور تمہاری  روحوں کو نجات عطا فرما سکتا ہے۔ (۲۲) لیکن کلام اللہ پر عمل کرنے  والو بنو نہ محض سننے  والے  جو اپنے  آپ کو  دھوکا دیتے  ہیں۔ (۲۳) کیونکہ جو کوئی  کلام اللہ کو سننے  والا ہو اور اس پر عمل کرنے  والا نہ ہو وہ اس شخص کی مانند ہے  جو اپنی قدرتی صورت آئینہ میں دیکھتا ہے۔ (۲۴)اس لئے  کہ وہ اپنے  آپ کو دیکھ کر چلا جاتا ہے  اور فوراً  بھول جاتا ہے  کہ میں کیسا تھا۔ (۲۵) لیکن جو شخص  آزادی کی کامل  شریعت  پر غور سے  نظر کرتا رہتا ہے  وہ اپنے  کام میں اس لئے برکت پائے  گا کہ سن کر بھولتا نہیں بلکہ عمل کرتا ہے۔ (۲۶) اگر کوئی اپنے  آپ کو  دین دار سمجھے  اور اپنی زبان کو لگام نہ دے  بلکہ اپنے  دل کو دھوکا دے  تو اس کی دین داری باطل ہے۔ (۲۷) ہمارے  پروردگار کے  نزدیک خالص اور بے  عیب دین داری یہ ہے  کہ یتیموں اور بیواؤں کی مصیبت  کے  وقت  ان کی خبر لیں اور اپنے  آپ کو دنیا سے  بے  داغ رکھیں۔


رکوع ۲: تعصب کے  بارے  انتباہ


        (۱) اے  میرے  دینی بھائیو! ہمارے  آقا و مولا سیدنا عیسیٰ المسیح کا ایمان تم میں طرف داری کے  ساتھ نہ ہو۔ (۲)کیونکہ اگر ایک شخص تو سونے  کی انگوٹھی اور عمدہ پوشاک پہنے  ہوئے  تمہاری جماعت میں آئے  اور ایک غریب آدمی میلے  کچیلے  کپڑے  پہنے  ہوئے  آئے۔ (۳) اور تم اس عمدہ پوشاک  والے  کا لحاظ کر کے  کہو کہ تم یہاں اچھی جگہ تشریف رکھو اور اس غریب شخص سے  کہو کہ تم وہاں کھڑے  رہو یا میرے  پاؤں کی چوکی کے  پاس بیٹھو۔ (۴) تو کیا تم نے  آپس میں طرف داری نہ کی اور بد نیت منصف نہ بنے ؟ اے  میرے  پیارے  دینی بھائیو! سنو۔ کیا پروردگار نے  اس جہان کے  غریبوں کو ایمان میں دولت مند اور اس دینِ حق کے  وارث ہونے  کے  لئے  منتخب نہیں کئے  جس کا اللہ و تبارک تعالیٰ نے  اپنے  محبت کرنے  والوں سے  وعدہ فرمایا ہے ؟ (۶) لیکن  تم نے  غریب  آدمی کی بے  عزتی کی۔ کیا دولت مند تم پر ظلم نہیں کرتے  اور وہی تمہیں  عدالتوں میں گھسیٹ کر نہیں  لے  جاتے ؟ (۷) کیا وہ اس بزرگ نام پر کفر نہیں بکتے  جس سے  تم نامزد ہو؟(۸) تو بھی اگر تم اس نوشتہ کے  مطابق کہ اپنے  پڑوسی سے  اپنی مانند محبت کرو اس بادشاہی شریعت کو پورا کرتے  ہو تو اچھا کرتے  ہو۔ (۹) لیکن اگر تم طرف داری کرتے  ہو تو گناہ کرتے  ہو اور شریعت تم کو قصور وار ٹھہراتی ہے۔ (۱۰) کیونکہ جس نے  شریعت پر عمل کیا اور ایک ہی بات میں خطا کی وہ سب باتوں میں قصور وار ٹھہرا۔ (۱۱) اس لئے  کہ  جس نے  یہ فرمایا کہ زنا نہ کر اسی نے  یہ بھی فرمایا کہ خون نہ کر، پس اگر تم نے  زنا تو نہ کیا مگر خون کیا تو بھی تم شریعت  کا عدول کرنے  والے  ٹھہرے۔ (۱۲) تم ان لوگوں کی طرح کلام بھی کرو اور کام بھی کرو جن کا آزادی کی شریعت  کے  موافق  انصاف ہو گا۔ (۱۳) کیونکہ جس نے  رحم نہیں کیا اس کا انصاف  بغیر رحم کے  ہو گا۔ رحم انصاف پر غالب آتا ہے۔
عمل اور ایمان
        (۱۴) اے  میرے  دینی بھائیو! اگر کوئی کہے  کہ میں ایمان دار  ہوں مگر عمل نہ کرتا ہو تو کیا فائدہ؟ کیا ایسا ایمان اسے  نجات دے  سکتا ہے ؟(۱۵) اگر کوئی  بھائی یا بہن ننگی ہو اور ان کو روزانہ روٹی کی کمی ہو۔ (۱۶) اور تم میں سے  کوئی  ان سے  فرمائے  کہ سلامتی کے  ساتھ جاؤ۔ گرم اور سیر رہو مگر جو چیزیں تن کے  لئے  درکا رہیں  وہ انہیں نہ دے  تو کیا فائدہ؟ (۱۷) اسی طرح  ایمان بھی اگر اس کے  ساتھ اعمال نہ ہوں تو اپنی ذات سے  مردہ ہے۔ (۱۸) بلکہ کوئی کہہ سکتا ہے  کہ  تم تو ایمان دار ہو اور میں عمل کرنے  والا ہوں۔ تم اپنا ایمان بغیر  اعمال کے  مجھے  دکھاؤ اور میں اپنا ایمان اعمال سے  تمہیں دکھاؤں گا۔ (۱۹) تم اس بات پر ایمان رکھتے  ہو کہ اللہ و تبارک تعالیٰ واحد ہی ہے  خیر۔ اچھا کرتے  ہو۔ شیاطین بھی ایمان رکھتے  اور تھرتھراتے  ہیں۔ (۲۰) مگر اے  نکمے آدمی ! کیا تم یہ بھی نہیں جانتے  کہ ایمان بغیر اعمال کے  بیکار ہے ؟ (۲۱) جب ہمارے  جدِ امجد حضرت ابرہام نے  اپنے  صاحبزادے  حضرت اضحاق  کو قربان گاہ پر قربان کیا تو وہ اعمال سے  نیک ٹھہرے؟(۲۲) پس تم نے  دیکھ لیا کہ ایمان نے  ان کے  اعمال کے  ساتھ مل کر اثر کیا اور اعمال سے  ایمان کامل ہوا۔ (۲۳) اور یہ نوشتہ پورا ہوا کہ  ابرہام پروردگار پر ایمان لائے  اور یہ ان کے  لئے سچائی گنا گیا اور وہ پروردگار کے  دوست یعنی خلیل اللہ کہلائے۔ (۲۴) پس تم نے  دیکھ لیا کہ انسان صرف ایمان ہی سے  نہیں  بلکہ اعمال سے  سچا ٹھہرتا ہے۔ (۲۵) اسی طرح راحب فاحشہ  بھی جب اس نے  قاصدوں کو اپنے  گھر میں قیام کرایا اور دوسری راہ سے  رخصت کیا تو کیا اعمال سے  سچی نہ ٹھہری؟ (۲۶) غرض جیسے  بدن بغیر  روح کے  مردہ ہے  ویسے  ہی ایمان بھی بغیر  اعمال کے  مردہ ہے۔


رکوع ۳: زبان


        (۱) اے  میرے  دینی بھائیو! تم میں سے  بہت سے  استاد نہ بنیں  کیونکہ جانتے  ہو کہ ہم جو استاد ہیں زیادہ سزا پائیں گے۔ (۲) اس لئے  کہ ہم سب کے  سب  اکثر خطا کرتے  ہیں۔ کامل شخص وہ ہے  جو باتوں میں خطا نہ کرے۔ وہ سارے  بدن کو بھی قابو میں رکھ سکتا ہے۔ (۳) جب ہم اپنے  قابو میں کرنے  کے  لئے  گھوڑوں کے  منہ میں لگام دے  دیتے  ہیں  تو ان کے  سارے بدن کو بھی گھما سکتے  ہیں؟ (۴) دیکھو۔ جہاز بھی اگرچہ بڑے  بڑے  ہوتے  ہیں اور تیز ہواؤں سے  چلائے  جاتے  ہیں تو بھی ایک نہایت چھوٹی سی پتوار کے  ذریعہ  سے  مانجھی کی مرضی کے  موافق گھمائے  جاتے  ہیں۔ (۵) اسی طرح زبان بھی ایک چھوٹا سا عضو ہے  اور بڑی شیخی مارتی ہے۔ دیکھو۔ تھوڑی سی آگ سے  کتنے بڑے  جنگل میں آگ لگ جاتی ہے۔ (۶) زبان بھی  ایک آگ ہے۔ زبان ہمارے  اعضا میں شرارت کا ایک عالم ہے  اور سارے  جسم کو داغ لگاتی ہے  اور دائرۂ دنیا کو آگ لگا دیتی ہے  اور جہنم کی آگ سے  جلتی رہتی ہے۔ (۷) کیونکہ ہر قسم  کے  چوپائے  اور پرندے  اور کیڑے  مکوڑے  اور دریائی  جانور تو انسان کے  قابو میں آ سکتے  ہیں اور آئے  بھی ہیں۔ (۸) مگر زبان کو کوئی آدمی قابو نہیں کر سکتا۔ وہ ایک  بلا ہے  جو کبھی رکتی ہی نہیں۔ زہرِ قاتل سے  بھری ہوئی ہے۔ (۹) اسی سے  ہم اللہ و تبارک تعالیٰ کی حمد کرتے  ہیں اور اسی آدمیوں کو جو پروردگار کی صورت پیدا ہوئے  ہیں بددعا دیتے  ہیں۔ (۱۰) ایک ہی منہ سے  مبارک باد اور بددعا نکلتی ہے۔ اے  میرے  دینی بھائیو! ایسا نہ ہونا چاہیے۔ (۱۱)کیا چشمہ کے  ایک ہی منہ سے  میٹھا اور کھارا پانی نکلتا ہے ؟ (۱۲) اے  میرے  دینی بھائیو! کیا انجیر کے  درخت  میں زیتون اور انگور میں انجیر  پیدا ہو سکتے  ہیں؟  اسی طرح  کھارا چشمہ  سے  میٹھا پانی نہیں نکل سکتا۔
آسمانی حکمت
        (۱۳) تم میں دانا اور فہیم کون ہے ؟ جو ایسا ہو وہ اپنے کاموں کو نیک چال چلن کے  وسیلہ سے  اس حلم کے  ساتھ ظاہر کرے  جو حکمت  سے  پیدا ہوتا ہے۔ (۱۴) لیکن اگر تم اپنے  دل میں سخت حسد اور تفرقے رکھتے  ہو تو حق کے  خلاف نہ شیخی مارو نہ جھوٹ بولو۔ (۱۵) یہ حکمت  وہ نہیں  جو اوپر سے  اترتی ہے  بلکہ  دنیوی اور نفسانی اور شیطانی ہے۔ (۱۶) اس لئے  کہ جہاں  حسد اور تفرقہ  ہوتا ہے  وہاں فساد اور ہر طرح کا برا کام بھی ہوتا ہے۔ (۱۷) مگر جو حکمت  اوپر سے  آتی ہے  اول تو وہ پاک ہوتی ہے۔ پھر ملنسار  حلیم اور تربیت پذیر۔ رحم اور اچھے  پھلوں سے  لدی ہوئی۔ بے  طرف دار اور بے  ریا ہوتی ہے۔ (۱۸) اور صلح کرانے  والوں کے  لئے  سچائی کا پھل صلح کے  ساتھ بویا جاتا ہے۔


رکوع ۴: دنیا کی دوستی


        (۱) تم میں لڑائیاں اور جھگڑے  کہاں سے  آ گئے۔ کیا ان خواہشوں سے  نہیں جو تمہارے  اعضا میں فساد کرتی ہیں؟(۲)تم خواہش کرتے  ہو اور تمہیں  ملتا نہیں، خون اور حسد کرتے  ہو اور کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ تم جھگڑتے  اور لڑتے  ہو۔ تمہیں اس لئے  نہیں ملتا کہ مانگتے  نہیں۔ (۳) تم مانگتے  ہو اور پاتے  نہیں  اس لئے  کہ بری نیت سے  مانگتے  ہو تاکہ  اپنی عیش  و عشرت میں خرچ کرو۔ (۴) اے  زنا کرنے  والیو! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ دنیا سے  دوستی رکھنا پروردگار سے  دشمنی کرنا ہے ؟ پس جو کوئی دنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے  آپ کو پروردگار کا دشمن بناتا ہے۔ (۵) کیا تم یہ سمجھتے  ہو کہ کلامِ اللہ بے  فائدہ کہتا ہے ؟ جس روح کو پروردگار نے  ہمارے  اندر بسایا کیا وہ ایسی آرزو کرتی ہے  جس کا انجام حسد ہو؟  (۶) وہ تو زیادہ  توفیق  بخشتا ہے۔ اسی لئے  یہ آیا ہے  کہ  پروردگار مغروروں کا مقابلہ کرتے  ہیں مگر مسکین کو توفیق عطا فرماتے  ہیں۔ (۷) پس پروردگار کے  تابع ہو جاؤ اور ابلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے  بھاگ جائے  گا۔ (۸) پروردگار کے  نزدیک جاؤ تو وہ تمہارے  نزدیک  آئیں گے۔ اے  گنہگارو! اپنے  ہاتھوں کو صاف کرو اور اے  دو دلو! اپنے  دلوں کو پاک کرو۔ (۹) افسوس اور ماتم کرو اور روؤ۔ تمہاری ہنسی  ماتم سے  بدل جائے  اور تمہاری خوشی اداسی سے۔ (۱۰) پروردگار کے  سامنے  خاکساری کرو۔ وہ تمہیں سر بلند کریں گے۔
بھائی کی بد گوئی کے  خلاف انتباہ
        (۱۱) اے  دینی بھائیو! ایک دوسرے  کی بد گوئی نہ کرو جو اپنے  بھائی کی بد گوئی کرتا یا بھائی پر الزام لگاتا ہے  وہ شریعت  کی بد گوئی کرتا اور شریعت  پر الزام لگا تا ہے  اور اگر تم شریعت  پر الزام لگاتے  ہو تو شریعت  پر عمل کرنے  والے  نہیں بلکہ اس پر حاکم ٹھہرے۔ (۱۲) شریعت کا دینے  والا  اور حاکم تو ایک ہی ہے  جو بچانے  اور ہلاک کرنے  پر قادر ہے۔ تم کون ہو جو اپنے  پڑوسی پر الزام لگاتے  ہو؟


شیخی باز کو انتباہ
        (۱۳) تم جو یہ کہتے  ہو کہ ہم آج یا کل فلاں شہر میں جا کر وہاں ایک برس ٹھہریں گے  اور سوداگری کر کے  نفع اٹھائیں گے۔ (۱۴) اور یہ جانتے  نہیں کہ کل  کیا ہو گا۔ ذرا سنو تو ! تمہاری زندگی چیز ہی کیا ہے ؟ بخارات کا سا حال ہے۔ ابھی نظر آئے۔ ابھی غائب ہو گئے۔ (۱۵) یوں کہنے کی جگہ تمہیں یہ کہنا چاہیے  کہ  انشا اللہ ہم زندہ بھی رہیں گے  اور یہ یا وہ کام بھی کریں گے۔ (۱۶) مگر اب تم اپنی شیخی پر فخر کرتے  ہو۔ ایسا سب فخر برا ہے۔ (۱۷) پس جو کوئی بھلا ئی کرنا جانتا ہے  اور نہیں کرتا اس کے  لئے  یہ گناہ ہے۔


رکوع ۵: دولت مندوں کو انتباہ


        (۱) اے  دولت مندو ذرا سنو تو تم ! اپنی مصیبتوں پر جو آنے  والی ہیں روؤ اور واویلا کرو۔ (۲) تمہارا مال  بگڑ گیا اور تمہاری  پوشاکوں کو کیڑا کھا گیا۔ (۲) تمہارے  سونے  چاندی کو زنگ  لگ گیا اور وہ زنگ  تم پر شہادت دے  گا اور آگ کی طرح تمہارا گوشت کھائے  گا۔ تم نے  اخیر زمانہ میں خزانہ جمع کیا ہے۔ (۴) دیکھو جن مزدوروں نے  تمہارے کھیت کاٹے  ان کی وہ مزدوری جو تم نے  دغا کر کے رکھ چھوڑی  چلا تی ہے  اور فصل کاٹنے  والوں کی فریاد  رب العزت کے  کانوں تک پہنچ گئی ہے۔ (۵) تم نے  زمین پر عیش و عشرت کی اور مزے  اڑائے۔ تم نے  اپنے  دلوں کو ذبح کے  دن موٹا تازہ کیا۔ (۶) تم نے  سچے  شخص کو قصوروار ٹھہرایا اور قتل کیا وہ تمہارا مقابلہ نہیں کرتا۔
 صبر اور دعا
        (۷) پس اے  دینی بھائیو! آقا و مولا سیدنا عیسیٰ المسیح کی آمد تک صبر کرو۔ دیکھو کسان زمین کی قیمتی پیداوار کے  انتظار میں پہلے  پھل اور پچھلے  مینہ کے  برسنے  تک صبر کرتا رہتا ہے۔ (۸) تم بھی صبر کرو اپنے  دلوں کو مضبوط رکھو کیونکہ  سیدنا عیسیٰ المسیح کی آمد قریب ہے۔ (۹)اے  دینی بھائیو! ایک دوسرے  کی شکایت نہ کرو تاکہ  تم سزا نہ پاؤ۔ دیکھو منصف  دروازہ پر کھڑا ہے۔ (۱۰) اے  دینی بھائیو!  جن انبیاء نے  اللہ و تبارک تعالی ٰ کے  نام تبلیغ کی ان کو دکھ اٹھانے  اور صبر کرنے  کا نمونہ سمجھو۔ (۱۱) دیکھو صبر کرنے  والوں کو ہم مبارک کہتے  ہیں۔ تم نے  حضرت ایوب  کے  صبر کا حال تو سنا ہی ہے  اور پروردگار کی طرف سے  جو ان کا انجام ہوا اسے  بھی معلوم کر لیا جس سے  پروردگار کا بہت ترس اور رحم ظاہر ہوتا ہے۔
        (۱۲) مگر اے  میرے  دینی بھائیو! سب سے  بڑھ کر  یہ ہے  کہ قسم نہ کھاؤ، نہ آسمان کی نہ زمین کی، نہ کسی اور چیز کی بلکہ  ہاں کی جگہ ہاں کرو اور نہیں کی جگہ نہیں تاکہ سزا کے  لائق نہ ٹھہرو۔
        (۱۳) اگر تم میں کوئی مصیبت زدہ ہو تو دعا کرے۔ اگر خوش ہو تو حمد کرے۔ (۱۴) اگر تم میں کوئی بیمار ہو تو جماعت کے  بزرگوں کو بلائے  اور وہ پروردگار کے  نام سے  اس کو تیل مل کر اس کے  لئے  دعا کریں۔ (۱۵) جو دعا ایمان کے  ساتھ ہو گی اس کے  باعث  بیمار بچ جائے  گا اور پروردگارِ عالم اسے  اٹھا کھڑا کریں گے  اور اگر اس نے  گناہ کئے  ہوں تو ان کی معافی بھی ہو جائے  گی۔ (۱۶) پس تم آپس میں ایک دوسرے  سے  اپنے  اپنے  گناہوں کا اقرار کرو اور ایک دوسرے  کے  لئے  دعا کرو تاکہ  شفا پاؤ۔ سچے  مومن کی دعا کے  اثر سے  بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ (۱۷) حضرت الیاس ہمارے  ہم طبعیت انسان تھے۔ انہوں نے  بڑے  جوش سے  دعا کی کہ مینہ نہ برسے۔ چنانچہ ساڑھے  تین برس تک زمین پر مینہ نہ برسا۔ (۱۸) پھر انہوں نے  دعا کی پروردگار آپ آسمان سے  پانی برسائیں اور زمین میں پیدا وار ہوئی۔
        (۱۹) اے  میرے  دینی بھائیو! اگر تم میں کوئی راہِ حق سے  گمراہ ہو جائے  اور کوئی اس کو پھیر لائے۔ (۲۰) تو وہ  یہ جان لے  کہ جو کوئی  کسی گنہگار  کو اس کی گمراہی سے  پھیر لائے  گا۔ وہ ایک  جان کو موت سے  بچائے  گا اور بہت سے  گناہوں پر پردہ ڈالے  گا۔


سیدنا عیسیٰ المسیح کی انجیل شریف
۲۷ پاروں  میں سے  ۲۰واں پارہ

رسولِ مقبول حضرتِ پطرس  کا تبلیغی خط  اوّل




رکوع ۱


(۱)پطرس کی طرف سے  جو سیدنا عیسیٰ مسیح کا رسول ہے  ان مسافروں کے  نام جو پنطس، گلتیہ، کپدکیہ، آسیہ اور بتھنیہ میں جا بجا رہتے  ہیں۔ (۲) اور پروردگار کے  علمِ سابق  کے  موافق  روح کے  پاک کرنے  سے  فرمانبردار ہونے  اور سیدنا عیسیٰ مسیح کا خون چھڑکے  جانے  کے  لئے برگزیدہ ہوئے  ہیں۔ مہربانی، اور اطمینان تمہیں زیادہ حاصل ہوتا رہے۔
        (۳) ہمارے  آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کے  پروردگار کی حمد ہو جنہوں نے  سیدنا عیسیٰ مسیح کے  مردوں میں سے  جی اٹھنے  کے  باعث  اپنی بڑی رحمت سے  ہمیں زندہ امید کے  لئے نئے  سرے  سے  پیدا کیا۔ (۴) تاکہ ایک غیر فانی اور بے  داغ اور لازوال میراث کو حاصل کریں۔ (۵) وہ تمہارے  واسطے  (جو پروردگار کی قدرت سے  ایمان کے  وسیلہ سے  اس نجات کے  لئے  جو آخری وقت میں ظاہر ہونے  کو تیار ہے  حفاظت کئے  جاتے  ہو)آسمان پر محفوظ ہے۔ (۶) اس کے  سبب سے  تم خوشی مناتے  ہو۔ اگرچہ اب چند روز کے  لئے  ضرورت کی وجہ سے طرح طرح کی آزمائشوں کے  سبب سے  غم زدہ ہو۔ (۷) اور یہ اس لئے  ہے  کہ تمہارا  آزمایا ہوا ایمان جو آگ سے  آزمائے  ہوئے  فانی  سونے  سے  بھی بہت  ہی بیش قیمت ہے  سیدنا عیسیٰ مسیح کے  ظہور کے  وقت تعریف اور بزرگی اور عزت کا باعث ٹھہرے۔ (۸) اس سے  تم بے  دیکھے  محبت کرتے  ہو اور اگرچہ اس وقت  اس کو نہیں دیکھتے  تو بھی اس پر ایمان لا کر ایسی خوشی مناتے  ہو جو بیان سے  باہر اور بزرگی  سے  بھری ہے۔ (۹) اور اپنے  ایمان کا مقصد یعنی روحوں کی نجات حاصل کرتے  ہو۔ (۱۰) اسی نجات کی بابت ان انبیاء کرام نے  بڑی تلاش اور تحقیق  کی جنہوں نے  اس مہربانی کے  بارے  میں جو تم پر ہونے  کو تھی نبوت کی۔ (۱۱)انہوں نے اس بات کی تحقیق  کی کہ سیدنا عیسیٰ مسیح کا روح جو ان میں تھا اور پیشتر سے  سیدنا مسیح کے  دکھوں کی اور ان کے  بعد کی بزرگی کی شہادت دیتے  تھے  وہ کون سے  اور کیسے وقت کی طرف  اشارہ کرتے  تھے۔ (۱۲) ان پر یہ  ظاہر کیا گیا کہ وہ نہ اپنی بلکہ تمہاری  خدمت کے  لئے یہ باتیں کہا کرتے  تھے  جن کی خبر اب تم کو ان کی معرفت ملی جنہوں نے روحِ پاک کے  وسیلہ سے  جو آسمان پر سے نازل کیا گیا تم کو خوشخبری دی اور فرشتے بھی ان باتوں پر غور سے  نظر کرنے  کے  مشتاق ہیں۔
        (۱۳) اس واسطے  اپنی عقل کی کمر باندھ کر اور ہوشیار ہو کر اس مہربانی کی کامل امید رکھو جو سیدنا عیسیٰ مسیح  کے  ظہور کے  وقت  تم پر ہونے  والی ہے۔ (۱۴) اور فرمانبردار فرزند ہو کر اپنی جہالت کے  زمانے کی پرانی خواہشوں  کے  تابع نہ بنو۔ (۱۵)بلکہ جس طرح  تمہارا بلانے  والا  پاک ہے  اسی طرح تم بھی اپنے  سارے  چال چلن میں پاک بنو۔ (۱۶) کیونکہ لکھا ہے  کہ پاک ہو۔ اس لئے  کہ میں پاک ہوں۔ (۱۷)اور جب کہ تم باپ(یعنی پروردگار )کہہ کر اس سے  دعا کرتے  ہو جوہر ایک کے  کام کے  موافق  بغیر طرف داری کے  انصاف کرتے  ہیں تو اپنی مسافرت کا زمانہ خوف کے  ساتھ گزارو۔ (۱۸) کیونکہ تم جانتے  ہو کہ تمہارا نکما چال چلن جو باپ دادا سے  چلا آتا تھا اس سے  تمہاری رہائی فانی چیزوں یعنی سونے  چاندی کے  ذریعہ سے  نہیں ہوئی۔ (۱۹) بلکہ ایک بے  عیب اور بے  داغ بُرے  یعنی سیدنا مسیح کے  بیش قیمت سے  خون سے۔ (۲۰) ان کا علم تو بنائ عالم سے  پیشتر تھا مگر ظہور  اخیر زمانہ میں تمہاری خاطر ہوا۔ (۲۱) کہ ان کے  وسیلہ سے  پروردگار پر ایمان لائے  ہو جنہوں نے  ان کو مردوں میں سے  زندہ کیا اور بزرگی عطا فرمائی تاکہ تمہارا ایمان اور امید پروردگار پر ہو۔ (۲۲) چونکہ تم نے  حق کی تابع  داری سے  اپنے  دلوں کو پاک کیا ہے  جس سے  بھائیوں کی بے  ریا محبت  پیدا ہوئی اس لئے  دل وجان سے  آپس میں محبت کرو۔ (۲۳)کیونکہ تم فانی تخم سے  نہیں بلکہ  غیر فانی سے  پروردگار کے  کلام کے  وسیلہ سے جو زندہ اور قائم ہے  نئے  سرے  سے  پیدا ہوئے  ہو۔ (۲۴) چنانچہ
                ہر بشر گھاس کی مانند ہے 
        اور اس کی ساری شان و شوکت  گھاس کے  پھول کی مانند۔  گھاس تو سوکھ جاتی ہے  اور پھول گر جاتا ہے۔
                (۲۵)لیکن پروردگار کا کلام ابد تک قائم رہے  گا۔
یہ وہی خوشخبری کا کلام ہے  جو تمہیں سنایا گیا تھا۔


رکوع ۲


        (۱) پس ہر طرح کی بد خواہی اور سارے  فریب اور منافقت اور حسد اور ہر طرح کی بد گوئی کو دوُر کر کے۔ (۲) نو زائد بچوں کی مانند خالص روحانی دودھ کے  مشتاق رہو تا کہ اس کے  ذریعہ سے  نجات حاصل کرنے  کے  لئے  بڑھتے  جاؤ۔ (۳)اگر تم نے  پروردگار کے  مہربان ہونے  کا مزہ چکھا ہے  (۴)اُس کے  یعنی آدمیوں کے  رد کئے  ہوئے  پر پروردگار کے  چنے  ہوئے  اور قیمتی  زندہ پتھر کے  پاس آ کر۔ (۵) تم بھی زندہ پتھروں کی طرح  روحانی گھر بنتے  جاتے  ہو تاکہ امامو کا پاک جماعت بن کر  ایسی روحانی قربانیاں پیش کرو جو سیدنا عیسیٰ مسیح کے  وسیلہ سے  پروردگار کے  نزدیک مقبول ہوتی ہیں۔ (۶) چنانچہ کلامِ الٰہی میں مرقوم ہے  کہ
                دیکھو میں صیون میں کونے  کے  سرے  کا چنا ہوا اور قیمتی پتھر رکھتا ہوں  جو اس پر ایمان لائے  گا ہرگز شرمندہ نہ ہو گا۔
(۷) پس تم ایمان لانے  والوں کے  لئے  تو وہ قیمتی ہے  مگر ایمان نہ لانے  والوں کے  لئے 
                جس پتھر کو معماروں نے  رد کیا وہی کونے  کے  سرے  کا پتھر ہو گیا
(۸)اور ٹھیس لگنے  کا پتھر اور ٹھوکر کھانے  کی چٹان ہوا
کیونکہ وہ نا فرمان ہو کر کلام سے  ٹھوکر کھاتے  ہیں اور اسی کے  لئے  مقرر بھی ہوئے  تھے۔ (۹) لیکن تم ایک برگزیدہ نسل، شاہی اماموں کی جماعت، مُقدس قوم اور ایسی امت ہو جو پروردگار کی خاص ملکیت  ہے  تاکہ ان کی خوبیاں ظاہر کرو جنہوں نے  تمہیں تاریکی سے  اپنی عجیب روشنی میں بلایا ہے۔ (۱۰) پہلے  تم کوئی امت نہ تھے  مگر اب پروردگار کی امت ہو۔ تم پر رحمت نہ ہوئی تھی مگر اب تم پر رحمت ہوئی۔
        (۱۱) اے  پیارو میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ تم اپنے  آپ کو پردیسی اور مسافر جان کر ان جسمانی خواہشوں سے  پرہیز کرو جو روحِ پاک سے  لڑائی رکھتی ہیں۔ (۱۲) اور مشرکین میں اپنا چال چلن نیک رکھو تاکہ جن باتوں میں وہ تمہیں بد کار جان کر تمہاری بد گوئی کرتے  ہیں  تمہارے  نیک کاموں کو دیکھ کر انہی کے  سبب سے  ملاحظہ کے  دن پروردگار کی تمجید کریں۔
        (۱۳) پروردگار کی خاطر انسان کے  ہر ایک انتظام کے  تابع رہو۔ بادشاہ کے  اس لئے  کہ وہ سب سے  بزرگ ہے۔ (۱۴) اور حاکموں کے  اس لئے  کہ وہ بدکاروں کی سزا اور پرہیزگاروں اور متقیوں  کی تعریف کے  لئے  اس کے  ان کے  بھیجے  ہوئے  ہیں۔ (۱۵) کیونکہ پروردگار کی یہ مرضی ہے  کہ تم نیکی کر کے  نادان آدمیوں کی جہالت  کی باتوں کو بند کر دو۔ (۱۶) اور اپنے  آپ کو آزاد  جانو مگر اس آزادی  کو بدی کا پردہ نہ بناؤ بلکہ  اپنے  آپ کو پروردگار کے  بندے  جانو۔ (۱۷)سب کی عزت کرو، برداری سے  محبت کرو، پروردگار سے  ڈرو، بادشاہ کی عزت کرو۔
سیدنا عیسیٰ مسیح کے  دکھوں کا نمونہ
        (۱۸) اے  نوکرو !بڑے  خوف سے  اپنے  مالکوں کے  تابع رہو۔ نہ صرف نیکوں اور حلیموں ہی کے  بلکہ بد مزاجوں کے  بھی۔ (۱۹)کیونکہ  کہ اگر کوئی پروردگار کے  خیال سے  بے  انصافی کے  باعث  دکھ اٹھا کر تکلیفوں کی برداشت کرے  تو یہ پسندیدہ ہے۔ (۲۰)اس لئے  کہ اگر تم نے  گناہ کر کے  مکے  کھائیں صبر کیا تو کون سا فخر ہے ؟ ہاں اگر نیکی کر کے  دکھ پاتے  اور صبر کرتے  ہو تو یہ پروردگار کے  نزدیک پسندیدہ ہے۔ (۲۱) اور تم اسی کے  لئے  بلائے  گئے  ہو کیونکہ  سیدنا عیسیٰ مسیح بھی تمہارے واسطے دکھ اٹھا کر  تمہیں  ایک نمونہ دیں گئے  ہیں تاکہ  ان کے  نقش قدم پر چلو۔ (۲۲) نہ انہوں نے  گناہ کیا اور نہ ان کے  منہ مبارک سے  کوئی مکر کی بات نکلی۔ (۲۳)نہ وہ گالیاں  کھا کر گالی دیتے  تھے  اور نہ دکھ پا کر  کسی کو دھمکاتے  تھے  بلکہ اپنے  آپ کو  سچے  انصاف کرنے  والے  کے  سپرد کرتے  تھے۔ (۲۴) وہ آپ  ہمارے  گناہوں  کو اپنے بدن پر لئے ہوئے  صلیب قربان ہو گئے  تاکہ ہم گناہوں کے  اعتبار سے  مر کر  نیکی کے  اعتبار سے جئیں اور انہیں کے  مار کھانے  سے  تم نے  شفا پائی۔ (۲۵)کیونکہ پہلے تم بھیڑوں  کی طرح بھٹکتے  پھرتے  تھے  مگر اب اپنی روحوں  کے  گلہ بان اور نگہبان کے  پاس  پھر آ گئے  ہو۔



رکوع ۳: بیوی اور شوہر


        (۱)اے  بیویو! تم بھی اپنے  اپنے  شوہر کے  تابع رہو۔ (۲) اس لئے  کہ اگر بعض ان میں سے  کلام کونہ مانتے  ہوں تو بھی تمہارے  پاکیزہ چال چلن اور خوف کو دیکھ کر  بغیر کلام کے  اپنی اپنی بیوی  کے  چال چلن سے  پروردگار کی طرف کھینچ جائیں۔ (۳) اور تمہارا سنگار ظاہری  نہ ہو یعنی سرگوندھنا اور سونے  کے  زیور اور طرح طرح کے  کپڑے پہننا۔ (۴) بلکہ تمہاری  باطنی اور پوشیدہ انسانیت حلم اور مزاج کی غربت کی غیر فانی آرائش سے  آراستہ رہے  کیونکہ پروردگار کے  نزدیک  اس کی بڑی قدر ہے۔ (۵) اور اگلے  زمانہ میں بھی پروردگار پر امید رکھنے  والی پارسا عورتیں اپنے  آپ کو اسی طرح سنوارتی اور اپنے  اپنے  شوہر کے  تابع رہتی تھیں۔ (۶)چنانچہ بی بی سارہ حضرت ابراہیم کے  حکم میں رہتی اور انہیں مولا کہتی تھیں۔ تم بھی اگر نیکی کرو اور کسی ڈراوے  سے  نہ ڈرو تو ان کی بیٹیاں  ہوئیں۔
        (۷)اے  شوہرو! تم بھی بیویوں کے  ساتھ عقل مندی سے  بسر کرو اور عورت کو نازک ظرف جان اس کی عزت کرو اور یوں سمجھو کہ ہم دونوں زندگی کی نعمت کے  وارث ہیں تاکہ  تمہاری دعائیں رک نہ جائیں۔
حق پر عمل کی خاطر دکھ اٹھانا
        (۸) غرض سب کے  سب یک دل اور ہمدرد رہو۔ برادرانہ محبت  کرو، نرم دل اور عاجز بنو۔ (۹)بدی  کے  عوض بدی نہ کرو اور گالی کے  بدلے  گالی نہ دو بلکہ اس کے  برعکس  برکت چاہو کیونکہ  تم برکت کے  وارث ہونے  کے  لئے  بلائے  گئے  ہو۔ (۱۰)چنانچہ
        جو کوئی زندگی سے  خوش ہونا اور اچھے  دن دیکھنا چاہے 
                وہ زبان کو بدی سے  اور ہونٹوں کو مکر کی بات کہنے  سے  باز رکھے 
                (۱۱)بدی سے  کنارہ کرو اور نیکی کو عمل میں لاؤ۔
                صلح کے  طالب ہو اور اس کی کوشش میں رہو۔
                (۱۲) کیونکہ پروردگار کی نظر دیانتداروں کی طرف ہے  اور ان کے  کان ان کی دعا پر لگے  ہیں
                مگر بدکار پروردگار کی نگاہ میں ہیں۔
(۱۳) اگر تم نیکی کرنے  میں سرگرم ہو تو تم سے  بدی کرنے  والا کون ہے ؟(۱۴) اور اگر سچائی کی خاطر دکھ سہو بھی تو تم قابلِ ستائش ہو۔ نہ ان کے  ڈرانے  سے  ڈرو اور نہ گھبراؤ۔ (۱۵) بلکہ سیدنا عیسیٰ مسیح کو مولا جان کر اپنے  دلوں میں مُقدس سمجھو اور جو کوئی تم سے  تمہاری امید کی وجہ دریافت کرے  اس کو جواب دینے  کے  لئے  ہر وقت  مستعد رہو مگر حلم اور  خوف کے  ساتھ۔ (۱۶)اور نیت بھی رکھو تاکہ جن باتوں میں تمہاری  بد گوئی ہوتی ہے  ان ہی میں وہ لوگ شرمندہ ہوں جو تمہارے  مسیحی نیک چال چلن پر لعن طعن کرتے  ہیں۔ (۱۷) کیونکہ  اگر پروردگار  کی یہی مرضی ہے  کہ تم نیکی کرنے  کے  سبب سے  دکھ اٹھاؤ تو یہ بدی کرنے  کے  سبب سے  دکھ اٹھانے  سے  بہتر ہے۔ (۱۸) اس لئے  کہ سیدنا عیسیٰ مسیح نے  بھی یعنی متقی پرہیزگار نے  منافقین کے  لئے  گناہوں کے  باعث ایک بار دکھ اٹھایا تاکہ ہم کو پروردگار کے  پاس پہنچائیں۔ وہ جسم کے  اعتبار سے  تو قربان ہوئے  لیکن روح کے  اعتبار سے  زندہ کئے  گئے۔ (۱۹) اسی میں انہوں نے  جا کر  ان قیدی روحوں میں تبلیغ کی۔ (۲۰) جو اس اگلے زمانہ میں  نا فرمان تھیں جب پروردگار نے  حضرت نوح کے  وقت میں تحمل کر کے  ٹھہرا رہا تھا اور وہ کشتی تیار ہو رہی تھی جس  پر سوار  ہو کر تھوڑے سے  آدمی یعنی آٹھ  جانیں پانی کے  وسیلہ سے  بچیں۔ (۲۱) اور اسی پانی کا مشابہ بھی یعنی اصطباغ سیدنا ع عیسیٰ مسیح کے  جی اٹھنے  کے  وسیلہ سے  اب تمہیں  بچاتے  ہیں۔ اس سے  جسم کی نجاست  کا دُور کرنا مراد نہیں  بلکہ خالص  نیت سے پروردگار کے  طالب ہونا مراد ہے۔ (۲۲)وہ آسمان پر جا کر پروردگار کی دہنی طرف بیٹھے  ہیں اور فرشتے  اور اختیارات اور قدرتیں  ان کے  تابع کی گئی ہیں۔



رکوع ۴


(۱)پس جبکہ سیدنا عیسیٰ مسیح نے  جسم کے  اعتبار سے  دکھ اٹھایا تو تم بھی ایسا ہی مزاج اختیار کر کے  ہتھیار بند بنو کیونکہ جس نے  جسم کے  اعتبار سے  دکھ اٹھایا اس نے  گناہ سے  فراغت پائی۔ (۲) تاکہ آئندہ کو اپنی باقی جسمانی زندگی آدمیوں کی خواہشوں کے  مطابق  نہ گزارو بلکہ  پروردگار کی مرضی کے  مطابق۔ (۳) اس واسطے  کہ مشرکین کی مرضی کے  موافق  کام کرنے  اور شہوت پرستی۔ بُری خواہشوں، مے  خواری، ناچ رنگ، نشہ بازی اور مکر و بُت پرستی میں جس قدر ہم نے  پہلے  وقت گزارا وہی بہت ہے۔ (۴) اس پر وہ تعجب کرتے  ہیں کہ تم اسی سخت  بد چلنی تک ان کا ساتھ نہیں دیتے  اور لعن طعن  کرتے  ہیں۔ (۵)انہیں اسی کو حساب دینا پڑے  گا جو زندوں اور مردوں کا انصاف کرنے  کو تیار ہیں۔ (۶) کیونکہ مردوں کو بھی خوشخبری اسی لئے  سنائی گئی تھی کہ جسم کے  لحاظ سے  تو آدمیوں کے  مطابق  ان کا انصاف ہو لیکن روح کے  لحاظ سے  پروردگار کے  مطابق زندہ رہیں۔
        (۷)سب چیزوں کا خاتمہ جلد ہونے  والا ہے۔ پس ہوشیار رہو اور دعا کرنے  کے  لئے  تیار (۸)سب سے  بڑھ کر یہ ہے  کہ آپس میں بڑی محبت کرو، کیونکہ محبت بہت سے  گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ (۹) بغیر بڑبڑائے  آپس میں مسافر پروری کرو۔ (۱۰) جن کو جس جس قدرت نعمت ملی ہے  وہ اسے  پروردگار کی مختلف  نعمتوں کے  اچھے  مختاروں کی طرح ایک دوسرے  کی خدمت میں صرف کریں۔ (۱۱)اگر کوئی  کچھ کہے  تو ایسا کہے  کہ گویا پروردگار کا کلام ہے۔ اگر کوئی خدمت کرے  تو اس طاقت کے  مطابق  کرے  جو پروردگار عطا کریں تاکہ  سب باتوں میں سیدنا عیسیٰ مسیح کے  وسیلہ سے  پروردگار کی بزرگی ظاہر ہو۔ بزرگی اور سلطنت  ابد لآباد انہی کی ہے۔ آمین۔
        (۱۲) اے  پیارو! جو مصیبت کی آگ تمہاری آزمائش کے  لئے  تم میں بھڑکی ہے  یہ سمجھ کر اس سے  تعجب  نہ کرو کہ یہ ایک انوکھی بات ہم پر واقع ہوئی ہے۔ (۱۳) بلکہ سیدنا عیسیٰ مسیح کے  دکھوں میں جوں جوں شریک ہو خوشی کرو تاکہ  ان کی بزرگی کے  ظہور کے  وقت بھی نہایت خوش و خرم ہو۔ (۱۴) اگر سیدنا عیسیٰ مسیح کے  نام کے  سبب سے  تمہیں  ملامت کی جاتی ہے  تو تم مبارک ہو کیونکہ  بزرگی کی روح یعنی پروردگار کا روح تم پر سایہ کرتا ہے۔ (۱۵) تم میں سے  کوئی شخص  خونی یا چور یا بد کار یا اوروں کے  کام میں دست  انداز ہو کر دکھ نہ پائے۔ (۱۶) لیکن اگر مسیحی ہونے  کے  باعث  کوئی شخص  دکھ پائے  تو شرمائے  نہیں بلکہ  اس نام کے  سبب سے  پروردگار کی تمجید کرے۔ (۱۷) کیونکہ وہ وقت آ پہنچا ہے  کہ پروردگار کے  گھر سے  عدالت شروع ہو اور جب ہم ہی سے  شروع ہو گی تو ان کا کیا انجام ہو گا جو پروردگار کی  خوشخبری کو نہیں مانتے ؟(۱۸) اور جب پرہیزگار ہی مشکل سے  نجات پائے  گا تو بے  دین اور گنہگار کا کیا ٹھکانا ہے ؟ (۱۹)پس جو پروردگار کی مرضی کے  موافق  دکھ پاتے  ہیں وہ نیکی کر کے  اپنی جانوں کو وفادار خالق کے  سپرد کریں۔



رکوع ۵


        (۱) تم میں جو بزرگ ہیں میں ان کی طرح بزرگ اور سیدنا مسیح کے  دکھوں کا گواہ اور ظاہر ہونے  والی بزرگی میں شریک بھی ہو کر ان کو یہ نصیحت  کرتا ہوں۔ (۲) کہ پروردگار کے  اس گلہ کی گلہ بانی کرو جو تم میں ہے۔ لاچاری سے  نگہبانی نہ کرو بلکہ پروردگار کی مرضی کے  موافق  خوشی سے  اور ناجائز  نفع کے  لئے  نہیں بلکہ دلی شوق سے۔ (۳) اور جو لوگ تمہارے  سپرد ہیں ان پر حکومت  نہ جتاؤ بلکہ گلہ کے  لئے  نمونہ  بنو۔ (۴) اور جب سردار گلہ بان ظاہر ہو گا تو تم کو عظمت کا ایسا سہرا ملے  جو مرجھانے  کا نہیں۔ (۵) اے  جوانو!تم بھی بزرگوں کے  تابع رہو بلکہ سب کے  سب ایک دوسرے  کی خدمت کے  لئے  عاجزی سے  کمربستہ رہو اس لئے  کہ پروردگار مغروروں کا مقابلہ کرتے  ہیں مگر عاجزوں کو توفیق عطا فرماتے  ہیں۔ (۶)پس پروردگار کے  قوی ہاتھ کے  نیچے  عاجزی سے  رہو تاکہ وہ تمہیں وقت پر سربلند کریں۔ (۷)اور اپنی ساری فکر  انہی پر ڈال دو کیونکہ  ان کو تمہاری فکر ہے۔ (۸) تم ہوشیار اور بیدار رہو، تمہارا مخالف ابلیس گرجنے  والے  شیر ببر کی طرح  ڈھونڈتا  پھرتا ہے  کہ کس کو پھاڑ کھائے۔ (۹)تم ایمان میں مضبوط ہو کر اور یہ جان کر اس کا مقابلہ کرو کہ تمہارے بھائی جو دنیا میں ہیں ایسے  ہی دکھ اٹھا رہے  ہیں۔ (۱۰) اب پروردگار جوہر طرح کی مہربانی کا چشمہ ہیں۔ جنہوں نے  تم کو سیدنا عیسیٰ مسیح  میں اپنی ابدی بزرگی کے  لئے بلایا تمہارے  تھوڑی مدت تک دکھ اٹھانے  کے  بعد آپ ہی تمہیں کامل اور قائم اور مضبوط کریں گے۔ (۱۱)ابد اآآباد انہیں کی سلطنت  رہے۔ آمین۔
        (۱۲) میں نے  سلوانس کی معرفت جو میری دانست میں دیانت دار بھائی ہے  مختصر طور پر لکھ کر تمہیں  نصیحت  کی اور یہ شہادت دی کہ پروردگار کی سچی مہربانی یہی ہے۔ اسی پر قائم رہو۔ (۱۳) جو بابل میں تمہاری طرح برگزیدہ ہے  وہ اور میرا پیارا بیٹا مرقس تمہیں سلام کہتے  ہیں۔ (۱۴) محبت سے  بوسہ لے  لے  کر آپس میں سلام کرو۔
        تم سب کو جو سیدنا عیسیٰ مسیح میں ہیں اطمینان حاصل ہوتا رہے۔



سیدنا عیسیٰ المسیح کی انجیل شریف
۲۷ پاروں  میں سے  ۲۱واں پارہ

رسولِ مقبول حضرتِ پطرس  کا تبلیغی خط ِ دوم





رکوع ۱


        (۱)شمعون پطرس کی طرف سے  جو سیدنا عیسیٰ مسیح کا بندہ اور رسول ہے  ان لوگوں کے  نام جنہوں نے  ہمارے  پروردگار اور منجی سیدنا عیسیٰ مسیح کی سچائی میں ہمارا سا قیمتی ایمان پایا ہے۔ (۲)پروردگار اور ہمارے  آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کی پہچان کے  سبب سے  مہربانی اور اطمینان تمہیں زیادہ ہوتا رہے۔
(۳) کیونکہ ان کی الٰہی قدرت نے  وہ سب چیزیں جو زندگی اور دین داری سے  متعلق ہیں ہمیں  اس کی پہچان کے  وسیلہ سے  عنایت کیں جس نے  ہم کو اپنی خاص بزرگی اور نیکی  کے  ذریعہ سے  بلایا۔ (۴) جن کے  باعث  انہوں نے  ہم سے  قیمتی اور نہایت  بڑے  وعدے  کئے  تاکہ  ان کے  وسیلہ سے  تم اس خرابی سے  چھوٹ کر جو دنیا میں بُری خواہش کے  سبب سے  ہے  ذات الٰہی میں شریک ہو جاؤ۔ پس اسی باعث تم اپنی طرف  سے  کمال  کوشش کر کے  اپنے  ایمان پر نیکی اور نیکی پر معرفت۔ (۶) اور معرفت  پر پرہیزگاری اور پرہیزگاری پر صبر اور صبر  پر دین داری۔ (۷) اور دین داری پر برادرانہ الفت اور برادرانہ الفت پر محبت بڑھاؤ۔ (۸) کیونکہ  اگر یہ باتیں  تم میں موجود ہوں اور زیادہ بھی ہوتی جائیں تو تم کو ہمارے  آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کے  پہچاننے  میں بے  کار اور بے  پھل نہ ہونے  دیں گی۔ (۹)اور جس میں یہ باتیں نہ ہوں وہ اندھا ہے  اور کوتاہ نظر اور اپنے  پہلے  گناہوں کے  دھوئے  جانے  کو بھولے  بیٹھا ہے۔ (۱۰) پس اے  دینی بھائیو!اپنے  بلاوے  اور برگزیدگی  کو ثابت کرنے  کی زیادہ کوشش کرو کیونکہ  اگر ایسا کرو گے  تو کبھی ٹھوکر نہ کھاؤ گے۔ (۱۱) بلکہ اس سے  تم ہمارے  آقا و مولا اور منجی سیدنا عیسیٰ مسیح کی ابدی بادشاہی میں بڑی عزت کے  ساتھ داخل کئے  جاؤ گے۔
        (۱۲) اس لئے  میں تمہیں یہ باتیں یاد دلانے  کو ہمیشہ مستعد رہوں گا اگرچہ تم ان سے  واقف اور اس حق بات پر قائم ہو جو تمہیں حاصل ہے۔ (۱۳) اور جب تک میں اس خیمہ میں ہوں تمہیں یاد دلا دلا کر ابھارنا اپنے  اوپر واجب سمجھتا ہوں۔ (۱۴) کیونکہ ہمارے  آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کے  بتانے  کے  موافق  مجھے  معلوم ہے  کہ میرے  خیمہ کے  گرائے  جانے  کا وقت آنے  والا ہے۔ (۱۵) پس میں ایسی کوشش کروں گا کہ میرے  انتقال کے  بعد تم ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھ سکو۔
(۱۶) کیونکہ جب ہم نے  تمہیں اپنے  آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کی قدرت اور آمد سے  واقف کیا تھا تو دغا بازی کی گھڑی ہوئی کہانیوں کی پیروی نہیں کی تھی بلکہ خود اس کی عظمت کو دیکھا تھا۔ (۱۷)کہ انہوں نے  پروردگار سے  اس وقت عزت اور بزرگی پائی جب اس افضل بزرگی میں سے  انہیں یہ آواز آئی کہ  یہ میرا پیار ا ابن ہے  ، جس سے  میں خوش ہوں۔ (۱۸) اور جب ہم ان کے  ساتھ مقدس پہاڑ پر تھے  تو آسمان سے  یہی آواز آتی سنی۔ (۱۹)اور ہمارے  پاس انبیاء کرام کا وہ کلام ہے  جو زیادہ معتبر ٹھہرا اور تم اچھا کرتے  ہو جو یہ سمجھ کر اس پر غور کرتے  ہو کہ وہ ایک چراغ ہے  جو اندھیری جگہ میں روشنی بخشتا ہے  جب تک پونہ پھٹے  اور صبح کا ستارہ تمہارے  دلوں میں نہ چمکے۔ (۲۰) اور پہلے یہ جان لو کہ کلامِ مقدس کی کسی نبوت کی بات کی تاویل کسی کے  ذاتی اختیار پر موقوف نہیں۔ (۲۱) کیونکہ نبوت کی کوئی بات آدمی کی خواہش سے  کبھی نہیں ہوئی بلکہ آدمی روحِ پاک کی تحریک کے  سبب سے  پروردگار کی طرف سے  بولتے  تھے۔



رکوع ۲


        (۱) اور جس طرح اس امت میں جھوٹے  نبی بھی تھے  اسی طرح تم میں بھی جھوٹے  استاد ہوں گے  جو پوشیدہ طور پر ہلاک کرنے  والی بدعتیں  نکالیں گے  اور اس مالک کا انکار کریں گے  جس نے  انہیں  مول لیا تھا اور اپنے  آپ کو جلد  ہلاکت  میں ڈالیں گے۔ (۲) اور بہتیرے ان کی شہوت پرستی کی پیروی کریں گے  جن کے  سبب سے  راہ حق کی بدنامی ہو گی۔ (۳) اور وہ لالچ  سے  باتیں بنا کر  تم کو اپنے  نفع کا سبب ٹھہرائیں گے  اور جو قدیم سے  ان کی سزا کا حکم ہو چکا ہے  اس کے  آنے  میں کچھ دیر نہیں اور ان کی ہلاکت  سوتی نہیں۔ (۴)کیونکہ  جب پروردگار نے  گناہ کرنے  والے  فرشتوں کو نہ چھوڑا بلکہ جہنم میں بھیج کر  تاریک غاروں میں ڈال دیا تاکہ  عدالت کے  دن تک حراست میں رہیں۔ (۵)اور نہ پہلی دنیا کو چھوڑا بلکہ بے  دین دنیا پر طوفان بھیج کر سچائی کی تبلیغ کرنے  والے  حضرت نوح کو مع اور سات آدمیوں کے  بچا لیا۔ (۶)اور سدوم اور عمورہ کے  شہروں کو خاک سیاہ کر دیا اور انہیں ہلاکت کی سزا دی اور آئندہ زمانہ کے  بے  دینوں کے  لئے جائے عبرت بنا دیا۔ (۷)اور دیانتدار حضرت لوط کو جو بے  دینوں کے  ناپاک چال چلن سے  دق تھے  رہائی بخشی۔ (۸) (چنانچہ وہ دیانتدار ان میں رہ کر  ان کے  بے  شرع کاموں کو دیکھ دیکھ کر اور سن سن کر گویا ہر روز اپنے  سچے  دل کو شکنجہ  میں کھینچتے  تھے  )۔ (۹)آقا و مولا دین داروں کی آزمائش سے  نکال لینے  اور بد کاروں کو عدالت کے  دن تک سزا میں رکھنا جانتے  ہیں۔ (۱۰)خصوصاً  ان کو جو ناپاک خواہشوں سے  جسم کی پیروی کرتے  ہیں اور حکومت کو ناچیز جانتے  ہیں۔ وہ گستاخی اور خود داری ہیں اور عزت داروں پر لعن طعن کرنے  سے  نہیں ڈرتے۔ (۱۱) باوجود یکہ فرشتے  جو طاقت اور قدرت میں ان سے  بڑے  ہیں مولا کے  سامنے  ان پر لعن طعن کے  ساتھ نالش نہیں کرتے۔ (۱۲)لیکن یہ لوگ بے  عقل جانوروں کی مانند ہیں جو پکڑے  جانے  اور ہلاک ہونے  کے  لئے  حیوان مطلق پیدا ہوئے  ہیں۔ جن باتوں سے  ناواقف ہیں ان کے  بارے  میں اوروں پر لعن طعن کرتے  ہیں۔ اپنی خرابی  میں خود خراب کئے  جائیں گے۔ (۱۳)دوسروں کے  بُرا کرنے  کے  بدلے  ان ہی کا براہو گا۔ ان کو دن دہاڑے عیاشی کرنے  میں مزہ آتا ہے۔ یہ داغ اور عیب ہیں۔ جب تمہارے ساتھ کھاتے  پیتے  ہیں تو اپنی طرف سے  محبت کی ضیافت کر کے  عیش  و عشرت کرتے  ہیں۔ (۱۴) ان کی آنکھیں  جن میں زنا کار عورتیں  بسی ہوئی ہیں گناہ  سے  رک نہیں سکتیں  وہ بے  قیام  دلوں کو پھنساتے  ہیں۔ ان کا دل لالچ کا مشتاق ہے۔ وہ لعنت  کی اولاد ہیں۔ (۱۵) وہ سیدھی راہ چھوڑ کر  گمراہ ہو گئے  ہیں اور بعور کے  بیٹے  بلعام کی راہ پر ہو لئے  جس نے  بد دیانتی کی مزدوری کو عزیز جانا۔ (۱۶)مگر اپنے  قصور پر یہ ملامت اٹھائی کہ ایک بے  زبان گدھی نے  آدمی کی طرح بول کر اس نبی کو دیوانگی سے  باز رکھا۔ (۱۷) وہ اندھے  کنویں ہیں اور ایسے  کہُر جسے  آندھی اڑاتی ہے۔ ان کے  لئے بے  حد تاریکی دھری ہے۔ (۱۸) وہ گھمنڈ کی بے  ہودہ باتیں بک بک کر شہوت پرستی کے  ذریعہ  سے  ان لوگوں کو جسمانی خواہشوں میں پھنساتے  ہیں جو گمراہوں میں سے  نکل ہی رہے  ہیں۔ (۱۹)وہ ان سے  تو آزادی کا وعدہ کرتے  ہیں اور آپ خرابی کے  غلام بنے  ہوئے  ہیں کیونکہ  جو شخص  جس سے  مغلوب ہے  وہ اس کا غلام ہے۔ (۲۰) اور جب وہ آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کی پہچان کے  وسیلہ سے  دنیا کی آلودگی سے  چھوٹ کر پھر ان میں پھنسے  اور ان سے  مغلوب ہوئے  تو ان کا پچھلا حال پہلے  سے  بھی بد تر ہوا۔ (۲۱)کیونکہ سچائی کی راہ کا نہ جانا ان کے  لئے  اس سے  بہتر ہوتا کہ  اسے  جان کر  اس پاک حکم سے پھر  جاتے  جو انہیں  سونپا گیا تھا۔ (۲۲) ان پر یہ سچی مثل صادق آتی ہے  کہ کُتا اپنی قے  کی طرف رجوع کرتا ہے  اور نہلائی ہوئی سورنی دلدل  میں لوٹنے  کی طرف۔



رکوع ۳


        (۱) اے  عزیزو! اب میں تمہیں یہ دوسرا خط لکھتا ہوں اور یا د دہانی کے  طور پر  دونوں خطوں سے  تمہارے  صاف دلوں کو ابھارتا ہوں۔ (۲) کہ تم ان باتوں کو جو پاک انبیاء نے پیشتر کہیں اور آقا و مولا اور منجی سیدنا عیسیٰ مسیح کے  اس حکم کو دیا رکھو جو تمہارے  رسولوں کی معرفت آیا تھا۔ (۳) اور یہ پہلے  جان لو کہ اخیر دنوں میں ایسے  ہنسی ٹھٹھا کرنے  والے  آئیں گے  جو اپنی خواہشوں کے  موافق  چلیں گے۔ (۴)اور کہیں گے  کہ اس کے  آنے  کا وعدہ کہاں گیا؟ کیونکہ جب سے  باپ دادا سوئے  ہیں اس وقت سے  اب تک سب کچھ  ویسا ہی جیسا خلقت کے  شروع سے  تھا۔ (۵)وہ تم جان بوجھ کر یہ بھول گئے  کہ پروردگار کے  کلام کے  ذریعہ سے  آسمان قدیم سے  موجود ہیں اور زمین پانی میں سے  بنی اور پانی میں قائم ہے۔ (۶)ان ہی کے  ذریعہ سے  اس زمانہ کی دنیا ڈوب کر ہلاک ہوئی۔ (۷)مگر اس وقت کے  آسمان اور زمین اسی کلام کے  ذریعہ سے  اس لئے  رکھے  ہیں کہ جلائے  جائیں اور وہ بے  دین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کے  دن تک محفوظ رہیں گے۔
        (۸) اے  عزیزو! یہ خاص بات تم پر پوشیدہ نہ رہے  کہ آقا و مولا کے  نزدیک ایک دن ہزار برس کے  برابر ہے  اور ہزار برس ایک دن کے  برابر ہے۔ (۹) پروردگار اپنے  وعدہ میں دیر نہیں کرتے جیسی دیر بعض لوگ سمجھتے  ہیں بلکہ  تمہارے  بارے  میں  تحمل کرتے  ہیں  اس لئے  کہ  کسی کی ہلاکت نہیں چاہتے  بلکہ یہ چاہتے  ہیں کہ سب کی توبہ تک نوبت  پہنچے۔ (۱۰) لیکن پروردگار کا دن چور کی طرح آ جائے  گا اس دن آسمان بڑے  شور و غل کے  ساتھ برباد ہو جائیں گے  اور اجرام فلک حرارت کی شدت سے  پگھل جائیں گے  اور زمین اور اس پر کے  کام جل جائیں گے۔ (۱۱)جب یہ سب چیزیں  اس طرح پگھلنے  والی ہیں تو تمہیں پاک چال چلن اور دین داری میں کیسا کچھ ہونا چاہیے۔ اور خدا کے  اس دن کے  آنے  کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہیے۔ جس کے  باعث آسمان آگ سے  پگھل جائیں گے  اور اجرام فلک حرارت  کی شدت سے  گل جائیں گے۔ (۱۳) لیکن اس کے  وعدہ کے  موافق  ہم نئے  آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے  ہیں جن میں  سچائی بسی رہے  گی۔
        (۱۴) پس اے  عزیزو! چونکہ تم ان باتوں کے  منتظر ہو اس لئے  کہ سامنے  اطمینان  کی حالت  میں بے  داغ اور بے  عیب نکلنے  کی کوشش کرو۔ (۱۵) اور ہمارے مولا کے  تحمل کو نجات سمجھو۔ چنانچہ  ہمارے  پیارے  بھائی پولوس نے  بھی اس حکمت  کے  موافق  جو انہیں عنایت ہوئی تمہیں  یہی لکھتا ہے۔ (۱۶) اور اپنے  سب خطوں میں ان باتوں کا ذکر کیا ہے  جن میں بعض  باتیں ایسی ہیں جن کا سمجھنا مشکل ہے  اور جاہل اور بے  قیام لوگ ان کے  معنوں  کو بھی اور صحیفوں کی طرح کھینچ تان کر اپنے  لئے  ہلاکت  پیدا کرتے  ہیں۔
(۱۷) پس اے  عزیزو! چونکہ تم پہلے  سے  آگاہ ہو اس لئے  ہوشیار رہو تاکہ  بے  دینوں کی گمراہی کی طرف کھینچ کر اپنی مضبوطی  کو چھوڑ نہ دو۔ (۱۸) بلکہ ہمارے آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کی مہربانی اور عرفان میں بڑھتے  جاؤ۔ انہی کی تمجید اب بھی ہو اور ابد تک ہوتی رہے۔ آمین۔


سیدنا عیسیٰ المسیح کی انجیل شریف
۲۷ پاروں  میں سے  ۲۴واں پارہ

رسولِ مقبول حضرتِ یحییٰ(یوحنا)  کا تبلیغی خط ِ اول





رکوع ۱: زندگی کا کلام


        (۱)اس زندگی کے  کلام کی بابت جو ابتدا سے  تھا اور جسے  ہم نے  سنا اور اپنی آنکھوں سے  دیکھا بلکہ غور سے  دیکھا اور اپنے  ہاتھوں سے  چھوا۔ (۲)(یہ زندگی ظاہر ہوئی اور ہم نے  اسے  دیکھا اور اس کی شہادت دیتے  ہیں اور اسی ہمیشہ کی زندگی کی تمہیں خبر دیتے  ہیں جو پروردگار کے  ساتھ تھی اور ہم پر ظاہر ہوئی )۔ (۳) جو کچھ ہم نے  دیکھا اور سنا ہے  تمہیں بھی اس کی خبر دیتے  ہیں تاکہ تم بھی ہمارے  شریک ہو اور ہماری شراکت  پروردگار کے  ساتھ اور اس کے  ابن سیدنا عیسیٰ مسیح کے  ساتھ ہے۔ (۴) اور یہ باتیں  ہم اس لئے  لکھتے  ہیں کہ ہماری خوشی پوری ہو جائے۔
پروردگارِ عالم نور ہیں
        (۵) اس سے  سن کر جو پیغام ہم تمہیں دیتے  ہیں  وہ یہ ہے  کہ  پروردگارِ عالم نور ہیں اور ان میں ذرا بھی تاریکی  نہیں۔ (۶) اگر ہم کہیں کہ ہماری ان کے  ساتھ شراکت ہے  اور پھر تاریکی میں چلیں تو ہم جھوٹے  ہیں اور حق پر عمل نہیں کرتے۔ (۷) لیکن اگر ہم نور میں چلیں  جس طرح کہ وہ نور میں ہیں تو ہماری آپس میں  شراکت ہے  اور ان کے  ابن سیدنا عیسیٰ مسیح کا خون ہمیں  تمام گناہ سے  پاک کرتا ہے۔ (۸)اگر ہم کہیں کہ ہم بے  گناہ ہیں تو اپنے  آپ کو فریب دیتے  ہیں اور ہم میں سچائی نہیں۔ (۹) اگر اپنے  گناہوں کا اقرار کریں  تو وہ ہمارے  گناہوں کے  معاف کرنے  اور ہمیں ساری بے  دینی سے  پاک کرنے  میں سچے  اور عادل ہیں۔ (۱۰) اگر کہیں کہ ہم نے  گناہ نہیں کیا تو انہیں جھوٹا ٹھہراتے  ہیں اور ان کا کلام ہم میں نہیں ہے۔



رکوع ۲


        (۱) اے  میرے  بچو!یہ باتیں  میں تمہیں اس لئے  لکھتا ہوں کہ تم گناہ نہ کرو اور اگر کوئی گناہ کرے  تو پروردگار کے  پاس ہمارے  ایک مددگار موجود ہیں یعنی سیدنا عیسیٰ مسیح دیانتدار۔ (۲) اور وہی ہمارے  گناہوں کا کفارہ ہیں اور نہ صرف ہمارے  ہی گناہوں کا بلکہ تمام دنیا کے  گناہوں کا بھی (۳)اگر ہم ان کے  حکموں پر عمل کریں گے  تو اس سے  ہمیں معلوم ہو گا کہ ہم انہیں جان گئے  ہیں۔ (۴) جو کوئی  یہ کہتا ہے  کہ  میں اسے  جان گیا ہوں اور اس کے  حکموں پر عمل نہیں کرتا وہ جھوٹا ہے  اور اس میں سچائی نہیں۔ (۵) ہاں جو کوئی اس کے  کلام پر عمل کرے  اس میں یقیناً  پروردگار کی محبت کامل ہو گئی ہے۔ ہمیں اسی سے  معلوم ہوتا ہے  کہ ہم اس میں ہیں۔ (۶) جو کوئی یہ کہتا ہے  کہ  میں اس میں قائم ہوں تو چاہیے  کہ یہ بھی اسی طرح چلے  جس طرح وہ چلتے  تھے۔
نیا حکم
        (۷)اے  عزیزو! میں تمہیں کوئی نیا حکم نہیں لکھتا بلکہ وہی پرانا حکم جو شروع سے  تمہیں ملا ہے۔ یہ پرانا حکم وہی کلام ہے  جو تم نے  سنا ہے۔ (۸) پھر تمہیں ایک نیا حکم لکھتا ہوں اور یہ بات اس پر اور تم پر صادق آتی ہے  کیونکہ تاریکی  مٹتی جاتی ہے  اور حقیقی نور چمکنا شروع ہو گیا ہے۔ (۹) جو کوئی یہ کہتا ہے  کہ  میں نور میں ہوں اور اپنے  بھائی سے  عداوت رکھتا ہے  وہ ابھی تک تاریکی ہی میں ہے۔ (۱۰) جو کوئی اپنے  بھائی سے  محبت کرتا ہے  وہ نور میں رہتا ہے  اور ٹھوکر نہیں کھائے  گا۔ (۱۱) لیکن جو اپنے  بھائی سے  عداوت  رکھتا ہے  وہ تاریکی میں ہے  اور تاریکی ہی میں چلتا ہے  اور یہ نہیں جانتا کہ کہاں جاتا ہے  کیونکہ تاریکی  نے  اس کی آنکھیں  اندھی کر دی ہیں۔
        (۱۲) اے  بچو! میں تمہیں  اس لئے  لکھتا ہوں کہ  کہ ان کے  نام میں تمہارے  گناہ معاف ہوئے۔ (۳)اے  بزرگو! میں تمہیں اس لئے  لکھتا ہوں کہ جو ابتدا سے  ہے  اسے  تم جان گئے  ہو۔ اے  جوانو! میں تمہیں اس لئے  لکھتا ہوں کہ تم اس شریر  پر غالب آ گئے  ہو۔ اے  لڑکو! میں نے  تمہیں  اس لئے  لکھا ہے  کہ  تم پروردگار کو جان گئے  ہو۔ (۱۴) اے  بزرگو ! میں نے  تمہیں  اس لئے  لکھا ہے  کہ  جو ابتدا سے  ہے  اس کو تم جان گئے  ہو۔ اے  جوانو! میں نے  تمہیں اس لئے  لکھا ہے  کہ  تم مضبوط ہو اور پروردگار کا کلام تم میں قائم رہتا ہے۔ اور تم اس شریر  پر غالب آ گئے  ہو۔ (۱۵) نہ دنیا سے  محبت کرو ان چیزوں سے  جو دنیا میں ہیں  جو کوئی دنیا سے  محبت کرتا ہے  اس میں پروردگار کی محبت نہیں۔ (۱۶)کیونکہ جو کچھ دنیا میں ہے  یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ پروردگار کی طرف سے  نہیں بلکہ  دنیا کی طرف سے  ہے۔ (۱۷)دنیا اور اس کی خواہش  دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو پروردگار کی مرضی پرچلتا ہے  وہ ابد تک قائم رہے  گا۔
        (۱۸) اے  لڑکو! یہ اخیر وقت ہے  اور جیسا تم نے  سنا ہے  کہ مخالفِ مسیح آنے  والا ہے۔ اس کے  موافق  اب بھی بہت سے  مخالفِ مسیح پیدا ہو گئے  ہیں۔ اس سے  ہم جانتے  ہیں کہ یہ اخیر وقت ہے۔ (۱۹) وہ نکلتے  تو ہم ہی میں سے  مگر ہم میں سے  تھے  نہیں۔ اس لئے کہ اگر ہم میں سے  ہوتے  تو ہمارے  ساتھ رہتے  لیکن نکل اس لئے  گئے کہ یہ ظاہر ہو کہ  وہ سب ہم میں سے  نہیں ہیں۔ (۲۰) اور تم کو تو اس قدوس کی طرف سے  مسح کیا گیا ہے  اور تم سب کچھ جانتے  ہو۔ (۲۱) میں نے  تمہیں  اس لئے  نہیں لکھا کہ تم سچائی کو نہیں جانتے  بلکہ اس لئے  کہ تم اسے  جانتے  ہو اور اس لئے  کہ کوئی جھوٹ سچائی کی طرف سے  نہیں ہے۔ (۲۲) کون جھوٹا ہے  سوا اس کے  جو سیدنا عیسیٰ کے  مسیح ہونے  کا انکار کرتا ہے ؟ مخالف مسیح وہی ہے  جو پروردگار اور ابن اللہ کا انکار کرتا ہے۔ (۲۳) جو کوئی ابن اللہ  کا انکار کرتا ہے  اس کے  پاس پروردگار بھی نہیں۔ جو ابن اللہ کا اقرار کرتا ہے  اس کے  پاس پروردگار بھی ہے۔ (۲۴) جو تم نے  شروع سے  سنا ہے  وہی تم میں قائم رہے۔ جو تم نے  شروع سے  سنا ہے  اگر وہ تم میں قائم رہے  تو تم بھی ابن اللہ اور اللہ و تبارک تعالیٰ میں قائم رہو گے۔ (۲۵) اور جس کا اس نے  ہم سے  وعدہ کیا وہ ہمیشہ کی زندگی ہے۔ (۲۶) میں نے  یہ باتیں  تمہیں ان کی بابت لکھی ہیں جو تمہیں فریب دیتے  ہیں (۲۷) اور تمہارا  وہ مسح جو اس کی طرف سے  کیا گیا تم میں قائم رہتا ہے  اور تم اس کے  محتاج نہیں کہ کوئی  تمہیں سکھائے  بلکہ جس طرح وہ مسح جو اس کی طرف سے  کیا گیا تمہیں  سب باتیں سکھاتا ہے  اور سچا ہے  اور جھوٹا نہیں اور جس طرح  اس نے  تمہیں  سکھایا اسی طرح  تم اس میں قائم رہتے  ہو۔ (۲۸) غرض اے  بچو! اس میں قائم رہو تاکہ  جب وہ ظاہر ہوئیں  تو ہمیں دلیری ہو اور ہم ان کے  آنے  پر ان کے  سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ (۲۹) اگر تم جانتے  ہو کہ وہ سچے  ہیں تو یہ بھی جانتے  ہو کہ جو کوئی سچائی کے  کام کرتا ہے  وہ ان سے  پیدا ہوا ہے۔



رکوع ۳

        (۱)دیکھو پروردگارِ عالم نے  ہم سے  کیسی محبت کی ہے  کہ ہم نے  پروردگار کے  فرزند کہلائے  اور ہم ہیں بھی۔ دنیا ہمیں اس لئے  نہیں جانتی کہ اس نے  انہیں بھی نہیں جانا۔ (۲)عزیزو! ہم اس وقت  پروردگار کے  فرزند ہیں اور ابھی تک یہ ظاہر نہیں ہوا کہ ہم کیا کچھ ہوں گے۔ اتنا جانتے  ہیں کہ جب وہ ظاہر ہونگے  تو ہم بھی ان کی مانند ہوں گے  کیونکہ ان کو ویسا ہی دیکھیں گے  جیسا وہ ہیں۔ (۳) اور جو کوئی  ان سے یہ امید رکھتا ہے  اپنے  آپ کو ویسا ہی پاک کرتا ہے  جیسے  وہ پاک ہیں۔ (۴)جو کوئی گناہ کرتا ہے  وہ شرع کی مخالفت  کرتا ہے  اور گناہ شر کی مخالفت ہی ہے۔ (۵) اور تم جانتے  ہو کہ وہ اس لئے  ظاہر ہوئے  تھے  کہ گناہوں کو اٹھا لے  جائیں اور ان کی ذات میں گناہ نہیں۔ (۶)جو کوئی  ان میں قائم رہتا ہے  وہ گناہ نہیں کرتا۔ جو کوئی گناہ کرتا ہے  نہ اس نے  انہیں دیکھا اور نہ جانا ہے۔ (۷)اے  بچو! کسی کے  فریب میں نہ آنا۔ جو سچائی کے  کام کرتا ہے  وہی ان کی طرح سچا ہے۔ (۸) جو شخص گناہ کرتا ہے  وہ ابلیس مردود سے  ہے  کیونکہ  ابلیس شروع ہی سے  گناہ کرتا رہا ہے۔ ابن اللہ اسی لئے  ظاہر ہوئے  تھے  کہ ابلیس مردود کے  کاموں کو مٹائیں۔ (۹) جو کوئی پروردگار سے  پیدا ہوا ہے  وہ گناہ نہیں کرتا کیونکہ  ان کا تخم اس میں رہتا ہے  بلکہ وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ  پروردگار سے  پیدا ہوا ہے۔ (۱۰) اسی سے  پروردگارِ عالم کے  فرزند اور ابلیس کے  فرزند ظاہر ہوتے  ہیں۔ جو کوئی دیانتداری کے  کام نہیں کرتا وہ پروردگار سے  نہیں اور وہ بھی جو اپنے  بھائی سے  محبت نہیں رکھتا۔
ایک دوسرے  سے  محبت
(۱۱) کیونکہ جو پیغام تم نے  شروع سے  سنا وہ یہ ہے  کہ ہم ایک دوسرے  سے  محبت کریں۔ (۱۲)اور قائن کی مانند نہ بنیں جو اس شریر سے  تھا اور جس نے  اپنے  بھائی کو قتل کیا اور اس نے  کس واسطے  اسے  قتل کیا؟ اس واسطے  کہ اس کے  کام بُرے  تھے  اور اس کے  بھائی  کے  کام سچائی کے  تھے۔
        (۱۳)اے  دینی بھائیو! اگر دنیا تم سے  عداوت رکھتی ہے  تو تعجب نہ کرو۔ (۱۴) ہم جانتے  ہیں کہ موت سے  نکل کر زندگی میں داخل ہو گئے  کیونکہ ہم بھائیوں سے  محبت کرتے  ہیں۔ جو محبت نہیں کرتا وہ موت کی حالت میں رہتا ہے۔ (۱۵) جو کوئی اپنے  بھائی سے  عداوت رکھتا ہے  وہ خونی ہے  اور تم جانتے  ہو کہ کسی خونی میں ہمیشہ کی زندگی موجود نہیں رہتی۔ (۱۶) ہم نے  محبت  کو اسی سے  جانا ہے  کہ انہوں نے  ہمارے  واسطے  اپنی جان دے  دی اور ہم پر بھی بھائیو کے  واسطے  جان دینا فرض  ہے۔ (۱۷)جس کسی کے  پاس دنیا کا مال ہو اور وہ اپنے  بھائی کو محتاج دیکھ کر رحم کرنے  میں دریغ کرے  تو اس میں پروردگار کی محبت کیونکر قائم رہ سکتی ہے ؟ (۱۸) اے  بچو! ہم کلام اور زبان ہی سے  نہیں بلکہ کام اور سچائی کے  ذریعہ سے  محبت کریں۔
(۱۹) اس سے  ہم جانیں گے  کہ حق کے  ہیں اور جس بات میں ہمارا دل ہمیں الزام دے  گا اس کے  بارے  میں ہم اس کے  حضور اپنی دل جمعی کریں گے۔ (۲۰) کیونکہ پروردگار ہمارے  دل سے  بڑے  ہیں اور سب کچھ جانتے  ہیں۔ (۲۱)اے  عزیز! جب ہمارا دل ہمیں الزام نہیں دیتا تو ہمیں پروردگار کے  سامنے دلیری ہو جاتی ہے۔ (۲۲)اور جو  کچھ ہم مانگتے  ہیں وہ ہمیں  ان کی طرف سے  ملتا ہے  کیونکہ ہم انکے  حکموں پر عمل کرتے  ہیں اور جو کچھ وہ پسند کرتے  ہیں اسے  بجا لاتے  ہیں۔ (۲۳) اور ان کا حکم یہ ہے  کہ  ہم ابن اللہ سیدنا عیسیٰ مسیح کے  نام پر  ایمان لائیں اور جیسا انہوں نے  ہمیں حکم دیا اس کے  موافق آپس میں محبت کریں۔ (۲۴) اور جو ان کے  حکموں پر عمل کرتا ہے  وہ ان میں اور یہ اس میں قائم رہتے  ہیں اور اسی سے  یعنی اس روح سے  جو انہوں نے  ہمیں عطا فرمائی ہے  ہم جانتے  ہیں کہ  وہ ہم میں قائم رہتے  ہیں۔


رکوع ۴


        (۱) اے  عزیزو! ہر ایک روح کا یقین نہ کرو بلکہ روحوں کو آزماؤ کہ وہ پروردگار کی طرف سے  ہیں یا نہیں کیونکہ  بہت سے جھوٹے نبی دنیا میں نکل کھڑے  ہوئے  ہیں۔ (۲)پروردگار کے  ر وح کو تم اس طرح پہچان سکتے  ہو کہ جو کوئی روح اقرار کرے  کہ سیدنا عیسیٰ مسیح مجسم ہو کر آئے  ہیں وہ پروردگار کی طرف سے  ہیں (۳) اور جو کوئی روح سیدنا عیسیٰ کا اقرار نہ کرے  وہ پروردگار کی طرف سے  نہیں اور یہی مخالف مسیح کی روح ہے  جس کی خبر تم سن چکے  ہو کہ وہ آنے  والی ہے  بلکہ اب بھی دنیا میں موجود ہے۔ (۴) اے  بچو! تم پروردگار سے  ہو اور ان پر غالب آ گئے  ہو کیونکہ جو تم میں ہے  وہ اس سے  بڑا ہے  جو دنیا میں ہے۔ (۵) وہ دنیا سے  ہیں۔ اس واسطے  دنیا کی سی کہتے  ہیں اور دنیا ان کی سنتی ہے۔ (۶) ہم پروردگار سے  ہیں۔ جو پروردگار کو جانتا ہے  وہ ہماری سنتا ہے۔ جو پروردگار سے  نہیں وہ ہماری نہیں سنتا۔ اسی سے  ہم حق کی روح اور گمراہی کی روح کو پہچان لیتے  ہیں۔
پروردگارِ عالم محبت ہیں
        (۷)اے  عزیزو! آؤ ہم ایک دوسرے  سے  محبت کریں  کیونکہ محبت  پروردگار کی طرف سے  ہے  اور جو کوئی  محبت کرتا ہے  وہ پروردگار سے  پیدا ہوا ہے  اور پروردگارِ عالم کو جانتا ہے۔ (۸) جو محبت نہیں کرتا وہ پروردگار کو نہیں جانتا کیونکہ پروردگار محبت ہیں۔ (۹)جو محبت  پروردگار کو ہم سے  ہے  وہ اس سے  ظاہر ہوئی کہ پروردگار نے  اپنے  اکلوتے  اِبن کو دنیا میں بھیجا ہے  تاکہ ہم ان کے  سبب سے  زندہ رہیں۔ (۱۰) محبت اس میں نہیں کہ ہم نے  پروردگار سے  محبت کی بلکہ اس میں ہے  کہ انہوں نے  ہم سے  محبت کی اور ہمارے  گناہوں کے  کفارہ کے  لئے اپنے  اِبن کو بھیجا۔ (۱۱) اے  عزیزو! جب پروردگار نے  ہم سے  ایسی محبت کی تو ہم پر بھی ایک دوسرے  سے  محبت کرنا فرض ہے۔ (۱۲) پروردگار کو کبھی کسی نے  نہیں دیکھا۔ اگر ہم ایک دوسرے  سے  محبت کرتے  ہیں تو پروردگار ہم میں قیام کرتے  ہیں اور ان کی محبت  ہمارے  دل میں کامل ہو گئی ہے۔ (۱۳) چونکہ  انہوں نے  اپنے  روح میں سے  ہمیں دیا ہے  اس سے  ہم جانتے  ہیں کہ  ہم ان میں قائم رہتے  ہیں اور وہ ہم میں۔ (۱۴) اور ہم نے  دیکھ لیا ہے  اور شہادت دیتے  ہیں کہ پروردگار نے  ابن اللہ کو دنیا کا منجی کر کے  بھیجا ہے۔ (۱۵) جو کوئی اقرار کرتا ہے  کہ سیدنا عیسیٰ ابن اللہ ہیں اللہ و تبارک تعالیٰ اس میں قیام کرتے  ہیں اور وہ پاک پروردگار میں۔ (۱۶) جو محبت پروردگار کو ہم سے  ہے  اس کو ہم جان گئے  اور ہمیں اس کا یقین ہے۔ پروردگار محبت ہیں اور جو محبت  میں قائم رہتا ہے  وہ پروردگارِ عالم میں قائم رہتا ہے  اور پروردگار اس میں قائم رہتے  ہیں۔ (۱۷) اسی سبب سے محبت  ہم میں کامل ہو گئی ہے  تاکہ ہمیں  عدالت کے  دن دلیری ہو کیونکہ  جیسے  وہ ہیں  ویسے  ہی دنیا میں ہم بھی ہیں۔ (۱۸)محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف دور کر دیتی ہے  کیونکہ خوف سے  عذاب ہوتا ہے  اور کوئی خوف کرنے  والا محبت میں کامل نہیں ہوا۔ (۱۹) ہم اس لئے  محبت کرتے  ہیں  کہ پہلے  انہوں نے  ہم سے  محبت کی۔ (۲۰) اگر کوئی کہے  کہ میں پروردگار سے محبت کرتا ہوں اور وہ اپنے  بھائی  سے  عداوت کرے  تو جھوٹا ہے  کیونکہ جو اپنے  بھائی سے  جسے  اس نے  دیکھا ہے  محبت نہیں کرتا وہ پروردگار سے  بھی جسے  اس نے  نہیں دیکھا محبت نہیں کر سکتا۔ (۲۱)اور ہم کو ان کی طرف سے  یہ حکم ملا ہے  کہ جو کوئی پروردگار عالم سے  محبت کرتا ہے  وہ اپنے  بھائی سے  بھی محبت کرے۔



رکوع ۵


        (۱) جس کا یہ ایمان ہے  کہ سیدنا عیسیٰ ہی مسیح ہیں وہ پروردگار سے  پیدا ہوا ہے  اور جو کوئی والد سے  محبت کرتا ہے  وہ اس کی اولاد سے  بھی محبت کرتا ہے۔ (۲) جب ہم پروردگار سے  محبت کرتے  اور ان کے  حکموں پر عمل کرتے  ہیں تو اس سے  معلوم ہو جاتا ہے  کہ پروردگار  کے  فرزندوں سے  بھی محبت کرتے  ہیں۔ (۳)اور پروردگار کی محبت یہ ہے  کہ  ہم ان کے  حکموں پر عمل کریں اور ان کے  حکم سخت نہیں۔ (۴) جو کوئی  پروردگار سے  پیدا ہوا ہے  وہ دنیا پر غالب آتا ہے  اور وہ غلبہ جس سے  دنیا مغلوب ہوئی ہے  ہمارا ایمان ہے۔ (۵)دنیا کا مغلوب کرنے  والا کون ہے  سوا اس شخص کے  جس کا یہ ایمان ہے  کہ سیدنا عیسیٰ مسیح ابن اللہ ہیں؟
(۶)یہی ہے  وہ جو پانی اور خون کے  وسیلہ سے  آئے  تھے  یعنی سیدنا عیسیٰ مسیح وہ نہ فقط پانی کے  وسیلہ سے  بلکہ پانی اور خون دونوں کے  وسیلہ سے  آئے  تھے۔ (۷) اور جو گواہی دیتا ہے  وہ روح ہے  کیونکہ  روح سچائی ہے۔ (۸) اور گواہی دینے  والے  تین ہیں۔ روح اور پانی اور خون اور یہ تینوں  ایک ہی بات پر متفق ہیں۔ (۹) جب ہم آدمیوں  کی شہادت قبول کر لیتے  ہیں تو پروردگار کی شہادت  تو اس سے  بڑھ کر ہے  اور پروردگار کی شہادت  یہ ہے  کہ  انہوں نے  اپنے  اِبن اللہ  کے  حق میں شہادت دی ہے۔ (۱۰) جو اِبن اللہ پر ایمان رکھتا ہے  وہ اپنے  آپ میں  شہادت رکھتا ہے۔ جس نے  اللہ و تبارک تعالیٰ کا یقین نہیں کیا اس نے اسے  جھوٹا ٹھہرایا کیونکہ  وہ اس شہادت پر جو پروردگار نے  اپنے  اِبن اللہ کے  حق میں دی ہے  ایمان نہیں لایا۔ (۱۱)اور وہ شہادت یہ ہے  کہ  پروردگار نے  ہمیں ہمیشہ کی زندگی عطا فرمائی اور یہ زندگی  ان کے  اِبن میں ہے۔ (۱۲) جس کے  پاس ابن اللہ ہیں اس کے  پاس زندگی ہے  اور جس کے  پاس ابن اللہ نہیں اس کے  پاس زندگی بھی نہیں۔
پروردگار کے  ساتھ ہمیشہ کی زندگی
        (۱۳) میں نے  تم کو جو ابن اللہ کے  نام پر ایمان لائے  ہو یہ باتیں اس لئے  لکھیں کہ تمہیں معلوم ہو کہ ہمیشہ کی زندگی رکھتے  ہو۔ (۱۴) اور ہمیں  جوان کے  سامنے  دلیری ہے  اس کا سبب یہ ہے  کہ  اگر ان کی رضا کے  موافق کچھ مانگتے  ہیں تو وہ ہماری سنتے  ہیں۔ (۱۵)اور جب ہم جانتے  ہیں کہ  جو کچھ ہم مانگتے  ہیں وہ ہماری سنتے  ہیں تو یہ بھی جانتے  ہیں کہ  جو کچھ ہم نے  ان سے  مانگا ہے  وہ پایا ہے۔ (۱۶)اگر کوئی اپنے  بھائی  کو ایسا گناہ کرتے  دیکھے  جس کا نتیجہ  موت نہ ہو تو دعا کرے۔ پروردگار اس کے  وسیلہ سے  زندگی عطا فرمائیں گے۔ ان ہی کو  جنہوں نے ایسا گناہ نہیں کیا جس کا نتیجہ  موت ہو۔ گناہ ایسا بھی ہے  جس کا نتیجہ  موت ہے۔ اس کی بابت  دعا کرنے  کو میں نہیں کہتا۔ (۱۷)ہے  تو ہر طرح کی بد دیانتی گناہ مگر ایسا گناہ بھی ہے  جس کا نتیجہ موت  نہیں۔
        (۱۸) ہم جانتے  ہیں کہ  جو کوئی پروردگار سے  پیدا ہوا ہے  وہ گناہ  نہیں کرتا بلکہ اس کی حفاظت  وہ کرتا ہے  پروردگار سے  پیدا ہوا اور وہ شریر اسے  چھونے  نہیں پاتا۔ (۱۹) ہم جانتے  ہیں کہ  ہم پروردگار سے  ہیں اور ساری دنیا اس شریر  کے  قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔ (۲۰)اور یہ بھی جانتے  ہیں کہ  اِبن اللہ آ گئے  ہیں اور انہوں نے ہمیں یہ سمجھ بخشی ہے  تاکہ ان کو جو حقیقی ہیں جانیں اور ہم اس میں جو حقیقی ہیں یعنی ان کے  اِبن سیدنا عیسیٰ مسیح  میں ہیں۔ حقیقی پروردگار اور ہمیشہ کی زندگی یہی ہے۔ (۲۱) اے  بچو اپنے  آپ کو بتوُں سے  بچائے  رکھو۔





سیدنا عیسیٰ المسیح کی انجیل شریف
۲۷ پاروں  میں سے  ۲۴واں پارہ

رسولِ مقبول حضرتِ یحییٰ (یوحنا)  کا تبلیغی خطِ دوم





رکوع ۱


        (۱)مجھ بزرگ کی طرف سے  اس برگزیدہ بی بی اور اس کے  فرزندوں کے  نام جن سے  میں اس سچائی کے  سبب سے  سچی محبت کرتا ہوں جو ہم میں قائم رہتی ہے  اور ابد تک ہمارے  ساتھ رہے  گی۔ (۲)اور صرف میں ہی نہیں بلکہ وہ سب بھی محبت  کرتے ہیں جو حق سے  واقف ہیں۔ (۳)پروردگارِ عالم اور ابن اللہ کی طرف سے  مہربانی اور رحم اور اطمینان، سچائی اور محبت سمیت ہمارے  شامل حال  رہیں گے۔
سچائی اور محبت
        (۴)میں بہت خوش ہوا کہ میں نے  تمہارے  بعض لڑکوں کو اس حکم کے  مطابق جو ہمیں پروردگار کی طرف سے  ملا تھا حقیقت میں چلتے  ہوئے  پایا۔ (۵)اب اے  بی بی  میں تمہیں  کوئی نیا حکم نہیں بلکہ وہی جو شروع سے  ہمارے  پاس ہے  لکھتا اور تم سے  منت کر کے کہتا ہوں کہ آؤ ہم ایک دوسرے  سے  محبت رکھیں۔ (۶)اور محبت یہ ہے  کہ  ہم ان کے  حکموں پر چلیں۔ یہ وہی حکم ہے  جو تم نے  شروع سے  سنا ہے  کہ  تمہیں اس پر چلنا چاہیے۔ (۷) کیونکہ بہت سے  ایسے  گمراہ کرنے  والے  دنیا میں نکل کھڑے  ہوئے  ہیں جو سیدنا عیسیٰ مسیح کے مجسم ہو کر آنے  کا اقرار نہیں کرتے۔ گمراہ کرنے  والا اور مخالف مسیح یہی ہے۔ (۸) اپنی بابت  خبر دار رہو تاکہ  جو محنت ہم نے  کی ہے  وہ تمہارے سبب سے  ضائع نہ ہو جائے  بلکہ تم کو پورا اجر ملے۔ (۹) جو کوئی آگے  بڑھ جاتا ہے  اور سیدنا مسیح کی تعلیم پر قائم نہیں رہتا اس کے  پاس  پروردگار نہیں۔ جو اس تعلیم پر قائم رہتا ہے اس کے  پاس پروردگار بھی اور ابن اللہ بھی۔ (۱۰) اگر کوئی تمہارے  پاس آئے  اور یہ تعلیم نہ دے  تو اسے  گھر میں آنے  دو اور نہ سلام کرو۔ (۱۱)کیونکہ جو کوئی  ایسے  شخص کو سلام کرتا ہے  وہ اس کے  بُرے  کاموں میں شریک ہوتا ہے۔
        (۱۲) مجھے  بہت سی باتیں  تم کو لکھنا ہے  مگر کاغذ اور سیاہی سے  لکھنا نہیں  چاہتا بلکہ  تمہارے  پاس آنے  اور روبرو بات چیت کرنے  کی امید رکھتا ہوں تاکہ تمہاری خوشی کامل ہو۔ (۱۳) تمہاری برگزیدہ بہن کے  لڑکے تمہیں سلام کہتے  ہیں۔



سیدنا عیسیٰ المسیح کی انجیل شریف

۲۷ پاروں  میں سے  ۲۵واں پارہ

رسولِ مقبول حضرتِ یحییٰ(یوحنا)  کا تبلیغی خطِ سوم





رکوع ۱


        (۱)مجھ بزرگ کی طرف سے  اس پیارے  گیس کے  نام جس سے  میں سچی محبت کرتا ہوں۔ (۲)اے  پیارے  ! میں یہ دعا کرتا ہوں کہ جس طرح تم روحانی ترقی کر رہے  ہو اسی طرح  سب باتوں میں ترقی کرو اور تندرست رہو۔ (۳)کیونکہ جب بھائیوں نے  آ کر تمہاری اس سچائی  کی شہادت دی جس پر تم حقیقت میں چلتے  ہو تو میں نہایت خوش ہوا۔ (۴) میرے  لئے  اس سے  بڑھ کر اور کوئی خوشی نہیں کہ  میں اپنے  فرزندوں کو حق پر چلتے  ہوئے  سنوں۔
        (۵)اے  پیارے  ! جو کچھ تم ان بھائیوں کے  ساتھ کرتے  ہو جو پردیسی بھی ہیں وہ دیانت سے  کرتا ہے۔ (۶)انہوں نے جماعت کے  سامنے  تمہاری محبت کی شہادت دی تھی۔ اگر تم انہیں اس طرح روانہ کرو گے  جس طرح پروردگار کے  لوگوں کو مناسب ہے  تو اچھا کرو گے۔ (۷) کیونکہ وہ اس نام کی خاطر نکلے  ہیں اور مشرکین سے  کچھ نہیں لیتے۔ (۸)پس ایسوں کی خاطر داری کرنا ہم پر فرض ہے  تاکہ ہم بھی حق کی تائید میں ان کے  ہم خدمت ہوں۔
        (۹) میں نے  جماعت کو کچھ لکھا تھا مگر دیترفیس جو ان میں بڑا بننا چاہتا ہے ہمیں قبول نہیں کرتا۔ (۱۰) پس جب میں آؤں گا تو اس کے  کاموں کو جو وہ کر رہا ہے  یاد دلاؤں گا کہ ہمارے  حق میں بُری باتیں  بکتا ہے  اور ان پر قناعت  نہ کر کے  خود بھی بھائیوں کو قبول نہیں کرتا اور جو قبول کرنا چاہتے  ہیں ان کو بھی منع کرتا ہے  اور جماعت سے  نکال دیتا ہے۔ (۱۱) اے  پیارے  ! بدی کی نہیں بلکہ نیکی کی پیروی کرو۔ نیکی کرنے  والا پروردگار سے  ہے۔ بدی کرنے  والے  نے  پروردگار کو نہیں دیکھا۔ (۱۲)دیمیترس کے  بارے  میں سب نے  اور خود حق نے  بھی  شہادت دی اور ہم بھی شہادت دیتے  ہیں اور تم جانتے  ہو کہ ہماری شہادت سچی ہے۔
        (۱۳) مجھے  لکھنا تو تم کو بہت کچھ تھا مگر سیاہی اور قلم سے  تمہیں لکھنا نہیں چاہتا۔ (۱۴) بلکہ تم سے  جلد ملنے کی امید رکھتا ہوں اس وقت ہم روبرو  د ابھارادّ دئبات چیت کریں گے۔ تمہیں اطمینان حاصل ہوتا رہے۔ یہاں کے  دوست تمہیں سلام کہتے  ہیں۔ تم وہاں کے  دوستوں سے  نام بہ نام سلام کہو۔





سیدنا عیسیٰ المسیح کی انجیل شریف
۲۷ پاروں  میں سے  ۲۶واں پارہ

رسولِ مقبول حضرتِ یہوداہ  کا تبلیغی خط






رکوع ۱


        (۱)یہوداہ کی طرف سے  جو سیدنا عیسیٰ مسیح کا بندہ اور حضرت یعقوب کا بھائی ہے  ان بلائے  ہوؤں کے  نام جو پروردگار میں عزیز اور سیدنا عیسیٰ مسیح کے  لئے  محفوظ ہیں۔ (۲)رحم اور اطمینان اور محبت تم کو زیادہ حاصل ہوتی رہے۔
        (۳) اے  پیارو! جس وقت میں تم کو اس نجات کی بابت لکھنے  میں کمال کوشش کر رہا تھا جس میں ہم سب شریک ہیں تو میں نے  تمہیں یہ نصیحت لکھنا ضرور جانا کہ  تم اس ایمان کے  واسطے  جانفشانی کرو جو مومنین کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا۔ (۴) کیونکہ بعض ایسے  شخص چپکے  سے  ہم میں آملے  ہیں جن کی اس سزا کا ذکر قدیم زمانہ میں پیشتر سے  لکھا گیا تھا۔ یہ بے  دین ہیں اور ہمارے  پروردگار کی مہربانی  کو شہوت پرستی سے  بدل ڈالتے  ہیں اور ہمارے  واحِد مالک اور آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کا انکار کرتے  ہیں۔
        (۵) پس اگرچہ تم سب باتیں ایک بار جان چکے  ہو تو بھی یہ بات تمہیں  یاد دلانا چاہتا ہوں کہ پروردگار نے  ایک امت کو ملکِ مصر میں سے  چھڑانے  کے  بعد انہیں ہلاک کیا جو ایمان نہ لائے۔ (۶) اور جن فرشتوں، روزِ عظیم کی عدالت تک رکھا ہے۔ (۷) اسی طرح سدوم اور عمورہ اور ان کے  آس پاس کے  شہر جو ان کی طرح حرام کاری میں پڑ گئے  اور غیر جسم کی طرف راغب ہوئے  ہمیشہ کی آگ کی سزا میں گرفتار  ہو کر جائ عبرت  ٹھہرے  ہیں۔ (۸) تو بھی یہ لوگ اپنے  وہموں میں مبتلا ہو کر ان کی طرح جسم کو ناپاک کرتے  اور حکومت کو  ناچیز جانتے  اور عزت داروں پر لعن طعن کرتے  ہیں۔ (۹) لیکن مقرب فرشتہ میکائیل نے  حضرت موسیٰ کی لاش کی بابت ابلیس سے  بحث و تکرار کرتے  وقت لعن طعن کے  ساتھ اس پر نالش کرنے  کی جرات نہ کی بلکہ یہ کہا کہ پروردگار تجھے  ملامت کریں۔ (۱۰)مگر یہ جن باتوں کو نہیں جانتے ان پر لعن طعن  کرتے  ہیں اور جن کو بے  عقل جانوروں کی طرح طبعی  طور پر جانتے  ہیں ان میں اپنے آپ کو خراب کرتے  ہیں۔ (۱۱)ان پر افسوس ! کہ یہ قائن کی راہ پر چلے  اور مزدوری کے  لئے  بڑی حرص سے  بلعام کی سی گمراہی  اختیار کی اور قورح کی طرح  مخالفت کر کے  ہلاک ہوئے  ہیں۔ (۱۲) یہ تمہاری  محبت  کی ضیافتوں میں تمہارے  ساتھ کھاتے  پیتے  وقت  گو دریا  کی پوشیدہ چٹانیں ہیں۔ یہ بے  دھڑک اپنا پیٹ  بھرنے  والے چروا ہے  ہیں۔ یہ بے  پانی کے  بادل ہیں جنہیں  ہوائیں  اڑا لے  جاتی ہیں۔ یہ پت جھڑ کے بے  پھل درخت ہیں جو دونوں طرح سے  مردہ اور جڑ سے  اکھڑے  ہوئے  ہیں۔ (۱۳)یہ سمندر کی پر جوش موجیں ہیں جو اپنی بے  شرمی کے  جھاگ اچھالتی ہیں۔ یہ وہ آوارہ گرد ستارے ہیں جن کے  لئے ابد تک بے  حد تاریکی، دھری ہے۔ (۱۴) ان کے  بارے  میں  حضرت حنوک(ادریس) نے  بھی جو حضرت آدم سے  ساتویں پشت میں تھے  یہ پیشین گوئی کی تھی کہ دیکھو پروردگار اپنے  لاکھوں مقدسوں کے  ساتھ آئیں۔ (۱۵) تاکہ سب  آدمیوں کا انصاف کریں اور سب بے  دینوں کو ان کی بے  دینی کے  ان سب کاموں کے  سبب سے  جو انہوں نے  بے  دینی سے  کئے  ہیں اور ان سب سخت  باتوں کے  سبب سے  جو بے  دین گنہگاروں نے  اس کی مخالفت میں کہی  ہیں قصور وار ٹھہرائے۔ (۱۶) یہ بڑبڑانے  والے  شکایت  کرنے  والے  ہیں اور اپنی خواہشوں کے  موافق چلتے  ہیں اور اپنے  منہ سے  بڑے  بول بولتے  ہیں اور نفع کے  لئے  لوگوں کی رواداری کرتے  ہیں۔
        (۱۷)لیکن اے  پیارو ! ان باتوں کو یاد رکھو جو ہمارے  آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح کے  رسول پہلے  کہہ چکے  ہیں۔ (۱۸) وہ تم سے  کہا کرتے  تھے کہ اخیر زمانہ میں ایسے  ٹھٹھا کرنے  والے  ہوں گے  جو اپنی بے  دینی کی خواہشوں کے  موافق چلیں گے۔ (۱۹) یہ وہ آدمی ہیں جو تفرقے ڈالتے  ہیں اور نفسانی ہیں اور روح سے  بے  بہرہ۔ (۲۰) مگر تم اے  پیارو! اپنے  پاک ترین ایمان میں اپنی ترقی  کر کے  اور روحِ پاک  میں دعا کر کے۔ (۲۱) اپنے  آپ کو پروردگارِ عالم کی محبت  میں قائم رکھو اور ہمیشہ کی زندگی کے  لئے  ہمارے آقا و مولاسیدنا عیسیٰ مسیح کی رحمت کے  منتظر رہو۔ (۲۲) اور بعض لوگوں پر جو شک میں ہیں  رحم کرو۔ (۲۳) اور بعض کو جھپٹ  کر آگ میں سے  نکالو اور بعض پر خوف کھا کر رحم کرو بلکہ اس پوشاک سے  بھی نفرت کرو جو جسم کے  سبب سے  داغی ہو گئی ہو۔
کلماتِ برکت
        (۲۴) اب جو تم کو ٹھوکر کھانے  سے  بچا سکتے  ہیں اور اپنے  پُر س عظمت حضور میں کمال خوشی کے  ساتھ بے  عیب کر کے  کھڑا کر سکتے  ہیں۔ (۲۵) اس خدائے واحد کا جو ہمارے  منجی ہیں بزرگی اور عظمت اور سلطنت اور اختیار ہمارے  آقا و مولا سیدنا عیسیٰ مسیح  کے  وسیلہ سے  جیسا ازل سے  ہے  اب بھی ہو اور ابد الآباد رہے۔ آمین۔



سیدنا عیسیٰ المسیح کی انجیل شریف
۲۷ پاروں  میں سے  آخری اور ۲۷ واں پارہ

رسولِ مقبول حضرتِ یوحنا عارف  کا مکاشفہ





رکوع ۱


        (۱)سیدنا عیسیٰ مسیح کا مکاشفہ جو انہیں پروردگار کی طرف سے  اس لئے  ہوا کہ اپنے  بندوں، کو وہ باتیں دکھائے  جن کا جلد ہونا ضرور ہے  اور انہوں نے  اپنے  فرشتہ  کو بھیج کر اس کی معرفت انہیں اپنے  بندہ یوحنا پر ظاہر کیا۔ (۲)جس نے  پروردگار کے  کلام اور سیدنا عیسیٰ مسیح کی شہادت کی یعنی ان سب چیزوں کو جو اس نے  دیکھی تھیں شہادت دی۔ (۳) اس نبوت کی کتاب کا پڑھنے  والا اور اس کے  سننے  والے  اور جو کچھ اس میں لکھا ہے  اس پر عمل کرنے  والے  قابلِ ستائش ہیں کیونکہ  وقت نزدیک ہے۔
سات جماعتوں کو سلام
        (۴) یوحنا کی جانب سے  ان سات جماعتوں کے  نام جو آسیہ میں ہیں۔ اس کی طرف سے  جو ہے  اور جو تھا اور جو آنے  والا ہے  اور ان سات روحوں کی طرف سے  جو اس کے  تخت  کے  سامنے ہیں۔ (۵)سیدنا عیسیٰ مسیح کی طرف سے  سچا گواہ اور مُردوں میں سے  جی اٹھنے  والوں میں پہلوٹھا اور دنیا کے  بادشاہوں پر حاکم ہے  تمہیں فضل اور اطمینان حاصل ہوتا رہے۔ جو ہم سے  محبت محبت رکھتے  ہیں اور جنہوں نے  اپنے  خون کے  وسیلہ سے  ہم کو گناہوں سے  رہائی بخشی۔ (۶) اور ہم کو  ایک بادشاہی، بھی اور اپنے  پروردگار اور باپ کے  لئے  امام بھی بنا دیا۔ ان کی بزرگی اور سلطنت  ابد الآباد رہے۔ آمین۔ (۷) دیکھو وہ بادلوں کے  ساتھ آنے  والا ہے  اور ہر ایک آنکھ اسے  دیکھے  گی اور جنہوں نے اسے  چھیدا  تھا وہ بھی دیکھیں گے  اور زمین پر کے  سب قبیلے ان کے  سبب سے  چھاتی پیٹیں گے۔ بیشک۔ آمین۔
        (۸)۔ خداوند خدا جو ہے  اور جو تھا اور جو آنے  والا ہے  یعنی قادرِ مطلق فرماتا ہے  کہ میں الفا اور اومیگا ہوں۔ (الفا اور اومیگا کا مطلب اول اور آخر )۔
        (۹)میں یوحنا جو تمہارا بھائی اور سیدنا عیسیٰ مسیح کی مصیبت اور بادشاہی اور صبر میں تمہارا شریک ہوں پروردگار کے  کلام اور سیدنا عیسیٰ مسیح کی نسبت  شہادت دینے  کے  باعث  اس ٹاپو میں تھا جو پتمس  کہلاتا ہے۔ (۱۰) کہ مولا کے  دن روح میں آ گیا اور اپنے  پیچھے نرسنگے  کی سی یہ ایک بڑی آواز سنی۔ (۱۱)کہ جو کچھ تم  دیکھتے ہو اس کو کتاب میں لکھ کر ساتوں جماعتوں کے  پاس بھیج دو یعنی افسس، اور سمرنہ اور پرگمن اور تھواتیرہ اور سردیس اور فلدلفیہ اور لودیکیہ میں۔ (۱۲) میں نے  اس آواز دینے  والے  کو دیکھنے  کے  لئے  منہ پھیرا جس نے  مجھ سے  کہا تھا اور پھر کر سونے  کے  سات چراغدان دیکھے۔
(۱۳) اور ان چراغدانوں کے  بیچ میں آدم زاد سا ایک شخص دیکھا جو پاؤں تک کا جامہ پہنے  اور سونے  کا سینہ بند ( یعنی شاہی فرد ہونے  کی علامت ) سینہ پر باندھے  ہوئے  تھا۔ (۱۴) اس کا سر اور بال سفید اُون بلکہ برف  کی مانند سفید تھے  اور اس کی آنکھیں  آگ کے  شعلہ کی مانند تھیں۔ (۱۵) اور اس کے  پاؤں اس خالص  پیتل کے  سے  تھے  جو بھٹی  میں تپایا گیا ہو اور اس کی آواز  زور کے  پانی کی سی تھی۔ (۱۶) اور اس کے  دہنے ہاتھ میں سات ستارے  تھے  اور اس کے  منہ  میں سے  ایک  دودھاری تیز تلوار نکلتی تھی اور اس کا چہرہ  ایسا چمکتا تھا جیسے  تیزی  کے  وقت آفتاب۔ (۱۷) جب میں نے  انہیں دیکھا تو ان کے  پاؤں میں مردہ سا گر پڑا اور انہوں نے یہ کہہ کر مجھ پر اپنا دہنا ہاتھ  رکھا کہ خوف  نہ کرو، میں اول اور آخر۔ (۱۸) اور زندہ ہوں، میں مرگیا تھا اور دیکھو ابد الآباد زندہ رہوں گا اور موت اور عالم ارواح کی کنجیاں میرے  پاس ہیں۔ (۱۹) پس جو باتیں  تم نے  دیکھیں اور جو ہیں اور جو ان کے  بعد ہونے  والی ہیں ان سب کو لکھ لو۔ (۲۰) یعنی ان سات ستاروں کا راز جنہیں تم نے  میرے  دہنے  ہاتھ میں دیکھا تھا اور ان سونے  کے  سات چراغ دانوں کا۔ وہ سات ستارے  تو سات جماعتوں  کے  فرشتے  ہیں اور وہ سات  چراغ دان جماعتیں ہیں۔


رکوع ۲: افسس کی جماعت کو پیغام  


(۱)افسس کی جماعت کے  فرشتہ کو یہ لکھو کہ
        جو اپنے  دہنے  ہاتھ میں ستارے  لئے  ہوئے  ہے  اور سونے  کے  ساتوں چراغ دانوں میں پھرتا ہے  وہ یہ فرماتا ہے  کہ۔ (۲) میں تمہارے  کام اور تمہاری مشقت اور تمہارا صبر تو جانتا ہوں اور یہ بھی کہ تم بدوں کو دیکھ نہیں سکتے  اور جو اپنے  آ پ کو رسول کہتے  ہیں اور ہیں  نہیں تم نے ان کو آزما کر جھوٹا پایا۔ (۳) اور تم صبر کرتے  ہو اور میرے  نام کی خاطر  مصیبت اٹھاتے  اٹھاتے  تھکے  نہیں۔ (۴) مگر مجھ کو تم سے یہ شکایت ہے  کہ تم نے اپنی پہلی سے  محبت چھوڑ دی۔ (۵) پس خیال کرو کہ تم کہاں سے  گرے  ہو اور توبہ کر کے  پہلے  کی طرح کام کرو اور اگر تم توبہ نہ کرو گے  تو میں تمہارے  پاس آ کر  تمہارے  چراغ دان کو اس کی جگہ سے  ہٹا دوں گا۔ (۶) البتہ تم میں یہ بات تو ہے  کہ   تم نیکلیوں کے  کاموں سے  نفرت رکھتے  ہو جن سے  میں بھی نفرت رکھتا ہوں۔ (۷) جس کے  کان ہوں وہ سنے  کہ روح جماعتوں سے  کیا فرماتا ہے۔ جو غالب آئے  میں اسے  زندگی کے  درخت میں سے  جو پروردگارِ عالم  کے  فردوس میں ہے  پھل کھانے  کو دوں گا۔
سمرنہ کی جماعت کو پیغام
        (۸) اور سمرنہ کی جماعت کے  فرشتہ کو یہ لکھو کہ
        جو اول و آخر ہے  اور جو مرگیا تھا اور زندہ ہوا وہ یہ فرماتا ہے  کہ۔ (۹) میں تمہاری مصیبت اور غریبی کو جانتا ہوں (مگر تم دولت مند ہو)جو اپنے  آپ کو یہودی کہتے  ہیں اور ہیں نہیں  بلکہ شیطان کی جماعت ہیں  ان کے  لعن طعن  کو بھی جانتا ہوں۔ (۱۰) جو دکھ تمہیں سہنے  ہوں گے ان سے  خوف نہ کرو، دیکھو ابلیس تم میں سے  بعض کو قید میں ڈالنے  کو ہے  تاکہ تمہاری آزمائش ہو اور دس دن تک مصیبت اٹھاؤ گے۔ جان دینے  تک بھی وفادار رہو تو میں تمہیں زندگی کا تاج دوں گا۔ (۱۱)جس کے  کان ہوں وہ سنے  کہ روح پاک جماعتوں سے  کیا فرماتا ہے۔ جو غالب آئے  اس کو دوسری موت سے  نقصان نہ پہنچے  گا۔



  چپرِگمن کی جماعت کو پیغام
        (۱۲) اور پرگمن کی جماعت کے  فرشتہ کو یہ لکھو کہ
        جس کے  پاس دودھاری تیز تلوار ہے  وہ فرماتا ہے  کہ۔ (۱۳) میں یہ تو جانتا ہوں کہ تم شیطان کی تخت گاہ میں سکونت رکھتے  ہو اور میرے نام پر قائم رہتے  ہو اور جن دنوں میں میرا وفادار شہید انتپاس تم میں اس جگہ قتل ہوا تھا جہاں شیطان رہتا ہے  ان دنوں میں بھی تم نے  مجھ پر ایمان رکھنے  سے  انکار نہیں کیا۔ (۱۴) لیکن مجھے  چند باتوں کی تم سے  شکایت ہے۔ ا س لئے  کہ  تمہارے  ہاں بعض لوگ بلعام کی تعلیم ماننے  والے  ہیں جس نے  بلق کو بنی اسرائیل  کے  سامنے  ٹھوکر کھلانے  والی چیز  رکھنے  کی تعلیم دی یعنی یہ کہ وہ بتوں کی قربانیاں کھائیں اور حرام کاری کریں۔ (۱۵) چنانچہ تمہارے  ہاں بھی بعض لوگ اسی طرح نیکلیوں کی تعلیم کے  ماننے  والے  ہیں۔ (۱۶) پس توبہ کرو۔ نہیں تومیں تمہارے  پاس جلد آ کر اپنے  منہ کی تلوار سے  ان کے  ساتھ  لڑوں گا۔ (۱۷) جس کے  کان ہوں وہ سنے  کہ روحِ پاک جماعتوں سے  کیا فرماتا ہے۔ جو غالب آئے  میں اسے  پوشیدہ من میں سے  دوں گا اور ایک سفید  پتھر دوں گا۔ اس پتھر پر ایک نیا نام لکھا ہوا ہو گا جسے  اس کے  پانے  والے  کے  سوا کوئی  نہ جانے  گا۔
تھواتیرہ کی جماعت کو پیغام
        (۱۸)اور تھواتیرہ کی جماعت کے  فرشتہ کو یہ لکھ کہ
        ابن اللہ جس کی آنکھیں آگ کے  شعلہ کی مانند اور پاؤں خالص پیتل کی مانند ہیں یہ فرماتا ہے  کہ۔ (۱۹) میں تمہارے  کاموں اور محبت اور ایمان اور خدمت اور صبر کو تو جانتا ہوں اور یہ بھی کہ تمہارے  پچھلے  کام پہلے  کاموں سے  زیادہ ہیں۔ (۲۰) پر مجھے  تم سے  یہ شکایت ہے  کہ تم نے اس عورت ایزبل کو رہنے  دیا ہے  جو اپنے  آپ کو نبیہ کہتی ہے  اور میرے  بندوں کو حرام کاری کرنے  اور بُتوں کی قربانیاں  کھانے  کی تعلیم  دے  کر گمراہ کرتی ہے۔ (۲۱) میں نے  اس کو توبہ کرنے  کی مہلت دی مگر وہ اپنی حرام کاری سے  توبہ کرنا نہیں چاہتی۔ (۲۲) دیکھو میں اس کو بستر پر ڈالتا ہوں اور جو اس کے  ساتھ زنا کرتے  ہیں اگراس کے  سے  کاموں سے  توبہ نہ کریں تو ان کو بڑی  مصیبت  میں پھنساتا ہوں۔ (۲۳) اور اس کے  فرزندوں کو جان سے  ماروں گا اور سب جماعتوں کو معلوم ہو گا کہ گردوں اور دلوں کا جانچنے  والا میں ہی ہوں اور میں تم میں سے  ہر ایک کو اس کے  کاموں کے  موافق بدلہ دوں گا۔ (۲۴) مگر تم تھواتیرہ  کے  باقی لوگوں سے  جو اس تعلیم کو نہیں مانتے  اور ان باتوں سے  جنہیں لوگ شیطان کی گہری باتیں کہتے  ہیں ناواقف ہو یہ کہتا ہوں کہ  تم پر اور بوجھ نہ ڈالوں گا۔ (۲۵) البتہ جو تمہارے پاس ہے  میرے  آنے  تک اس کو تھامے  رہو۔ (۲۶) جو غالب آئے  اور جو میرے  کاموں کے  موافق  آخر تک عمل کرے  میں اسے  قوموں پر اختیار دوں گا۔ (۲۷) اور وہ لوہے  کے  عصا سے  ان پر حکومت کرے  گا۔ جس طرح کہ کمہار کے  برتن چکنا چور ہو جاتے  ہیں چنانچہ  میں نے  بھی ایسا اختیار  اپنے  باپ سے  پایا ہے۔ (۲۸) اور میں اسے  صبح کا ستارہ دوں گا۔ (۲۹) جس کے  کان ہوں وہ سنے  کہ روحِ پاک  جماعتوں سے  کیا فرماتا ہے۔



رکوع ۳: سردیس کی جماعت کو پیغام


        (۱) اور سردیس کی جماعت کے  فرشتہ کو یہ لکھو کہ
        جس کے  پاس پروردگار کی سات روحیں اور سات ستارے  ہیں وہ یہ فرماتا ہے  کہ  میں تمہارے  کاموں کو  جانتا ہوں کہ تم زندہ کہلاتے  ہو اور ہو مردہ۔ (۲) جاگتے  رہو اور ان چیزوں کو جو باقی ہیں اور جو مٹنے  کو تھیں  مضبوط  کرو کیونکہ  میں نے  تمہارے کسی کام کو اپنے  خدا کے  نزدیک  پورا نہیں پایا۔ (۳) پس یاد کرو کہ تم نے  کس طرح تعلیم پائی اور سنی تھی اور اس پر قائم رہو اور توبہ کرو اور اگر تم جاگتے  نہ رہو گے تو میں چور کی طرح آ جاؤں گا اور تمہیں ہرگز معلوم  نہ ہو گا کہ کس وقت تم پر آ پڑوں گا۔ (۴)البتہ  سردیس میں تمہارے  ہاں تھوڑے  سے  ایسے  شخص ہیں جنہوں نے اپنی پوشاک آلودہ نہیں کی۔ وہ سفید پوشاک پہنے  ہوئے  میرے  ساتھ سیر کریں گے  کیونکہ وہ اس لائق ہیں۔ (۵) جو غالب آئے  اسے  اسی طرح سفید پوشاک پہنائی جائے  گی اور میں اس کا نام کتابِ حیات  سے  ہرگز نہ کاٹوں گا بلکہ اپنے  باپ اور اس کے  فرشتوں  کے  سامنے  اس کے  نام کا اقرار کروں گا۔ (۶)جس کے  کان ہوں وہ سنے  کہ روحِ پاک جماعتوں سے  کیا فرماتا ہے۔
فلدلفیہ کی جماعت  کو پیغام
        (۷) اور فلدلفیہ کی جماعت  کے  فرشتہ کو یہ لکھو کہ
جو قدوس اور برحق ہے  اور داؤد کی کنجی رکھتا ہے  جس کے  کھولے  ہوئے  کو کوئی بند نہیں کرتا اور بند کئے  ہوئے  کو کوئی کھولتا نہیں  وہ یہ فرماتا ہے  کہ۔ (۸) میں تمہارے  کاموں کو جانتا ہوں (دیکھو میں نے  تمہارے سامنے ایک دروازہ  کھول رکھا ہے۔ کوئی اسے  بند نہیں کر سکتا)کہ تم میں تھوڑا سا زور ہے  اور تم نے  میرے کلام پر عمل  کیا ہے  اور میرے نام کا انکار نہیں کیا۔ (۹)دیکھو میں شیطان کے  ان جماعت  والوں کو تمہارے  قابو میں کر دوں  گا جو اپنے  آپ کو یہودی کہتے  ہیں اور ہیں نہیں بلکہ جھوٹ بولتے  ہیں۔ دیکھو میں ایسا کروں گا کہ وہ آ کر  تمہارے پاؤں میں سجدہ کریں گے  اور جانیں گے  کہ مجھے  تم سے  محبت ہے۔ (۱۰) چوں کہ تم نے  میرے  صبر کے  کلام پر  عمل کیا ہے  اس لئے  میں بھی آزمائش کے  اس وقت تمہاری حفاظت کروں گا جو زمین کے  رہنے  والوں کے  آزمانے  کے  لئے  تمام دنیا پر آنے  والا ہے۔ (۱۱) میں جلد آنے  والا ہوں۔ جو کچھ تمہارے  پاس ہے  اسے  تھامے  رو تاکہ  کوئی تمہارا  تاج نہ چھین لے۔ (۱۲) جو غالب آئے  میں اسے  اپنے  خدا کے  مقدس میں ایک  ستون بناؤں گا۔ وہ پھر کبھی  باہر نہ نکلے  گا اور میں اپنے  خدا کا نام اور اپنے  خدا کے  شہر یعنی اس نئے  یروشلیم کا نام جو  میرے  خدا کے  پاس سے  آسمان سے  اترنے  والا ہے  اور اپنا نیا نام اس پر لکھوں گا۔ (۱۳) جس کے  کان ہوں وہ سنے  کہ روح ِ پاک جماعتوں سے  کیا فرماتا ہے۔
لودیکیہ کی جماعت کو پیغام
        (۱۴) اور لودیکیہ کی جماعت کے  فرشتہ کو یہ لکھو کہ
        جو آمین اور سچا اور برحق گواہ اور خدا کی خلقت کا مبدا ہے  وہ یہ فرماتا ہے  کہ (۱۵) میں تمہارے  کاموں کو جانتا ہوں کہ نہ تو سرد ہو نہ گرم، کاش کہ تم سرد یا گرم ہوتے۔ (۱۶)پس چوں کہ  تم نہ تو گرم ہو نہ سرد بلکہ نیم گرم ہو اس لئے  میں تمہیں  اپنے  منہ سے  نکال پھینکنے  کو ہوں۔ (۱۷) اور چونکہ  تم کہتے  ہو کہ میں دولت مند ہوں اور مالدار بن گیا ہوں اور کسی چیز کا محتاج نہیں اور یہ نہیں جانتا کہ  تم کمبخت اور خوار غریب اور اندھے  اور ننگے  ہو۔ (۱۸) اس لئے  میں تمہیں صلاح دیتا ہوں کہ مجھ سے  آگ میں تپایا ہوا سونا خرید لو تاکہ  دولت مند ہو جاؤ اور سفید پوشاک  لو تاکہ اسے  پہن کر ننگے  پن کو ظاہر ہونے  کی شرمندگی نہ اٹھاؤ اور آنکھوں میں لگانے  کے  لئے  سرمہ  لو تاکہ تم بینا ہو جاؤ۔ (۱۹)میں جن جن کو عزیز رکھتا ہوں  ان سب کو ملامت اور تنبیہ کرتا ہوں۔ پس سر گرم اور توبہ کرو۔ (۲۰) دیکھو میں دروازہ پر کھڑا ہوا کھٹکھٹاتا ہوں۔ اگر کوئی میری آواز سن کر دروازہ کھولے  گا تو میں اس کے  پاس اندر جا کر  ا سکے  ساتھ کھانا کھاؤں گا اور وہ میرے  ساتھ۔ (۲۱) جو غالب آئے  میں  اسے  اپنے ساتھ اپنے  تخت  پر بٹھاؤں گا۔ جس طرح میں غالب آ کر  اپنے  باپ کے  ساتھ اس کے  تخت پر بیٹھ گیا۔ (۲۲) جس کے  کان ہوں وہ سنے  کہ رو حِ پاک جماعتوں سے  کیا فرماتا ہے۔


رکوع ۴: آسمان میں پرستش


        (۱)ان باتوں کے  بعد جو میں نے  نگاہ کی تو دیکھتا ہوں کہ آسمان میں ایک دروازہ کھلا ہوا ہے  اور جس کو میں نے  پیشتر نرسنگے  کی سی آواز  سے  اپنے  ساتھ باتیں کرتے  سنا تھا وہی فرماتے ہیں  کہ یہاں اوپر آ جاؤ۔ میں تمہیں  وہ باتیں  دکھاؤں گا جن کا ان باتوں کے  بعد ہونا ضرور ہے۔ (۲) فوراً میں وجد میں آ گیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ آسمان پر ایک تخت  رکھا ہے  اور اس تخت  پر کوئی بیٹھا ہے۔ (۳) اور جو اس پر بیٹھا ہے وہ سنگِ یشب اور عقیق  سا معلوم ہوتا ہے  اور اس تخت  کے  گرد زمرد کی سی ایک دھنک  معلوم ہوتی ہے۔ (۴) اور اس تخت  کے  گرد چوبیس  تخت ہیں اور ان تختوں  پر چوبیس  بزرگ سفید  پوشاک پہنے  ہوئے بیٹھے  ہیں اور ان کے  سروں پر سونے  کے  تاج ہیں۔ (۵) اور اس تخت  میں سے  بجلیاں اور آوازیں اور گرجیں  پیدا ہوتی ہیں اور اس تخت  کے  سامنے آگے  کے  سات چراغ جل رہے  ہیں۔ یہ خدا  کی سات روحیں ہیں۔ (۶) اور اس تخت  کے  سامنے گویا شیشہ  کا سمندر بلور کی مانند ہے  اور تخت  کے  بیچ  میں اور تخت کے  گرد اگرد  چار جاندار  ہیں جن کے  آگے  پیچھے آنکھیں  ہی آنکھیں ہیں۔ (۷)پہلا جان دار  ببر کی مانند ہے  اور دوسرا جان دار بچھڑے  کی مانند اور تیسرے  جان دار کا چہرہ انسان کا سا ہے  اور چوتھا جان دار اڑتے  ہوئے  عقاب کی مانند ہے۔ (۸) اور ان چاروں  جان داروں کے  چھ چھ پر ہیں اور چاروں  طرف اور اندر آنکھیں  ہی آنکھیں  ہیں اور رات دن بغیر آرام لئے  یہ کہتے  رہتے  ہیں کہ  قدوس، قدوس، قدوس  خداوند خداِ قادر مطلق  جو تھا اور جو ہے  اور جو آنے  والا ہے۔ (۹) اور جب وہ جان دار اس کی تمجید اور عزت اور شکر گزاری کریں گے  جو تخت پر بیٹھا ہے  اور ابد الآباد زندہ رہے  گا۔
(۱۰) تو وہ چوبیس بزرگ اس کے  سامنے  جو تخت پر بیٹھا ہے  گر پڑیں گے  اور اس کو سجدہ کریں گے  جو ابد الآباد  زندہ رہے  گا اور اپنے  تاج  یہ کہتے  ہوئے  اس تخت کے  سامنے ڈال دیں گے  کہ۔ (۱۱) اے  ہمارے  مولا اور خدا آپ ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے  لائق ہیں کیونکہ  آپ ہی نے  سب چیزیں پیدا کیں اور آپ ہی کی مرضی سے  تھیں اور پیدا ہوئیں۔



رکوع ۵: طومار اور برہ


        (۱) اور جو تخت  پر بیٹھا تھا میں نے  اس کے  دہنے  ہاتھ میں ایک کتاب  دیکھی جو اندر سے  اور باہر سے  لکھی ہوئی تھی اور اسے  سات مہریں لگا کر بند کیا گیا تھا۔ (۲) پھر میں نے  ایک زور آور فرشتہ کو بلند آواز سے  یہ تبلیغ کرتے  دیکھا کہ  کون اس کتاب کو کھولنے  اور اس کی مہر  میں توڑنے کے  لائق ہے ؟(۳) اور کوئی شخص  آسمان پر یا زمین پر یا زمین کے  نیچے اس کتاب کو کھولنے یا اس پر نظر  کرنے  کے  قابل نہ نکلا۔ (۴) اور میں اس بات پر زار زار  رونے  لگا کہ کوئی  اس کتاب کو کھولنے یا اس پر نظر  کرنے  کے  لائق  نہ نکلا۔ (۵)تب  ان بزرگوں میں سے  ایک  نے  مجھ سے  کہا کہ مت رو دیکھو یہوداہ کے  قبیلہ کا وہ ببر جو داؤد کی اصل ہے  اس کتاب اور اس کی ساتوں مہروں کو کھولنے کے  لئے  غالب آیا۔ (۶) اور میں  نے  اس تخت اور چاروں جانداروں اور ان بزرگوں کے  بیچ میں گویا ذبح کیا ہوا ایک برہ کھڑا دیکھا اس کے  سات سینگ اور سات آنکھیں تھیں۔ یہ خدا کی ساتوں روحیں ہیں جو تمام  روئ زمین پر بھیجی گئی ہیں۔ (۷)انہوں  نے  آ کر تخت پر بیٹھے  ہوئے کے  دہنے  ہاتھ  سے  اس کتاب کو لے  لیا۔ (۸)جب انہوں نے  کتاب لے  لی تو وہ چاروں جان دار اور چوبیس بزرگ اس برہ کے  سامنے  گر پڑے  اور ہر ایک کے  ہاتھ میں بربط اور عود سے  بھرے  ہوئے سونے  کے  پیالے  تھے۔ یہ مقدسوں کی دعائیں ہیں۔ (۹) اور وہ یہ نیا گیت  گانے  لگے کہ آپ ہی اس کتاب کو لینے  اور اس کی مہریں کھولنے  کے  لائق ہیں کیونکہ  آپ نے  ذبح ہو کر اپنے  خون سے  ہر ایک قبیلہ اور اہل زبان اور امت اور قوم میں سے  خدا کے  واسطے  لوگوں کو خرید لیا۔ (۱۰) اور ان کو ہمارے  خدا کے  لئے  ایک بادشاہی، اور کاہن، بنا دیا اور وہ زمین پر بادشاہی  کرتے  ہیں۔ (۱۱) اور جب میں نے  نگاہ کی تو اس تخت اور ان جان داروں اور بزرگوں کے  گرد اگرد  بہت سے  فرشتوں کی آواز سنی جن کا شمار لاکھوں اور کروڑوں تھا۔ (۱۲) اور وہ بلند آواز  سے  کہتے  تھے  کہ ذبح کیا ہوا برہ ہی قدرت اور دولت اور حکمت اور طاقت اور عزت اور تمجید اور حمد کے  لائق ہے۔ (۱۳)پھر میں نے  آسمان اور زمین اور زمین کے  نیچے  کی اور سمندر کی سب مخلوقات  کو یعنی سب چیزوں کو جو ان میں ہیں یہ کہتے  سنا کہ جو تخت  پر بیٹھا ہے  اس کی اور برہ کی حمد اور عزت اور تمجید اور سلطنت  ابد الآباد رہے۔ (۱۴) اور چاروں جانداروں نے  آمین کہا اور بزرگوں نے  گر کر سجدہ کیا۔



رکوع ۶: مہریں


        (۱) پھر میں نے  دیکھا کہ برہ نے  ان سات مہروں میں سے  ایک کو کھولا اور ان چاروں جان داروں میں سے  ایک کی گرج کی سی یہ آواز سنی کہ آ۔ (۲) اور میں نے  نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے  اور اس کا سوار کمان لئے  ہوئے  ہے۔ اسے  ایک  تاج دیا گیا اور وہ فتح  کرتا ہوا نکلا تاکہ اور بھی فتح کرے۔
        (۳) اور جب اس نے  دوسری مہر کھولی تو میں نے  دوسرے  جان دار کو یہ کہتے  سنا کہ آ۔ (۴)پھر ایک اور گھوڑا نکلا جس کا رنگ  لال تھا۔ اس کے  سوار کو یہ اختیار دیا گیا کہ زمین پر سے  صلح اٹھا لے  تاکہ لوگ ایک دوسرے  کو قتل کریں اور اسے  ایک بڑی تلوار دی گئی۔
        (۵)اور جب اس نے  تیسری  مہر کھولی تو میں نے  تیسرے  جاندار کو یہ کہتے  ہوئے  سنا کہ آ اور میں نے  نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کالا گھوڑا ہے  اور اس کے  سوار کے  ہاتھ میں ایک ترازو ہے۔ (۶) اور میں نے  گویا ان چاروں جان داروں کے  بیچ میں سے  یہ آواز  آتی سنی کہ گیہوں دینار کے  سیر بھر اور جو دینار کے  تین سیر اور تیل اور مے  کا نقصان نہ کرو
        (۷)اور جب اس نے  چوتھی مہر کھولی تو میں نے  چوتھے  جاندار کو یہ کہتے  سنا کہ آ۔ (۸)اور میں نے  نگاہ کی تو دیکھتا ہوں کہ  ایک زردسا گھوڑا ہے  اور اس کے  سوار کا نام موت ہے  اور عالم ارواح اس کے  پیچھے  پیچھے ہے  اور ان کو چوتھائی  زمین پر یہ اختیار دیا گیا کہ تلوار اور کال اور وبا اور زمین کے  درندوں سے  لوگوں کو ہلاک کریں۔
        (۹) اور جب اس نے  پانچویں  مہر کھولی تو میں نے  قربان گاہ کے  نیچے ان کی روحیں دیکھیں جو پروردگار کے  کلام کے  سبب سے  اور گواہی پر قائم رہنے  کے  باعث مارے  گئے  تھے۔ (۱۰) اور وہ بڑی  آواز سے چلا کر  بولیں کہ اے  مالک ! اے  قدوس وبرحق  ! آپ کب  تک انصاف  نہ کریں گے  اور زمین کے  رہنے  والوں سے ہمارے  خون کا بدلہ نہ لیں گے ؟ (۱۱) اور ان میں سے  ہر ایک  کو سفید  جامہ دیا گیا اور ان سے  کہا گیا کہ اور تھوڑی مدت آرام  کرو جب تک کہ تمہارے ہم خدمت اور بھائیوں کا بھی شمار پورا نہ ہولے  جو تمہاری طرح قتل  ہونے  والے  ہیں۔
        (۱۲)اور جب اس نے  چھٹی مہر کھولی تو میں نے  دیکھا کہ ایک بڑا بھونچال آیا اور سورج کمل کی مانند  کالا اور سارا چاند خون  سا ہو گیا۔ (۱۳) اور آسمان کے  ستارے  اس طرح زمین پر گر پڑے  جس طرح زور کی  آندھی سے  ہل کر انجیر کے  درخت میں سے  کچے پھل گر پڑتے  ہیں۔ (۱۴) اور آسمان اس طرح سرک گیا جس طرح مکتوب لپیٹنے  سے  سرک جاتا ہے  اور ہر ایک پہاڑ اور ٹاپو اپنی جگہ سے  ٹل گیا۔ (۱۵) اور زمین کے  بادشاہ اور امیر اور فوجی  سردار اور مال دار اور زور آور اور تمام غلام اور آزاد  پہاڑوں کے  غاروں اور چٹانوں  میں جا چھپے۔ (۱۶) اور پہاڑوں اور چٹانوں سے  کہنے  لگے  کہ ہم پر گر پڑ و اور ہمیں  اس کی نظر سے  جو تخت  پر بیٹھا ہوا ہے  اور برہ کے  غضب سے  چھپا لو۔ (۱۷)کیونکہ ان کے  غضب کا زورِ عظیم آ پہنچا۔ اب کون ٹھہرسکتا ہے ؟



رکوع ۷: ایک لاکھ چوالیس ہزار بنی اسرائیل


        (۱)اس کے  بعد میں نے  زمین کے  چاروں کونوں پر چار فرشتے  کھڑے  دیکھے۔ وہ زمین کی چاروں ہواؤں کو تھامے  ہوئے  تھے  تاکہ زمین یا سمندر  یا کسی درخت  پر ہوا نہ چلے۔ (۲)پھر  میں نے  ایک اور فرشتہ کو زندہ خدا کی مہر لئے  ہوئے  مشرق سے  اوپر کی طرف آتے  دیکھا۔ اس نے ان چاروں فرشتوں سے  جنہیں اور سمندر کو ضرر پہنچانے  کا اختیار دیا گیا تھا  بلند آواز سے  پکار کر کہا۔ (۳) کہ جب تک ہم اپنے  خدا کے  بندوں کے  ماتھے  پر مہر  نہ کر لیں زمین اور سمندر اور درختوں کو ضرر نہ پہنچانا۔ (۴) اور جن پر مہر کی گئی میں نے  ان کا شمار  سنا کہ  بنی اسرائیل  کے  سب قبیلوں میں سے  ایک لاکھ چوالیس ہزار پر مہر کی گئی۔
        (۵) یہوداہ کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر مہر کی گئی۔
        روبن کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر
        جد کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر۔
        (۶) آشر کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر
        نفتالی کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر۔
        منسی کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر۔
        (۷)شمعون کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر۔
        لاوی کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر
        اشکار کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر۔
        (۸) زبولون کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر۔
        یوسف کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر۔
        بنیمین کے  قبیلہ میں سے  بارہ ہزار پر مہر کی گئی۔
بڑی بھیڑ
(۹)ان باتوں  کے  بعد جو میں نے  نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر ایک قوم اور قبیلہ اور امت اور اہل زبان کی ایک ایسی بڑی  بھیڑ جسے  کوئی شمار  نہیں کر سکتا سفید جامے  پہنے  اور کھجور کی ڈالیاں اپنے  ہاتھوں میں لئے  ہوئے تخت اور برہ کے  آگے  کھڑی ہے۔ (۱۰) اور بڑی آواز سے  چلا چلا کر کہتی ہے  کہ نجات ہمارے  پروردگار کی طرف سے  ہے  جو تخت  پر بیٹھا ہے  اور برہ کی طرف سے۔ (۱۱) اور سب فرشتے  اس تخت اور بزرگوں اور چاروں جانداروں کے  گرد اگرد کھڑے  ہیں۔ پھر وہ تخت  کے  آگے  منہ کے  بل گر پڑے  اور خدا کو سجدہ کر کے۔ (۱۲) کہا آمین۔ حمد اور تمجید اور حکمت اور شکر اور عزت اور قدرت اور طاقت  ابد الآباد ہمارے  خدا کی ہو۔ آمین۔ (۱۳) اور بزرگوں میں سے  ایک  نے  مجھ سے  کہا کہ  یہ سفید جامے  پہنے  ہوئے کون ہیں اور کہاں سے  آئے  ہیں؟(۱۴) میں نے  اس سے  کہا  کہ اے  میرے  مولا آپ ہی جانتے  ہیں۔ انہوں نے  مجھ سے  فرمایا یہ وہی ہیں جو اس بڑی مصیبت  میں سے  نکل کر آئے  ہیں۔ انہوں نے  اپنے  جامے  برہ کے  خون سے  دھوکر سفید  کئے  ہیں۔ (۱۵) اسی سبب سے  یہ خدا کے  تخت کے  سامنے  ہیں اور اس کے  مقدس میں رات دن اس کی عبادت کرتے  ہیں اور جو تخت  پر بیٹھا ہے  وہ اپنا خیمہ ان کے  اوپر تانے  گا۔ (۱۶) اس کے  بعد نہ کبھی ان کو بھوک لگے  گی نہ پیاس اور نہ کبھی ان کو دھوپ ستائے  گی نہ گرمی۔
(۱۷)کیونکہ جو برہ تخت کے  بیچ میں ہے  وہ ان کی گلہ بانی کرے  گا اور انہیں آ ب حیات کے  چشموں کے  پاس لے  جائے  گا اور خدا ان کی آنکھوں کے  سب آنسو پونچھ دے  گا۔



رکوع ۸: ساتویں مہر


        (۱) جب اس نے  ساتویں مہر کھولی تو آدھ گھنٹے  کے  قریب آسمان میں خاموشی رہی۔ (۲) میں نے  ان ساتوں فرشتوں کو دیکھا جو پروردگار کے  سامنے کھڑے  رہتے  ہیں اور انہیں سات نرسنگے  دئے  گئے۔
        (۳)پھر ایک اور فرشتہ سونے  کا عود سوز لئے  ہوئے  آیا اور قربان گاہ کے  اوپر کھڑا ہوا اور اس کو  بہت سا عود دیا گیا تاکہ سب مقدسوں کے  دعاؤں کے  ساتھ ہی اس سنہری  قربان گاہ پر چڑھائے  جو تخت کے  سامنے  ہے۔ (۴) اور اس کا عود  کا دھواں فرشتہ کے  ہاتھ سے  مقدسوں کی دعاؤں کے  ساتھ خدا کے  سامنے  پہنچ گیا۔ (۵) اور فرشتہ نے  عود سوز کو لے  کر اس میں قربان گاہ کی آگ بھری اور زمین پر ڈال دی اور گرجیں اور آوازیں اور بجلیاں پیدا ہوئیں اور بھونچال آیا۔
نرسنگے 
        (۶) اور وہ ساتوں فرشتے  جن کے  پاس وہ سات نرسنگے  تھے  پھونکنے  کو تیار ہوئے۔
        (۷)اور جب پہلے  نے  نرسنگا پھونکا تو خون ملے  ہوئے  اولے  اور آگ پیدا ہوئی اور زمین پر ڈالی گئی اور تہائی  زمین جل گئی اور تہائی  درخت  جل گئے  اور تمام ہری گھاس جل گئی۔
        (۸) اور جب دوسرے فرشتہ نے  نرسنگا  پھونکا تو گویا آگ سے  جلتا ہوا ایک بڑا پہاڑ سمندر میں ڈالا گیا اور تہائی سمندر خون ہو گیا۔ (۹) اور سمندر  کی تہائی جان دار مخلوقات مر گئی اور تہائی جہاز تباہ ہو گئے۔
        (۱۰)اور جب تیسرے  فرشتہ نے  نرسنگا پھونکا تو ایک بڑا ستارہ مشعل کی طرح جلتا ہوا آسمان سے ٹوٹا اور تہائی  دریاؤں اور پانی کے  چشموں پر آپڑا۔ (۱۱) اس ستارے  کا نام ناگ دونا کہلاتا ہے  اور تہائی پانی ناگ دونے  کی طرح کڑوا ہو گیا اور پانی کے  کڑوا ہو جانے  سے  بہت  سے  آدمی مر گئے۔ (۱۲) اور جب چوتھے  فرشتہ نے  نرسنگا پھونکا تو تہائی سورج اور تہائی  چاند اور تہائی  ستاروں پر صدمہ پہنچا۔ یہاں تک کہ ان کا تہائی حصہ تاریک ہو گیا اور تہائی دن میں روشنی نہ رہی اور اسی طرح  تہائی رات میں بھی۔
        (۱۳)اور جب میں نے  پھر نگاہ کی تو آسمان کے  بیچ میں ایک عقاب کو اڑتے  اور بڑی آواز سے  یہ  کہتے  سنا کہ ان تینوں فرشتوں کے  نرسنگوں کی آوازوں کے  سبب سے  جن کا پھونکنا ابھی باقی ہے  زمین کے  رہنے  والوں پر افسوس۔ افسوس۔ افسوس !۔



رکوع ۹


        (۱) اور جب پانچویں  فرشتہ نے  نرسنگا پھونکا تو میں نے  آسمان سے  زمین پر ایک ستارہ  گرا ہوا  دیکھا اور اسے  اتھاہ گڑھے  کی کنجی دی گئی۔ (۲)اور جب اس نے  اتھاہ گڑھے  کو کھولا تو گڑھے  میں سے  ایک بڑی بھٹی کا سا دھواں اٹھا اور گڑھے  کے  دھوئیں  کے  باعث  سے  سورج اور ہوا تاریک ہو گئی۔ (۳)اور اس دھوئیں میں سے  زمین پر ٹڈیاں نکل پڑیں اور انہیں  زمین کے  بچھوؤں کی سی طاقت دی گئی۔ (۴)اور ان سے  کہا گیا کہ ان آدمیوں کے  سوا جن کے  ماتھے  پر خدا کی مہر نہیں زمین کی گھاس  یا کسی ہریاول یا کسی درخت  کو ضرر پہنچانا۔ (۵)اور انہیں جان سے  مارنے کا نہیں بلکہ پانچ مہینے  تک لوگوں کو اذیت دینے  کا اختیار دیا گیا اور ان کی اذیت ایسی تھی جیسے بچھو کے  ڈنک مارنے  سے  آدمی کو ہوتی ہے۔ (۶) ان دنوں میں آدمی موت ڈھونڈیں گے  مگر ہرگز نہ پائیں گے  اور مرنے  کی آرزو کریں گے  اور موت ان سے  بھاگے  گی۔ (۱۷)اور ان ٹڈیوں کی صورتیں  ان گھوڑوں کی سی تھیں جو لڑائی کے  لئے  تیار کئے  گئے  ہوں اور ان کے  سروں پر گویا سونے  کے  تاج تھے  اور ان کے  چہرے  آدمیوں کے  سے  تھے۔ (۸) اور بال عورتوں کے  سے  تھے  اور دانت ببر کے  سے۔ (۹) اور ان کے  پاس لوہے  کے  سے  بکتر تھے  اور ان کے  پروں کی آواز  جیسے  رتھوں اور بہت سے  گھوڑوں  کی جو لڑائی  میں دوڑتے  ہوں۔ (۱۰) اور ان کی دُمیں بچھوؤں کی سی تھیں اور ان میں ڈنک بھی تھے  اور ان کی دُموں میں پانچ مہینے  تک آدمیوں کو ضرر پہنچانے  کی طاقت تھی۔ (۱۱) اتھاہ گڑھے  کا فرشتہ ان پر بادشاہ تھا۔ اس کا نام عبرانی میں ابدون اور یونانی میں اپلیون ہے۔
        (۱۲)پہلا افسوس تو ہو چکا۔ دیکھو اس کے  بعد دو افسوس اور ہونے  والے  ہیں۔
        (۱۳) اور جب چھٹے  فرشتہ نے  نرسنگا  پھونکا تو میں نے اس سنہری  قربان گاہ کے  سینگوں میں سے  جو خدا کے  سامنے ہے  ایسی آواز سنی۔ (۱۴)کہ اس چھٹے فرشتہ سے  جس کے  پاس نرسنگا تھا کوئی  کہہ رہا ہے  کہ  بڑے  دریا یعنی فرات کے  پاس جو چار فرشتے  بندھے  ہوئے  ہیں  انہیں کھول دو۔ (۱۵) پس وہ چاروں فرشتے کھول دئیے  گئے جو خاص گھڑی اور دن اور مہینے  اور برس کے  لئے  تہائی  آدمیوں  کے  مار ڈالنے کو تیار کئے  گئے تھے۔ (۱۶) اور فوجوں  کے  سوا شمار میں بیس کروڑ تھے۔ میں نے  ان کا شمار سنا۔ (۱۷) اور مجھے  اس کشف میں گھوڑے  اور ان کے  ایسے  سوار دکھائی دئے  جن کے  بکتر آگ اور سنبل اور گندھک کے  سے  تھے  اور ان گھوڑوں کے  سر ببر کے  سے  سر تھے  اور ان کہ منہ سے  آگ اور دھواں اور گندھک نکلتی تھی۔ (۱۸) ان تینوں آفتوں یعنی اس آگ اور دھوئیں اور گندھک سے  جو ان کے  منہ سے  نکلتی تھی تہائی  آدمی مارے  گئے۔ (۱۹)کیونکہ کہ ان گھوڑوں کی طاقت  ان کے  منہ اور ان کی دموں میں تھی۔ اس لئے  کہ ان کی دمیں  سانپوں کی مانند تھیں اور دموں میں سر بھی تھے۔ ان ہی سے  وہ ضرر پہنچاتے  تھے۔ (۲۰) اور باقی  آدمیوں نے  جو ان آفتوں سے  نہ  مرے  تھے  اپنے  ہاتھوں کے  کاموں سے  توبہ نہ کی کہ شیاطین کی اور سونے  اور چاندی اور پیتل اور پتھر اور لکڑی کی مورتوں کی پرستش  کرنے  سے  باز  آتے  جو نہ دیکھ سکتی ہیں نہ سن سکتی ہیں۔ نہ چل سکتی ہیں۔ (۲۱) اور جو خون اور جادوگری اور حرام کاری اور چوری  انہوں نے کی تھی ان سے  توبہ نہ کی۔


رکوع ۱۰: فرشتہ اور چھوٹا طومار


        (۱) پھر میں نے  ایک اور زور آور فرشتہ کو بادل اوڑھے  ہوئے  آسمان سے  اترتے  دیکھا۔ اس کے  سر پر دھنک تھی اور اس کا چہرہ  آفتاب کی مانند تھا اور اس کے  پاؤں آگ کے  ستونوں کی مانند۔ (۲)اور اس کے  ہاتھ  میں ایک چھوٹی  سے  کھلی ہوئی کتاب تھی۔ اس نے  اپنا دہنا پاؤں تو سمندر پر رکھا اور بایاں خشکی پر۔ (۳) اور ایسی بڑی آواز سے  چلایا جیسے  ببر دھاڑتا ہے  اور جب وہ چلایا تو گرج کی سات  آوازیں  سنائی دیں۔ (۴) اور جب گرج کی ساتوں آوازیں  سنائی دے  چکیں  تو میں نے  لکھنے  کا ارادہ کیا اور آسمان پر سے  آواز آتی سنی کہ جو باتیں  گرج کی ان سات  آوازوں سے  سنی ہیں ان کو پوشیدہ  رکھو اور تحریر  نہ کرو۔ (۵) اور جس فرشتہ  کو میں نے  سمندر اور خشکی  پر کھڑے  دیکھا تھا اس نے  اپنا دہنا ہاتھ آسمان کی طرف  اٹھایا۔ (۶) اور جو ابد الآباد زندہ رہے  گا اور جس نے  آسمان اور اس کے  اندر کی چیزیں اور زمین اور اس کے  اوپر کی چیزیں اور سمندر اور اس کے  اندر کی چیزیں پیدا کی ہیں اس کی قسم کھا کر کہا کہ اب اور دیر نہ ہو گی۔ (۷) بلکہ ساتویں فرشتہ کی آواز دینے  کے  زمانہ میں جب وہ نرسنگا  پھونکنے کو ہو گا تو خدا کا پوشیدہ مطلب اس خوشخبری  کے  موافق  جو اس نے  اپنے  بندوں نبیوں کو دی تھی پورا ہو گا۔ (۸) اور جس آواز دینے  والے  کو میں نے  آسمان پر بولتے  سنا تھا اس نے  پھر مجھ سے  مخاطب ہو کر کہا  کہ جاؤ۔ اس فرشتہ کے  ہاتھ میں سے جو سمندر اور خشکی پر کھڑا ہے  وہ کھلی کتاب ہوئی لے  لو۔ (۹) تب میں نے  اس فرشتہ کے  پاس جا کر کہا کہ یہ چھوٹی کتاب مجھے  دے  دو۔ اس نے  مجھ سے  کہا کہ لو اسے  کھالو۔ یہ تمہارا پیٹ تو کڑوا کر دے  گی مگر تمہارے  منہ  میں شہد کی طرح میٹھی لگے  گی۔ (۱۰) پس میں وہ چھوٹی  کتاب اس فرشتہ  کے  ہاتھ سے  لے  کر کھا گیا۔ وہ میرے  منہ میں تو شہد کی طرح میٹھی لگی مگر جب میں اسے  کھا گیا تو میرا پیٹ  کڑوا ہو گیا۔ (۱۱) اور مجھ سے  کہا  گیا کہ  تجھے  بہت سی امتوں اور قوموں اور اہل زبان اور بادشاہوں پر پھر نبوت کرنا ضرور ہے۔


رکوع ۱۱: دو گواہ


        (۱)اور مجھے  عصا کی مانند ایک ناپنے  کی لکڑی دی گئی اور کسی نے  کہا کہ اٹھ کر خدا کے  مقدَس اور قربان گاہ اور اس میں کے  عبادت کرنے  والوں کو ناپو۔ (۲)اور اس صحن کو جو مقدس کے  باہر سے  خارج کر دئیے  اور اسے  نہ ناپو کیونکہ وہ مشرکین کو دے  دیا گیا ہے۔ وہ مقدَس شہر کو بیالیس  مہینے  تک  پامال کریں گی۔ (۳) اور میں اپنے  دو گواہوں کو اختیار  دوں گا اور وہ ٹاٹ  اوڑھے  ہوئے  ایک  ہزار  دو سو ساٹھ دن نبوت کریں گے۔ (۴) یہ وہی زیتون  کے  دو، درخت اور دو چراغ  دان ہیں جو زمین کے  خداوند کے  سامنے  کھڑے  ہیں۔ (۵) اور اگر کوئی  انہیں ضرر پہنچانا چاہتا ہے  تو ان کے  منہ سے  آگ نکل کر ان کے  دشمنوں کو کھا جاتی ہے  اور اگر کوئی  انہیں ضرر پہنچا نا چا ہے  گا تو وہ ضرور اسی طرح مارا جائے  گا۔ (۶) ان کو اختیار  ہے  کہ آسمان کو بند کر دیں اور ان کی نبوت  کے  زمانہ میں  پانی نہ برسے  اور پانیوں پر اختیار ہے  کہ انہیں  خون بنا ڈالیں اور جتنی  دفعہ چاہیں  زمین پر ہر طرح کی آفت لائیں۔ (۷) جب وہ اپنی گواہی دے  چکیں تو وہ حیوان جو اتھاہ گڑھے  سے  نکلے  گا ان سے  لڑکر ان پر غالب آئے  گا اور ان کو مار ڈالے  گا۔ (۸) اور ان کی لاشیں  اس بڑے  شہر کے  بازار میں پڑی رہیں گی جو روحانی اعتبار سے سدوم اور مصر کو کہلاتا ہے۔ جہاں ان کے  مولا بھی مصلوب ہوئے  تھے۔ (۹)اور امتوں اور قبیلوں اور اہل زبان اور قوموں میں سے  لوگ  ان کی لاشوں کو ساڑھے تین دن تک دیکھتے  رہیں گے  اور ان کی لاشوں کو قبر میں نہ رکھنے  دیں گے۔ (۱۰) اور زمین کے  رہنے  والے ان کے  مرنے  سے خوشی منائیں گے  اور شادیانے  بجائیں گے  اور آپس میں  تحفے  بھیجیں گے  کیونکہ  ان دونوں نبیوں نے  زمین کے  رہنے  والوں کو ستایا تھا۔ (۱۱) اور ساڑھے  تین دن کے  بعد پروردگار کی طرف سے ان میں زندگی  کی روح داخل ہوئی اور وہ اپنے پاؤں کے  بل کھڑے  ہو گئے  اور ان کے  دیکھنے والوں پر بڑا خوف چھا گیا۔ (۱۲) اور انہیں  آسمان پر سے  ایک  بلند آواز سنائی دی کہ یہاں  اوپر آ جاؤ۔ پس وہ بادل پر سوار ہو کر  آسمان پر چڑھ گئے  اور ان کے  دشمن  انہیں دیکھ رہے  تھے۔ (۱۳) پھر اسی وقت  ایک بڑا بھونچال آ گیا اور شہر کا دسواں  حصہ گر گیا اور اس بھونچال سے  سات ہزار آدمی مرے  اور باقی ڈر گئے  اور آسمان کے  پروردگار کی تمجید کی۔
        (۱۴) دوسرا افسوس ہو چکا۔ دیکھو تیسرا افسوس  جلد ہونے  والا ہے۔



ساتواں نرسنگا
        (۱۵) اور جب ساتویں  فرشتہ نے  نرسنگا پھونکا تو آسمان پر بڑی آوازیں  اس مضمون کی پیدا ہوئیں کہ دنیا کی بادشاہی ہمارے  پروردگار اور اس کے  مسیح کی ہو گئی اور وہ ابد الاآباد بادشاہی کرے  گا۔ (۱۶) اور چوبیسوں بزرگوں نے  جو پروردگار کے  سامنے اپنے  اپنے  تخت  پر بیٹھے  تھے  منہ کے  بل گر پروردگار کو سجدہ کیا۔ (۱۷) اور یہ کہا کہ اے  مولا  و آقا، قادر مطلق جو ہے  اور جو تھا۔ ہم آپ کا شکر کرتے  ہیں کیوں کہ آپ نے  اپنی بڑی قدرت کو ہاتھ میں لے  کر بادشاہی کی۔ (۱۸) اور قوموں کو غصہ آیا اور آ پ کا غضب نازل ہوا اور وہ وقت  آ پہنچا ہے  کہ مُردوں کا انصاف  کیا جائے  اور آپ کے  بندوں، نبیوں، اور مقدسوں اور ان چھوٹے  بڑوں کو جو آپ کے  نام سے  ڈرتے  ہیں اجر دیا جائے  اور زمین کے  تباہ کرنے  والوں کو تباہ کیا جائے۔
        (۱۹) اور پروردگار کا مقدَس آسمان پر ہے  وہ کھولا گیا اور اس کے  مقدَس میں اس کے  عہد کا صندوق  دکھائی دیا اور بجلیاں اور آوازیں اور گرجیں پیدا ہوئیں اور بھونچال آیا اور بڑے  اولے  پڑے۔


رکوع ۱۲: عورت اور اژدہا


        (۱) پھر آسمان پر ایک بڑا نشان دکھائی دیا یعنی ایک عورت نظر آئی  جو آفتاب کو اوڑھے  ہوئے  تھی اور چاند اس کے  پاؤں کے  نیچے  تھا اور بارہ ستاروں کا تاج اس کے  سر پر۔ (۲) وہ حاملہ تھی اور دردِ زہ میں چلاتی تھی اور بچہ جننے کی تکلیف میں تھی۔ (۳) پھر ایک اور نشان آسمان پر دکھائی دیا یعنی ایک بڑا لال  اژدہا اس کے  سات سر اور دس سینگ تھے  اور اس کے  سروں پر سات  تاج۔ (۴) اور اس کی دم نے  آسمان کے  تہائی ستارے  کھینچ کر زمین پر ڈال دئیے  اور وہ اژدہا  اس عورت کے  آگے جا کھڑا ہوا جو جننے  کو تھی تاکہ جب وہ جنے  تو اس کے  بچے  کو نگل جائے۔ (۵) اور وہ بیٹا  جنی یعنی وہ لڑکا جو لو ہے  کے  عصا  سے  سب قوموں  پر حکومت  کرے  گا اور اس کا بچہ  یکایک  خدا اور اس کے  تخت، پاس تک پہنچا دیا گیا۔ (۶) اور وہ عورت اس بیابان کو بھاگ گئی جہاں خدا کی طرف سے  اس کے  لئے  ایک جگہ تیار کی گئی تھی تاکہ وہاں ایک ہزار  دو سو ساٹھ دن تک اس کی پرورش کی جائے۔
        (۷) پھر آسمان پر لڑائی ہوئی۔ میکائیل اور اس کے  فرشتے  اژدہا سے  لڑنے  کو نکلے  اور اژدہا اور اس کے  فرشتے  ان سے  لڑے۔ (۸)لیکن غالب نہ آئے  اور اس کے  بعد آسمان پر ان کے  لئے  جگہ نہ رہی۔ (۹) اور وہ بڑا اژدہا  یعنی وہی پرانا سانپ  جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے  اور سارے  جہان کو گمراہ  کر دیتا ہے  زمین پر گرا دیا گیا اور اس کے  فرشتے بھی اس کے  ساتھ گردائے  گئے۔ (۱۰) پھر میں نے  آسمان پر سے  یہ بڑی آواز آتی سنی کہ اب ہمارے  پروردگار کی نجات، اور قدرت اور بادشاہی اور اس کے  مسیح کا اختیار  ظاہر ہوا کیونکہ  ہمارے  بھائیوں پر الزام لگانے  والا  جو رات دن ہمارے  پروردگار کے  آگے  ان پر الزام لگایا کرتا ہے  گرا دیا گیا۔ (۱۱) اور وہ برہ کے  خون اور اپنی شہادت کے  کلام کے  باعث اس پر غالب آئے  اور انہوں نے اپنی جان کو عزیز نہ سمجھا۔ یہاں تک کہ موت بھی گوارا کی۔ (۱۲) پس اے  آسمانو اور ان کے  رہنے  والو خوشی مناؤ ! اے  خشکی اور تری تم پر افسوس ! کیونکہ ابلیس  بڑے  قہر میں  تمہارے  پاس اتر کر آیا ہے۔ اس لئے  کہ جانتا ہے  کہ  میرا تھوڑا ہی ساوقت باقی ہے۔
        (۱۳) اور جب اژدہا نے  دیکھا کہ میں زمین پر گرا دیا گیا ہوں تو اس عورت کو ستایا جو بیٹا جنی تھی۔ (۱۴) اور اس عورت کو بڑے  عقاب کے  دو پر دئیے  گئے  تاکہ سانپ کے  سامنے سے  اڑ کر  بیابان میں اپنی اس جگہ پہنچ جائے  جہاں  ایک زمانہ اور زمانوں اور آدھے زمانہ تک  اس کی پرورش کی جائے  گی۔ (۱۵) اور سانپ  نے  اس عورت کے  پیچھے  اپنے  منہ سے  ندی کی طرح  پانی بہایا تاکہ اس کو اس ندی سے  بہا دے۔ (۱۶) مگر زمین نے  اس عورت کی مدد کی اور اپنا منہ کھول کر اس ندی کو پی لیا جو اژدہا  نے  اپنے  منہ سے  بہائی تھی۔ (۱۷) اور اژدہا کو عورت پر غصہ آیا اور اس کی باقی اولاد سے  جو خدا کے  حکموں پر عمل کرتی ہے  سیدنا مسیح کی شہادت دینے  پر قائم ہے  لڑنے  کو گیا۔



رکوع ۱۳: دو حیوان


        (۱) اور سمندر کی ریت پر جا کھڑا ہوا۔
        اور میں نے  ایک حیوان کو سمندر میں سے  نکلتے  ہوئے  دیکھا۔ اس کے  دس سینگ اور سات سر تھے  اور اس کے  سینگوں پر دس تاج اور اس کے  سروں پر کفر کے  نام لکھے  ہوئے  تھے۔ (۲) اور جو حیوان میں نے  دیکھا اس کی شکل  تیندوے  کی سی تھی اور پاؤں ریچھ کے  سے  اور منہ  ببر کا سا اور اس اژدہا نے  اپنی قدرت اور اپنا تخت، اور بڑا اختیار اسے  دے  دیا۔ (۳) اور میں نے اس کے  سروں میں سے  ایک  پر گویا زخم کاری لگا ہوا دیکھا مگر اس کا زخم کاری اچھا ہو گیا اور ساری  دنیا تعجب  کرتی ہوئی  اس حیوان کے  پیچھے  پیچھے  ہولی۔ (۴)اور چونکہ  اس اژدہا  نے  اپنا اختیار  اس حیوان کو دے  دیا تھا اس لئے  انہوں نے  اژدہا کی پرستش کی اور اس حیوان کی بھی  یہ کہہ کر پرستش کی کہ  اس حیوان کی مانند کون ہے ؟ کون اس سے  لڑسکتا ہے ؟ (۵) اور بڑے  بول  بولنے  اور کفر بکنے کے  لئے اسے  ایک منہ دیا گیا اور اسے  بیالیس مہینے  تک  کام کرنے کا اختیار  دیا گیا۔ (۶)اوراس نے  خدا کی نسبت  کفر بکنے  کے  لئے  منہ کھولا کہ اس کے  نام اور اس کے  خیمہ  یعنی آسمان کے  رہنے والوں  کی نسبت  کفر بکے۔ (۷) اور اسے  اختیار  دیا گیا کہ  مقدسوں سے  لڑے  اور ان پر غالب آئے  اور  اسے  ہر قبیلہ اور امت اور اہل زبان اور قوم  پر اختیار دیا گیا۔ (۸) اور زمین  کے  وہ سب رہنے  والے  جن کے  نام اس برہ کی  کتابِ حیات  میں لکھے  نہیں گئے  جو بنائے عالم کے  وقت سے  ذبح ہوا ہے  اس حیوان کی پرستش  کریں گے۔
        (۹) جس کے  کان  ہوں وہ سنے۔ (۱۰) جس کو قید ہونے  والی ہے  وہ قید میں پڑے  گا۔ جو کوئی تلوار  سے  قتل کرے  گا وہ ضرور تلوار سے  قتل کیا جائے  گا۔ مقدسوں کے  صبر اور ایمان کا یہی موقع ہے۔ (۱۱) پھر میں نے  ایک اور حیوان کو زمین میں سے  نکلتے  ہوئے  دیکھا۔ اس کے  برہ کے  دو سینگ تھے  اور اژدہا کی طرح بولتا تھا۔ (۱۲) اور یہ پہلے  حیوان کا سارا اختیار اس کے  سامنے کام میں لاتا تھا اور زمین اور اس کے  رہنے  والوں سے  اس پہلے  حیوان کی پرستش  کراتا تھا جس کا زخم  کاری اچھا ہو گیا تھا۔ (۱۳) اور وہ بڑے بڑے  نشان دکھاتا تھا۔ یہاں تک کہ آدمیوں کے  سامنے آسمان سے  زمین پر آگ نازل کر دیتا تھا۔ (۱۴) اور زمین کے  رہنے  والوں  کو ان نشانوں  کے  سبب سے  جن کے  اس حیوان کے  سامنے  دکھانے کا اس کو اختیار  دیا گیا تھا اس طرح  گمراہ کر دیتا تھا کہ زمین کے  رہنے  والوں سے  کہتا تھا کہ جس حیوان کے  تلوار  لگی تھی اور وہ زندہ ہو گیا اس کا بُت  بناؤ۔ (۱۵) اور اسے  اس حیوان کے  بُت  میں روح پھونکنے کا اختیار دیا گیا تاکہ وہ حیوان  کا بُت  بولے  بھی اور جتنے لوگ اس حیوان کے  بُت کی پرستش نہ کریں  ان کو قتل بھی کرائے۔ (۱۶) اور اس نے  سب چھوٹے  بڑوں دولت  مندوں اور غریبوں، آزادوں اور غلاموں  کے  دہنے  ہاتھ  یا ان کے  ماتھے پر ایک ایک  چھاپ کرا دی۔ (۱۷) تاکہ اس کے  سوا جس  پر نشان یعنی اس حیوان  کا نام یا اس کے  نام کا عدد ہو اور کوئی  خریدو فروخت  نہ کر سکے۔ (۱۸) حکمت کا یہ موقع ہے۔ جو سمجھ رکھتا ہے  وہ اس حیوان  کا عدد گن لے  کیوں کہ وہ آدمی کا عدد ہے  اور اس کا عدد چھ سو چھیاسٹھ ہے۔



رکوع ۱۴: برہ اور اس کے لوگ


        (۱)پھر میں نے  نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ برہ صیون کے  پہاڑ پر کھڑا ہے  اور اس  کے  ساتھ ایک لاکھ چوالیس ہزار شخص ہیں جن کے  ماتھے  پر اس کا اور اس کے  باپ کا نام لکھا ہوا ہے۔ (۲) اور مجھے آسمان پر سے  ایک ایسی آواز سنائی دی جو زور کے  پانی اور بڑی گرج کی سی آواز تھی اور جو آواز میں نے  سنی وہ ایسی تھی جیسے بربط نواز بربط بجاتے  ہوں۔ (۳) وہ تخت  کے  سامنے  اور چاروں جان داروں اور بزرگوں کے  آگے  گویا ایک نیا گیت گا رہے  تھے  اور ان ایک لاکھ چوالیس ہزار  شخصوں کے  سوا جو دنیا میں سے خرید لئے  گئے  تھے  کوئی اس گیت  کو نہ سیکھ سکا۔ (۴) یہ وہ ہیں جو عورتوں کے  ساتھ آلودہ نہیں ہوئے بلکہ  کنوارے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو برہ کے  پیچھے  پیچھے  چلتے  ہیں۔ جہاں کہیں  وہ جاتا ہے۔ یہ خدا اور برہ کے  لئے پہلے  پھل  ہونے  کے  واسطے آدمیوں میں سے خرید لئے  گئے  ہیں۔ (۵) اور ان کے  منہ  سے  کبھی جھوٹ نہ نکلا تھا وہ بے  عیب ہیں۔
تین فرشتے 
        (۶) پھر میں نے  ایک اور فرشتہ کو آسمان کے  بیچ میں اڑتے  ہوئے  دیکھا جس کے  پاس  زمین کے  رہنے  والوں کی ہر قوم اور قبیلہ اور اہل زبان اور امت  کے  سنانے  کے  لئے  ابدی خوشخبری تھی۔ (۷)اوراس نے  بڑی آواز سے  کہا کہ خدا سے  ڈرو اور اس کی تمجید کروکیوں کہ اس کی عدالت  کا وقت آ پہنچا ہے  اور اسی کی  عبادت کرو جس نے  آسمان اور زمین اور سمندر اور پانی کے  چشمے پیدا کئے۔
        (۸) پھر اس کے  بعد ایک اور دوسرا فرشتہ یہ کہتا ہوا آیا کہ  گر پڑا۔ وہ بڑا شہر بابل گر پڑا جس نے  اپنی حرام کاری کی غضبناک  مے  تمام قوموں کو پلائی ہے۔
        (۹) پھر ان کے  بعد ایک اور تیسرے  فرشتہ نے  آ کربڑی آواز سے  کہا کہ جو کوئی اس حیوان اور اس کے  بُت  کی پرستش  کرے  اور اپنے  ماتھے  یا اپنے  ہاتھ پراس کی چھاپ لے  لے۔ (۱۰) وہ خدا کے  قہر  کی  اس خالص  مے  کو پئے  گا جو اس کے  غضب  کے  پیالے  میں بھری گئی  ہے  اور پاک فرشتوں کے  سامنے  اور برہ کے  سامنے آگ اور گندھک  کے  عذاب میں مبتلا ہو گا۔ (۱۱) اور ان کے  عذاب  کا دھواں ابد الآباد  اٹھتا رہے  گا جو اس حیوان اور اس کے  بُت  کی پرستش کرتے  ہیں اور جو اس کے  نام کی چھاپ لیتے  ہیں ان کو رات  دن چین نہ ملے  گا۔ (۱۲) مقدسوں یعنی خدا کے  حکموں پر عمل کرنے  والوں اور سیدنا مسیح پر ایمان رکھنے  والوں کو صبر کا یہی موقع ہے۔
        (۱۳) پھر میں نے  آسمان میں سے  یہ آواز سنی کہ لکھ! مبارک ہیں وہ مُردے  جواب سے  مولا میں مرتے  ہیں۔ روح فرماتا ہے  بیشک  ! کیونکہ وہ اپنی محنتوں سے  آرام پائیں گے  اور ان کے  اعمال ان کے  ساتھ ساتھ ہوتے  ہیں۔
فصل کی کٹائی
        (۱۴)پھر میں نے  نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید بادل ہے  اور اس بادل پر آدم زاد کی مانند کوئی  بیٹھا ہے  جس کے  سر پر سونے  کا تاج اور ہاتھ میں تیز درانتی ہے۔ (۱۵) پھر ایک فرشتہ نے  مقدَس سے  نکل کر  اس بادل پر بیٹھے  ہوئے سے  بڑی  آواز کے  ساتھ پکار کر کہا کہ اپنی درانتی چلا کر کاٹ کیوں کہ کاٹنے  کا وقت آ گیا۔ اس لئے  کہ زمین کی فصل  بہت پک گئی۔ (۱۶) پس جو بادل پر بیٹھا تھا اس نے  اپنی درانتی زمین پر ڈال دی اور زمین  کی فصل کٹ گئی۔
پھر ایک اور فرشتہ اس مقدَس میں سے  نکلا جو آسمان پر ہے۔ اس کے  پاس بھی تیز درانتی  تھی۔ (۱۸) پھر ایک  ایک اور فرشتہ  قربان گاہ سے  نکلا جس کا آگ پر اختیار تھا۔ اس نے  تیز درانتی والے  سے  بڑی آواز  سے  کہا کہ اپنی تیز  درانتی چلا کر زمین کے  انگور کے  درخت  کے  گچھے کاٹ لے  کیونکہ  اس کے  انگور بالکل پک گئے  ہیں۔ (۱۹) اور اس فرشتہ  نے  اپنی درانتی زمین پر ڈالی اور زمین کے  انگور کے  درخت  کی فصل  کاٹ کر خدا کے  قہر کے  بڑے  حوض میں ڈال دی۔ (۲۰) اور شہر کے  باہر اس حوض میں انگور روندے  گئے  اور حوض  میں سے  اتنا خون نکلا کہ گھوڑوں کی نگاہوں تک پہنچ گیا اور سولہ سو فرلانگ تک بہ نکلا۔



رکوع ۱۵: فرشتے  آخری آفتوں کے  ساتھ


        (۱)پھر  میں نے  آسمان پرا یک اور بڑا عجیب نشان یعنی سات  فرشتے  ، ساتوں پچھلی آفتوں کو لئے  ہوئے دیکھے  کیونکہ  ان آفتوں  پر خدا کا قہر ختم ہو گیا ہے۔
        (۲) پھر میں نے  شیشہ کا سا ایک سمندر دیکھا جس میں آگ ملی ہوئی تھی اور جو اس حیوان اور اس کے  بُت اور اس کے  نام کے  عدد پر غالب آئے  تھے  ان کو اس شیشہ کے  سمندر کے  پاس پروردگارِ عالم کی بربطیں لئے  کھڑے  ہوئے  دیکھا۔ (۳) اور وہ پروردگار کے  بندہ حضرت موسیٰ کا گیت اور برہ کا گیت گا گا کر کہتے  تھے  اے  مولا !قادر مطلق  آپ کے  کام بڑے  اور عجیب ہیں۔ اے  ازلی بادشاہ ! آپ کی راہیں راست اور درست ہیں۔ (۴) اے  مولا ! کون آپ سے  نہ ڈرے  گا؟ کون آپ کے  نام کی تمجید نہ کرے  گا؟ کیونکہ صرف آپ ہی قدوس ہیں اور سب قومیں  آ کر آپ کے  سامنے  سجدہ کریں گی کیونکہ  آپ کے  انصاف کے  کام ظاہر ہو گئے  ہیں۔
        (۵) ان باتوں کے  بعد میں نے  دیکھا کہ شہادت کے  خیمہ کا مقدَس آسمان میں کھولا گیا۔ (۶)اور وہ ساتوں فرشتے جن کے  پاس  آفتیں  تھیں اور آبدار اور چمک  دار جواہر سے  آراستہ اور سینوں پر سنہری سینہ بند باندھے  ہوئے  مقدَس سے  نکلے۔ (۷)اور ان چاروں جانداروں میں سے  ایک نے  سات  سونے  کے  پیالے  ابد الآباد  زندہ رہنے  والے  خدا کی قہر  سے  بھرے  ہوئے ان ساتوں فرشتوں کو دئے۔ (۸)اور پروردگار کی بزرگی اور اس کی قدرت کے  سبب سے  مقدسَ دھوئیں سے  بھر گیا اور جب تک ان ساتوں فرشتوں کی ساتوں آفتیں ختم نہ ہو چکیں کوئی اس مقدَس میں داخل نہ ہو سکا۔




رکوع ۱۶: پروردگار کے  قہر کے  پیالے 


        (۱) پھر میں نے  مقدَس میں سے  کسی کو بڑی آواز سے  ان ساتوں فرشتوں سے  یہ کہتے  سنا کہ  جاؤ۔ خدا کے  قہر کے  ساتوں پیالوں کو زمین پر الٹ دو۔
        (۲) پس پہلے  نے  جا کر اپنا پیالہ زمین پر اُلٹ  دیا اور جن آدمیوں پر اس حیوان کی چھاپ تھی اور جو اس کے  بُت  کی پرستش کرتے  تھے  ان کے  ایک بُرا اور تکلیف  دینے  والا ناسور پیدا ہو گیا۔
        (۳) اور دوسرے نے  اپنا پیالہ  سمندر میں  الٹا اور وہ مردے کا سا خون بن گیا اور سمندر کے  سب جاندار  مر گئے۔
        (۴) اور تیسرے  نے  اپنا پیالہ دریاؤں اور پانی کے  چشموں پر الٹا اور وہ خون بن گئے۔ (۵) اور میں نے  پانی کے  فرشتہ  کو یہ کہتے  ہوئے  سنا کہ اے  قدوٍٍس ! جو ہے  اور جو تھا تو عادل ہے  کہ تو نے یہ انصاف  کیا۔ (۶) کیونکہ انہوں نے مقدسوں اور نبیوں کا خون  بہایا تھا اور تو نے انہیں  خون پلایا۔ وہ اسی لائق ہیں۔ (۷) پھر میں نے قربان گاہ  میں سے  یہ آواز سنی کہ اے  مولا خدا قادرِ مطلق  ! بیشک  آپ کے  فیصلے درست اور راست ہیں۔
        (۸)اور چوتھے  نے  اپنا پیالہ سورج پر الٹا اور اسے  آدمیوں کو آگ سے  جھلس دینے  کا اختیار دیا گیا۔ (۹) اور آدمی سخت گرمی سے  جھلس  گئے  اور انہوں نے  رب العالمین کی نسبت  کفر بکا جو ان آفتوں پر اختیار رکھتا ہے  اور توبہ نہ کی کہ اس تمجید کرتے۔
        (۱۰) اور پانچویں نے  اپنا پیالہ  اس حیوان کے  تخت پر الٹا اور اس کی بادشاہی  میں اندھیرا چھا گیا اور درد کے  مارے لوگ اپنی زبانیں کاٹنے  لگے۔ (۱۱) اور اپنے  دکھوں اور ناسوروں کے  باعث آسمان کے  رب کی نسبت  کفر بکنے  لگے  اور اپنے  کاموں سے  توبہ نہ کی۔
        (۱۲) اور چھٹے نے  اپنا پیالہ بڑے  دریا یعنی فرات پر الٹا اور اس کا پانی سوکھ گیا تاکہ مشرق سے  آنے  والے  بادشاہوں کے  لئے راہ تیار  ہو جائے۔ (۱۳) پھر میں نے اس اژدہا  کے  منہ سے  اور اس حیوان کے  منہ سے  اور اس جھوٹے نبی کے  منہ سے  تین ناپاک  روحیں  مینڈکوں  کی صورت میں نکلتے  دیکھیں۔ (۱۴)یہ شیاطین کی نشان دکھانے  والی روحیں  ہیں جو قادر مطلق  خدا کے  روز عظیم  کی لڑائی  کے  واسطے جمع کرنے  کے  لئے  ساری دنیا کے  بادشاہوں  کے  پاس  نکل کر جاتی ہیں۔ (۱۵) (دیکھو میں چور کی طرح آتا ہوں۔ مبارک وہ ہے  جو جاگتا ہے  اور اپنی پوشاک کی حفاظت کرتا ہے  تاکہ ننگا نہ پھرے  اور لوگ اس کی برہنگی نہ دیکھیں۔ )(۱۶)اور انہوں نے  ان کو اس جگہ جمع کیا جس کا نام عبرانی میں ہرمجدون ہے۔
        (۱۷) اور ساتویں نے  اپنا پیالہ  ہوا پر الٹا اور مقدَس کے  تخت کی طرف سے  بڑے  زور سے  یہ آواز آئی  کہ ہو چکا۔ (۱۸) پھر بجلیاں اور آوازیں اور گرجیں  پیدا ہوئیں اور ایک ایسا بڑا بھونچال آیا کہ جب سے  انسان زمین پر پیدا ہوئے ایسا بڑا اور سخت  بھونچال کبھی نہ آیا تھا۔ (۱۹) اور اس بڑے شہر کے  تین ٹکڑے  ہو گئے  اور قوموں  کے  شہر گر گئے  اور بڑے شہر بابل  کی خدا کے  ہاں یاد ہوئی  تاکہ اسے اپنے  سخت  غضب  کی مے  کا  جام پلائے۔ (۲۰) اور ہر ایک  ٹاپو اپنی جگہ سے  ٹل گیا اور پہاڑوں کا پتہ نہ لگا۔ (۲۱) اور آسمان سے  آدمیوں  پر من من بھر کے  بڑے  بڑے اولے  گرے  اور چونکہ  یہ آفت  نہایت  سخت تھی اس لئے  لوگوں نے  اولوں کی آفت  کے  باعث  خدا کی نسبت  کفر پکا۔



رکوع ۱۷: بڑی کسبی  (طوائف)


        (۱) اور ان ساتوں فرشتوں میں سے  جن کے  پاس سات پیالے  تھے  ایک نے  آ کر مجھ سے  یہ کہا کہ ادھر آ ؤ۔ میں تمہیں  اس بڑی کسبی  کی سزا دکھاؤں جو بہت سے  پانیوں  پر بیٹھی ہوئی ہے۔ (۲) اور جس کے  ساتھ  زمین کے  بادشاہوں  نے  حرام کاری  کی تھی اور زمین کے  رہنے  والے  اس کی حرام کاری کی مے  سے متوالے  ہو گئے  تھے۔ (۳) پس وہ مجھے روح میں جنگل کو لے  گیا۔ وہاں میں نے  قرمزی  رنگ کے  حیوان پر جو کفر کے  ناموں سے  لپا ہوا تھا اور جس کے  سات  سر اور دس سینگ  تھے  ایک عورت کو بیٹھے  ہوئے  دیکھا۔ (۴) یہ عورت ارغوانی اور قرمزی  لباس پہنے  ہوئے  اور سونے  اور جواہر اور موتیوں  سے  آراستہ تھی اور ایک  سونے  کا پیالہ  مکروہات  یعنی اس کی حرامکاری  کی نا پاکیوں سے  بھرا ہوا اس کے  ہاتھ  میں تھا۔ (۵) اور اس کے  ماتھے  پر یہ نام لکھا ہوا تھا۔ راز۔ بڑا شہر بابل، کسبیوں اور زمین کی مکروہات  کی ماں۔ (۶) اور میں نے  اس عورت کو مقدسوں کا خون اور سیدنا مسیح کے  شہیدوں کا خون پینے  سے  متوالا دیکھا اور اسے  دیکھ کر سخت  حیران ہوا۔ (۷)اس فرشتہ نے  مجھ سے  کہا تم حیران کیوں ہو گئے ؟ میں اس عورت اور اس حیوان کا جس پر وہ سوار ہے  اور جس کے  سات سر اور دس سینگ  ہیں تمہیں  راز بتاتا ہوں۔ (۸) یہ جو تم نے حیوان دیکھا یہ پہلے  تم تھے  مگر اب نہیں ہو اور آئندہ  اتھاہ گڑھے  سے  نکل کر  ہلاکت  میں پڑو گے  اور زمین کے  رہنے  والے  جن کے  نام بنائ عالم  کے  وقت  سے  کتاب حیات  میں لکھے  نہیں گئے  اس حیوان کا یہ حال  دیکھ کر  کہ پہلے تھا اور اب نہیں اور پھر موجود  ہو جائے  گا تعجب کرو گے۔ (۹) یہی موقع ہے  اس ذہن کا جس میں حکمت  ہے۔ وہ ساتوں سر سات پہاڑ ہیں جن پر وہ عورت بیٹھی ہوئی ہے۔ (۱۰) اور وہ سات بادشاہ بھی ہیں پانچ تو ہو چکے  ہیں اور ایک موجود ہے  اور ایک ابھی آیا نہیں اور جب آئے  گا تو کچھ عرصہ تک اس کا رہنا  ضرور ہے۔ (۱۱) اور جو حیوان پہلے  تھا اور اب نہیں وہ آٹھواں ہے  اور ان ساتوں میں سے  پیدا ہوا اور ہلاکت  میں پڑے  گا۔ (۱۲) اور وہ دس سینگ  جو تم نے  دیکھے  دس بادشاہ ہیں۔ ابھی تک انہوں نے  بادشاہی نہیں پائی  مگراس حیوان کے  ساتھ گھڑی بھر کے  واسطے بادشاہوں کا سا اختیار پائیں گے۔ (۱۳) ان سب  کی ایک  ہی رائے  ہو گی اور وہ اپنی قدرت اور اختیار  اس حیوان کے  دے  دیں  گے۔ (۱۴) وہ برہ  سے  لڑیں گے  اور برہ ان پر غالب آئے  گا کیونکہ  وہ مولا ؤں کے  مولا ہیں اور بادشاہوں کے  بادشاہ ہیں اور جو بلائے  ہوئے  اور برگزیدہ اور وفادار ان کے  ساتھ ہیں وہ بھی غالب آئیں گے۔ (۱۵) پھر اس نے  مجھ سے  کہا جو پانی تم نے  دیکھے  جن پر کسبی بیٹھی ہے  وہ امتیں اور گروہ اور قومیں اور اہل زبان ہیں۔ (۱۶)اور جو دس سینگ تم نے  دیکھے  وہ حیوان اس کسبی سے  عداوت رکھیں گے  اور اسے  بیکس اور ننگا کر دیں گے  اور اس کا گوشت کھا جائیں گے  اور اس کو آگ میں جلا ڈالیں گے۔ (۱۷) کیونکہ پروردگار  ان کے  دلوں میں یہ ڈالیں گے  کہ وہ اسی کی رائے پر چلیں اور جب تک کہ پروردگار کی باتیں پوری نہ ہولیں وہ متفق الرائے ہو کر اپنی بادشاہی اس حیوان کو دے  دیں۔ (۱۸) اور وہ عورت جس تم نے  دیکھا وہ بڑا شہر ہے  جو زمین کے  بادشاہوں پر حکومت کرتا ہے۔


رکوع ۱۸: بابل گر پڑا


        (۱) ان باتوں کے  بعد میں نے  ایک اور فرشتہ کو آسمان پر سے  اترتے  دیکھا جسے  بڑا اختیار تھا اور زمین اس کی بزرگی سے  روشن ہو گئی۔ (۲) اس نے  بڑی آواز سے  چلا کر کہا کہ گر پڑا۔ بڑا شہر بابل گر پڑا اور شیاطین، کا مسکن اور ہر ناپاک روح کا اڈا اور ہر ناپاک اور مکروہ پرندہ کا اڈا ہو گیا۔ (۳)کیونکہ اس کی حرام کاری کی غضبناک مے  کے  باعث  تمام قومیں  گر گئی ہیں اور زمین کے  بادشاہوں نے  اس کے  ساتھ حرام کاری کی ہے  اور دنیا کے  سوداگر اس کے  عیش و عشرت کی بدولت  دولت مند ہو گئے۔
        (۴) پھر میں نے  آسمان میں کسی اور کو یہ کہتے  سنا کہ اے  میری امت کے  لوگوں ! اس میں سے  نکل آؤ تاکہ تم اس کے  گناہوں  میں شریک  نہ ہو اور اس کی آفتوں میں سے  کوئی  تم پر نہ آ جائے۔ (۵) کیونکہ  اس کے  گناہ  آسمان تک پہنچ گئے  ہیں اور اس کی بد کاریاں  خدا کو یاد آ گئی ہیں۔ (۶) جیسا اس نے  کیا ویسا ہی تم بھی اس کے  ساتھ کرو اور اسے  اس کے  کاموں کا دو چند بدلہ دو۔ جس قدر اس نے  پیالہ بھرا تم اس کے  لئے  دُگنا بھر دو۔ (۷)جس قدر اس نے  اپنے  آپ کو شاندار بنایا اور عیاشی کی تھی اسی قدر اس کو عذاب اور غم میں  ڈال دو کیوں کہ وہ اپنے  دل میں کہتی ہے  کہ میں ملکہ ہو بیٹھی ہوں۔ بیوہ نہیں اور کبھی غم نہ دیکھوں گی۔ (۸) اس لئے  اس پر ایک  ہی دن میں آفتیں  آئیں گی یعنی موت اور غم اور کال اور وہ آگ  میں جلا کر  خاک کر دی جائے  گی  کیونکہ اس کا انصاف  کرنے  والا خداوند خدا قوی ہے۔ (۹) اور اس کے  ساتھ  حرام کاری اور عیاشی  کرنے  والے  زمین کے  بادشاہ جب اس کے  جلنے کا دھواں دیکھیں گے  تو اس کے  لئے روئیں گے  اور چھاتی  پیٹیں گے۔ (۱۰) اور اس کے  عذاب کے  ڈر سے  دور کھڑے  ہوئے  کہیں گے  اے  بڑے  شہر ! اے  بابل ! اے مضبوط شہر ! افسوس ! افسوس ! گھڑی ہی بھر  میں تمہیں سزا مل گئی۔ (۱۱) اور دنیا کے  سوداگر اس کے  لئے روئیں گے  اور ماتم کریں گے کیونکہ  اب کوئی  ان کا مال نہیں خریدنے  کا۔ (۱۲) اور وہ مال یہ ہے  سونا، چاندی، جواہر، موتی اور  مہین کتانی اور ارغوانی اور ریشمی اور قرمزی کپڑے  اور ہر طرح  کی خوشبو دار لکڑیاں اور ہاتھی  دانت کی طرح کی چیزیں اور نہایت  بیش قیمت  لکڑی اور پیتل اور لو ہے  اور سنگ مرمر کی طرح طرح  کی چیزیں۔ (۱۳)اور دار چینی اور مصالح اور عود اور عطر اور لبان اور مے  اور تیل اور میدہ اور گیہوں اور مویشی اور بھیڑیں اور گھوڑے  اور گاڑیاں اور غلام اور آدمیوں کی جانیں۔ (۱۴) اب تمہارے  دل پسند میوے  تمہارے  پاس سے  دور ہو گئے  اور سب لذیذ اور تحفہ  چیزیں تم سے  جاتی رہیں۔ اب وہ ہر گز  ہاتھ نہ آئیں گی۔ (۱۵) ان چیزوں کے  سوداگر  جو اس کے  سبب سے  مالدار بن گئے  تھے اس کے  عذاب کے  خوف سے  دور کھڑے  ہوئے روئیں گے  اور غم کریں گے۔ (۱۶)اور کہیں گے  کہ افسوس ! افسوس ! وہ بڑا شہر  جو مہین کتانی اور ارغوانی اور قرمزی  کپڑے  پہنے  ہوئے  اور سونے  اور جواہر اور موتیوں  سے  آراستہ تھا! (۱۷) گھڑی  ہی بھر میں  اس کی اتنی  بڑی دولت  برباد ہو گئی اور سب ناخدا اور جہاز کے  سب مسافر اور ملاح اور جتنے سمندر کا کام کرتے  ہیں۔ (۱۸) جب اس کے  جلنے کا دھواں  دیکھیں گے  تو دور کھڑے  ہوئے  چلائیں  گے  اور کہیں گے  کونسا شہر اس بڑے  شہر کی مانند ہے ؟(۱۹) اور اپنے  سروں پر خاک ڈالیں گے  اور روتے  ہوئے  اور ماتم کرتے  ہوئے چلا چلا کر  کہیں گے  افسوس ! افسوس! وہ بڑا شہر  جس کی دولت  سے  سمندر  کے  سب جہاز والے دولت مند ہو گئے  گھڑی ہی بھر میں اجڑ گیا۔ (۲۰) اے  آسمان اور اے  مقدسو اور رسولو اور نبیو اس پر خوشی کرو کیونکہ  پروردگار نے  انصاف کر کے  اس سے  تمہارا بدلہ لے  لیا۔
        (۲۱) پھر ایک زور آور فرشتہ نے  بڑی چکی کے  پاٹ کی مانند ایک پتھر اٹھایا اور یہ کہہ کر سمندر میں پھینک دیا کہ بابل  کا بڑا شہر بھی اسی طرح زور سے  گرایا جائے  گا اور پھر کبھی اس کا پتہ نہ ملے  گا۔
(۲۲) اور بربط نوازوں اور مطربوں اور بانسلی بجانے  والوں نے  اور نرسنگا پھونکنے  والوں کی آواز پھر کبھی تم میں نہ سنائی دے  گی اور کسی پیشہ کا کاری گر تم میں پھر کبھی پایا نہ جائے  گا اور چکی کی آواز تم میں پھر کبھی نہ سنائی دے  گی۔ (۲۳) اور چراغ کی روشنی تم میں پھر کبھی نہ چمکے  گی اور تم میں دولہے  اور دلہن کی آواز پھر کبھی نہ سنائی  دے  گی کیونکہ  تمہارے سوداگر زمین کے  امیر تھے  اور تمہاری جادوگری  سے  سب قومیں گمراہ ہو گئیں۔ (۲۴) اور نبیوں اور مقدسوں اور زمین کے  اور سب مقتولوں کا خون اس میں پایا گیا۔



رکوع ۱۹


        (۱) ان باتوں کے  بعد میں نے  آسمان پر گویا بڑی جماعت  کو بلند آواز سے  یہ کہتے  سنا کہ  الحمد اللہ ! نجات اور بزرگی اور قدرت ہمارے  پروردگار ہی کی ہے۔ (۲)کیونکہ  اس کے  فیصلے  راست اور درست ہیں اس لئے  کہ اس نے  بڑی کسبی  کا انصاف کیا جس نے  اپنی حرام کاری  سے  دنیا کو خراب کیا تھا اور اس سے  اپنے  بندوں کو خون کا بدلہ لیا۔ (۳)پھر دوسری بار انہوں نے  الحمد اللہ کہا اور اس کے  جلنے  کا دھواں ابد الآباد اٹھتا رہے  گا۔ (۴) اور چوبیسوں بزرگوں اور چاروں جان داروں نے  گر کر پروردگار کو سجدہ کیا جو تخت  پر بیٹھا تھا اور کہا آمین۔ الحمد اللہ !۔
برہ کی شادی کی ضیافت
(۵)اور تخت میں سے  یہ آواز نکلی کہ اے  اس سے  ڈرنے  والے  بندہ خواہ چھوٹے  ہو خواہ بڑے  ! تم سب  ہمارے  پروردگار کی حمد کرو۔ (۶)پھر میں نے  بڑی جماعت کی سی آواز اور زور کے  پانی کی سی آواز اور سخت  گرجوں کی سی آواز سنی کہ الحمد اللہ ! اس لئے  کہ مولا ہمارا خدا قادرِ مطلق  بادشاہی کرتا ہے۔ (۷) آؤ ہم خوشی کریں اور نہایت  شادمان ہوں اور اس کی تمجید کریں۔ اس لئے  کہ برہ کی شادی آ پہنچی اور اس کی بیوی  نے  اپنے  آپ کو تیار کر لیا۔ (۸) اور اس کو چمکدار اور صاف مہین کتانی  کپڑا  پہننے  کا اختیار  دیا گیا کیونکہ  مہین کتانی  کپڑے سے  مقدس لوگوں کی پرہیزگاری کے  کام مراد ہیں۔ (۹) اور اس نے  مجھ سے  کہا لکھو مبارک ہیں وہ جو  برہ کی شادی کی ضیافت میں بلائے  گئے  ہیں۔ پھر اس نے  مجھ سے  کہا یہ پروردگار کی سچی باتیں ہیں۔ (۱۰) اور میں اسے  سجدہ کرنے  کے  لئے  اس کے  پاؤں پر گرا۔ اس نے  مجھ سے  کہا  کہ خبر دار !ایسا نہ کرو۔ میں بھی تمہارا اور تمہارے  ان بھائیوں کا ہم خدمت ہوں جو سیدنا عیسیٰ مسیح کی شہادت دینے  پر قائم ہیں۔ خدا ہی کو سجدہ کرو کیونکہ سیدنا عیسیٰ مسیح کی گواہی نبوت کی روح ہے۔
سفید گھوڑے  کا سوار
        (۱۱) پھر میں نے  آسمان کو کھلا ہوا دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے  اور اس پر ایک سوار ہے  جو سچا اور برحق کہلاتا ہے  اور وہ راستی کے  ساتھ انصاف اور لڑائی کرتا ہے۔ (۱۲)اوراس کی آنکھیں  آگ کے  شعلے ہیں اور اس کے  سر پر بہت سے  تاج ہیں اور اس کا ایک نام لکھا ہوا ہے  جسے  اس کے  سوا اور کوئی نہیں  جانتا۔ (۱۳) اور وہ خون کی چھڑکی  ہوئی پوشاک  پہنے  ہوئے ہے  اور اس کا نام کلامِ خدا کہلاتا ہے۔ (۱۴) اور آسمان کی فوجیں سفید گھوڑوں پر سوار اور سفید اور صاف  مہین کتانی کپڑے پہنے  ہوئے اس کے  پیچھے  پیچھے  ہیں۔ (۱۵) اور قوموں کے  مارنے  کے  لئے  اس کے  منہ سے  ایک تیز تلوار نکلتی ہے  اور وہ لوہے  کے  عصا سے  ان پر  حکومت کرے  گا اور قادر مطلق  خدا کے  سخت  غضب  کی مے  کے  حوض میں انگور روندے  گا۔ (۱۶) اور اس کی پوشاک اور ان پر یہ نام لکھا ہوا ہے  شہنشاہوں کے  شہنشاہ اور مولاؤں کے  مولا۔
        (۱۷) پھر میں نے  ایک فرشتہ کو آفتاب پر کھڑے  ہوئے  دیکھا اور اس نے  بڑی آواز سے  چلا کر آسمان میں کے  سب  اڑنے  والے  پرندوں سے  کہا آؤ۔ خدا کی بڑی ضیافت میں شریک ہونے  کے  لئے  جمع ہو جاؤ۔ (۱۸)تاکہ تم بادشاہوں کا گوشت اور فوجی سرداروں کا گوشت اور زور آوروں کا گوشت اور گھوڑوں اور ان کے  سواروں کا گوشت اور سب آدمیوں کاگوشت  کھاؤ۔ خواہ آزاد ہوں خواہ غلام خواہ چھوٹے  ہوں خواہ بڑے۔
        (۱۹) پھر میں نے  اس حیوان اور زمین کے  بادشاہوں اور ان کی فوجوں کو اس گھوڑے کے  سوار اور اس کی فوج سے  جنگ  کرنے  کے  لئے اکٹھے  دیکھا۔ (۲۰) اور وہ حیوان اور اس کے  ساتھ وہ جھوٹا نبی پکڑا گیا جس نے  اس کے  سامنے ایسے  نشان دکھائے  تھے  جن سے  اس نے  حیوان  کی چھاپ  لینے  والوں اور اس کے  بُت کی پرستش  کرنے  والوں کو گمراہ کیا تھا۔ وہ دونوں  آگ کی اس جھیل  میں زندہ ڈالے  گئے  جو گندھک  سے  جلتی ہے۔ (۲۱) اور باقی  اس گھوڑے کے  سوار کی تلوار  سے  جو اس کے  منہ سے  نکلتی تھی قتل کئے گئے  اور سب پرندے  ان کے  گوشت سے  سیر ہو گئے۔



رکوع ۲۰: ایک ہزار سال


        (۱) پھر میں نے  ایک فرشتہ کو آسمان سے  اترتے  دیکھا جس کے  ہاتھ میں اتھاہ گڑھے  کی کنجی اور ایک بڑی زنجیر تھی۔ (۲) اس نے  اس اژدہا یعنی پرانے  سانپ کو جو ابلیس اور شیطان  ہے  پکڑ کر ہزار برس کے  لئے  باندھا۔ (۳) اور اسے  اتھاہ گڑھے میں ڈال کر بند کر دیا اور اس پر مہر کر دی تاکہ  وہ ہزار برس کے  پورے  ہونے تک قوموں  کو پھر گمراہ نہ کرے۔ اس کے  بعد ضرور ہے  کہ تھوڑے عرصہ کے  لئے  کھولا جائے۔
        (۴) پھر میں نے  تخت دیکھے  اور لوگ ان پر بیٹھ گئے  اور عدالت  ان کے  سپرد کی گئی اور ان کی روحوں کو بھی دیکھا جن کے  سر سیدنا مسیح کی شہادت دینے  اور پروردگار کے  کلام کے  سبب سے  کاٹے  گئے  تھے  اور جنہوں نے  نہ اس حیوان کی پرستش کی تھی نہ اس کے  بُت  کی اور نہ اس کی  چھاپ اپنے  ماتھے  اور ہاتھوں پر لی تھی۔ وہ زندہ ہو کر ہزار برس تک مسیح کے  ساتھ  بادشاہی کرتے  رہے۔ (۵)اور جب تک یہ ہزار برس پورے  نہ ہو لئے باقی مُردے  زندہ ہوئے۔ پہلی قیامت یہی ہے۔ (۶) مبارک اور مقدُس  وہ ہے  جو پہلی قیامت میں  شریک ہو۔ ایسوں پر دوسری  موت کا کچھ اختیار نہیں بلکہ  وہ خدا تعالیٰ اور سیدنا مسیح کے  امام ہوں گے  اور ان کے  ساتھ  ہزار برس تک بادشاہی کریں گے۔
شیطان کی شکست
        (۷) اور جب ہزار برس  پورے  ہو چکیں گے  تو شیطان قید سے  چھوڑ دیا جائے  گا۔ (۸) اور ان قوموں کو جو زمین کی چاروں طرف ہوں گی  یعنی یاجوج و ماجوج کو گمراہ کر کے  لڑائی  کے  لئے جمع کرنے  کو نکلے  گا۔ ان کا شمار سمندر کی ریت  کے  برابر ہو گا۔ (۹) اور وہ تمام  زمین پر پھیل جائیں گی اور مقدسوں کی لشکر گاہ اور عزیز شہر کو چاروں طرف سے  گھیر لیں گی اور آسمان پر سے  آگ نازل ہو کر انہیں کھائے  گی۔ (۱۰) اور ان کا گمراہ کرنے  والا ابلیس  آگ اور گندھک  کی اس جھیل  میں ڈالا جائے  گا جہاں وہ حیوان اور جھوٹا نبی بھی ہو گا اور وہ رات  دن ابد الآباد عذاب میں رہیں گے۔
یوم انصاف
        (۱۱) پھر میں نے  ایک بڑا سفید تخت اور اس کو جواس پر بیٹھا ہوا تھا دیکھا جس کے  سامنے  سے  زمین اور آسمان بھاگ گئے  اور انہیں  کہیں جگہ نہ ملی۔
        (۱۲)پھر میں نے  چھوٹے  بڑے  سب مردوں کو اس تخت  کے  سامنے  کھڑے  ہوئے  دیکھا اور کتابیں  کھولی  گئیں۔ پھر ایک اور کتاب کھولی گئی یعنی کتابِ حیات اور جس طرح  ان کتابوں میں لکھا ہوا تھا ان کے  اعمال کے  مطابق  مردوں کا انصاف کیا گیا۔ (۱۳)اور سمندر  نے  اپنے  اندر کے  مردوں کو دے  دیا اور موت اور عالم ارواح نے  اپنے  اندر کے  مردوں کو دے  دیا اور ان میں سے  ہر ایک  کے  اعمال  کے  موافق  اس کا  انصاف کیا گیا۔ (۱۴) پھر موت اور عالم ارواح آگ کی جھیل میں ڈالے  گئے۔ یہ آگ کی جھیل  دوسری موت ہے۔ (۱۵) اور جس کسی کا نام کتابِ حیات  میں لکھا ہوا نہ ملا وہ آگ کی جھیل میں ڈال یا۔



رکوع ۲۱: نیا آسمان اور نئی زمین


        (۱)پھر میں نے  ایک نئے  آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا۔ (۲)پھر میں نے شہر مقدس نئے  یروشلیم کو آسمان پر سے  خدا کے  پاس سے  اترتے  دیکھا اور وہ اس دلہن  کی مانند آراستہ تھا جس نے  اپنے  شوہر  کے  لئے  سنگار کیا ہو۔ (۳) پھر  میں نے  تخت  میں سے  کسی  کو بلند آواز سے  یہ کہتے  سنا کہ دیکھو خدا کا خیمہ  آدمیوں کے  درمیان ہے  اور وہ ان کے  ساتھ  سکونت کرے  گا اور وہ اس کے  لوگ ہوں گے  اور پروردگار آپ ان کے  ساتھ رہے  گا اور ان کا خدا ہو گا۔ (۴)اور وہ ان کی آنکھوں کے  سب آنسو پونچھ دے  گا۔ اس کے  بعد نہ موت رہے  گی اور نہ ماتم رہے  گا۔ نہ آہ وہ نالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں  جاتی رہیں۔ (۵) اور جو تخت  پر بیٹھا ہوا تھا اس نے  کہا  دیکھو میں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں۔ پھر اس نے  کہا لکھ لو کیونکہ یہ باتیں  سچ اور برحق ہیں۔ (۶) پھر اس نے  مجھ سے  فرمایا یہ باتیں پوری ہو گئیں۔ میں الفا اور اومیگا ابتدا اور انتہا ہوں۔ میں پیاسے  کو آب حیات کے  چشمہ سے  مفت پلاؤں گا۔ (۷)جو غالب آئے  وہی  ان چیزوں کا وارث ہو گا اور میں اس کا خدا ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہو گا۔ (۸) مگر بزدلوں اور بے  ایمانوں اور گھنونے  لوگوں اور خوبیوں اور حرام کاروں اور جادوگروں اور بُت پرستوں اور سب جھوٹوں کا حصہ آگ اور گندھک سے  جلنے  والی جھیل  میں ہو گا۔ یہ دوسری موت ہے۔
نیا یروشلیم
        (۹) پھر ان سات فرشتوں میں سے  جن کے  پاس سات پیالے  تھے  اور وہ پچھلی  سات آفتوں سے  بھرے  ہوئے  تھے  ایک  نے  آ کر مجھ سے  کہا ادھر آ۔ میں تجھے  دلہن یعنی برہ کی بیوی دکھاؤں۔ (۱۰)اور وہ مجھے روح میں  ایک بڑے  اور اونچے پہاڑ پر لے  گیا اور شہر مقدس یروشلیم  کو آسمان پر سے  خدا کے  پاس اترتے دکھایا۔ (۱۱) اس میں خدا کا جلال تھا اور اس کی چمک  نہایت قیمتی  پتھر یعنی  اس یشب کی سی تھی جو بلور کی طرح شفاف ہو۔ (۱۲) اور اس کی شہر پناہ بڑی اور بُلند  تھی اور ا سکے  بارہ  دروازے  اور دروازوں  پر بارہ فرشتے تھے  اور ان پر بنی اسرائیل  کے  بارہ قبیلوں کے  نام لکھے  ہوئے  تھے۔ (۱۳)تین دروازے  مشرق کی طرف تھے۔ تین دروازے شمال کی طرف۔ تین دروازے جنوب کی طرف اور تین دروازے  مغرب کی طرف۔ (۱۴) اور اس شہر کی شہر پناہ کی بارہ بنیادیں  تھیں اور ان پر برہ  کے  بارہ رسولوں  کے  بارہ نام لکھے  تھے۔ (۱۵)اور جو مجھ  سے  کہہ رہا تھا اس کے  پاس شہر اور اس کے  دروازوں اور اس کی شہر  پناہ کے  ناپنے کے  لئے  ایک  پیمائش کا آلہ یعنی سونے  کا گز تھا۔ (۱۶) اور وہ شہر چوکور واقع ہوا تھا اور اس کی لمبائی  چوڑائی کے  برابر تھی۔ اس نے  شہر  کو اس گز سے  ناپا تو بارہ ہزار فرلانگ  نکلا۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی اور اونچائی برابر تھی۔ (۱۷) اور اس نے اس شہر کی   پناہ کو آدمی  کی یعنی فرشتہ کی پیمائش  کے  مطابق  ناپا تو ایک سوا چوالیس  ہاتھ نکلی۔ (۱۸) اور اس کی شہر پناہ  کی تعمیر  یشب کی تھی اور شہر ایسے خالص سونے  کا تھا جو شفاف  شیشہ کی مانند ہو۔ (۱۹) اور اس شہر  کی پناہ  کی بنیادیں  ہر طرح کے  جواہر  سے  آراستہ تھیں۔ پہلی  بنیاد یشب کی تھی۔ دوسری نیلم  کی، تیسری  شب چراغ کی، چوتھی زمرد کی۔ (۲۰) پانچویں  عقیق کی۔ چھٹی  لعل کی، ساتویں  سنہرے  پتھر  کی۔ آٹھویں  فیروزہ کی نویں  زبرجد کی۔ دسویں یمنی کی، گیارھویں سنگ سنبلی کی اور بارھویں  یاقوت کی۔ (۲۱) اور بارہ دروازے  بارہ موتیوں کے  تھے۔ ہر دروازہ ایک موتی کا تھا اور شہر کی سڑک شفاف  شیشہ  کی مانند خالص  سونے  کی تھی۔ (۲۲) اور میں نے  اس میں کوئی  مقدس نہ دیکھا اس لئے  کہ خداوند خدا قادرِ مطلق اور برہ اس کا مقدس ہیں۔ (۲۳)اوراس شہر میں سورج یا چاند کی روشنی  کی کچھ حاجت نہیں کیونکہ  خدا  تعالی کی بزرگی  نے  اسے روشن کر رکھا ہے  اور برہ اس کا چراغ ہے۔ (۲۴) اور قومیں  اس کی روشنی میں چلیں پھریں گی اور زمین کے  بادشاہ اپنی  شان و شوکت  کا سامان اس میں لائیں گے۔ (۲۵) اور اس کے  دروازے دن کو ہرگز  بند نہ ہوں گے  (اور رات وہاں نہ ہو گی )(۲۶) اور لوگ قوموں  کی شان و شوکت اور عزت کا سامان اس میں لائیں گے۔ (۲۷) اور اس میں کوئی  ناپاک چیز یا کوئی شخص  جو گھنونے کا کام کرتا یا جھوٹی  باتیں  گھڑتا ہے  ہرگز  داخل نہ ہو گا مگر وہی جن کے  نام برہ کی کتابِ حیات میں لکھے  ہوئے  ہیں۔



رکوع ۲۲


        (۱)پھر اس نے  مجھے  بلور کی طرح  چمکتا ہوا آبِ حیات  کا ایک دریا دکھا دیا جو خدا اور برہ کے  تخت سے  نکل کر اس شہر کی سڑک کے  بیچ میں بہتا تھا۔ (۲)اور دریا کے  وار پار زندگی کا درخت تھا۔ اس میں بارہ قسم  کے  پھل آتے  تھے  اور ہر مہینے میں پھیلتا تھا اور اس درخت  کے  پتوں سے  قوموں  کو شفا ہوتی تھی۔ (۳) اور پھر لعنت  نہ ہو گی اور خدا اور برہ  کا تخت اس شہر میں ہو گا اور اس کے  بندے  اس کو عبادت کریں گے۔ (۴) اور وہ اس کا منہ دیکھیں گے  اور اس کا نام ان کے  ہاتھوں پر لکھا ہوا ہو گا۔ (۵)اور پھر  رات نہ ہو گی اور وہ چراغ اور سورج  کی روشنی کے  محتاج نہ ہوں گے  کیونکہ  خداوند خدا ان کو روشن کرے  گا اور وہ ابد الاآباد بادشاہی کریں گے۔
آمد ثانی
        (۶)پھر اس نے  مجھ سے  فرمایا کہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں چنانچہ خداوند نے  جو نبیوں کی روحوں کا خدا ہے  اپنے  فرشتہ کو اس لئے بھیجا کہ اپنے  بندوں  کو وہ باتیں  دکھائے  جن کا جلد ہونا ضرور ہے۔ (۷) اور دیکھو میں جلد آنے  والا ہوں۔ قابلِ ستائش  ہے  وہ جو اس کتاب کی نبوت  کی باتوں پر عمل کرتا ہے۔
        (۸)میں وہی یوحنا جو ان باتوں کو سنتا اور دیکھتا تھا اور جب میں نے  سنا اور دیکھا تو جس فرشتہ نے  مجھے  یہ باتیں دکھائیں  میں اس کے  پاؤں پر سجدہ کرنے  کو گرا۔ (۹) اس نے  مجھ سے  فرمایا خبر دار! ایسا نہ کرو۔ میں بھی تمہارا اور تمہارے  بھائی نبیوں اور اس کتاب کی باتوں پر عمل کرنے  والوں کا ہم خدمت ہوں۔ پروردگار ہی کو سجدہ کرو۔
        (۱۰) پھر اس نے  مجھ سے  فرمایا اس کتاب کی نبوت کی باتوں کو پوشیدہ نہ رکھو کیونکہ وقت نزدیک ہے۔ (۱۱)جو برائی کرتا ہے  وہ برائی ہی کرتا جائے  اور جو نجس ہے  وہ نجس ہی ہوتا جائے  اور جو راست باز ہے  وہ راست بازی ہی کرتا جائے  اور جو پاک ہے  وہ پاک  ہی ہوتا جائے۔ (۱۲) دیکھو میں جلد آنے  والا ہوں اور ہر ایک کے  کام کے  موافق دینے  کے  لئے  اجر میرے  پاس ہے۔ (۱۳) میں الفا اور اومیگا، اول و آخر، ابتدا و انتہا  ہوں۔ (۱۴) مبارک ہیں وہ جو اپنے جامے  دھوتے  ہیں کیونکہ  زندگی کے  درخت کے  پاس آنے  کا اختیار پائیں گے  اور ان دروازوں سے  شہر میں داخل ہوں گے۔ (۱۵) مگر کتے  اور جادوگر اور حرام کار اور خونی اور بُت پرستی اور جھوٹی بات کا ہر ایک پسند کرنے  اور گھڑنے  والا باہر رہے  گا۔
        (۱۶)سیدنا مسیح نے  اپنا فرشتہ اس لئے  بھیجا کہ جماعتوں کے  بارے  میں تمہارے  آگے  ان باتوں کی شہادت دے۔ میں داؤد کی اصل ونسل اور صبح کا چمکتا ہوا ستارہ ہوں۔
        (۱۷) اور روح اور دلہن کہتی ہیں آ اور سننے  والا بھی کہے  آ۔ اور جو پیاسا ہو وہ آئے  اور جو کوئی چاہے  آبِ حیات مفت لے۔
اختتامی کلمات
        (۱۸) میں ہر ایک آدمی کے  آگے جو اس کتاب کی نبوت کی باتیں سنتا ہے  شہادت دیتا ہوں کہ اگر کوئی  آدمی ان میں کچھ بڑھائے  تو پروردگار اس کتاب میں لکھی ہوئی آفتیں اس پر نازل کریں گے۔ (۱۹) اور اگر کوئی اس نبوت کی کتاب کی باتوں  میں سے  کچھ نکال ڈالے  تو پروردگار اس زندگی کے  درخت اور مقدس شہر میں سے  جن کا اس کتاب میں ذکر ہے  اس کا حصہ نکال ڈالیں گے۔
(۲۰) جو ان باتوں کی شہادت  دیتا ہے  وہ یہ کہتا ہے  کہ بیشک میں جلد آنے  والا ہوں۔ آمین۔ اے  مولا عیسیٰ آئیے۔
        (۲۱)آقا و مولا سیدنا عیسیٰ کا فضل مقدسوں کے  ساتھ رہے۔ آمین۔
٭٭٭
ماخذ:
تدوین ، پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید


انجیل مقدس جلد دوم پارٹ7 آخری حصہ انجیل مقدس جلد دوم پارٹ7 آخری حصہ Reviewed by tibb4all on July 30, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.