قرابدین مارستانی کی علمی و طبی،تاریخی افادیت۔ Of Qarabuddin Maristani Scientific and medical, historical utility.من قراب الدين المريستاني المنفعة العلمية والطبية والتاريخية.#Hakeemqari younasshahid - Tibb4all

قرابدین مارستانی کی علمی و طبی،تاریخی افادیت۔ Of Qarabuddin Maristani Scientific and medical, historical utility.من قراب الدين المريستاني المنفعة العلمية والطبية والتاريخية.#Hakeemqari younasshahid



 قرابدین مارستانی کی علمی و طبی،تاریخی افادیت۔

 Of Qarabuddin Maristani Scientific and medical, historical utility

.من قراب الدين المريستاني المنفعة العلمية

 والطبية والتاريخية.#

Hakeemqari younasshahid

قرابدین مارستانی۔۔۔علمی و طبی،تاریخی افادیت۔۔
از
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو۔
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی
کاہنہ نولاہور پاکستان

علم الادویہ ایسا موضوع ہےجس پر عربی فارسی اور اردو کے ساتھ دنیا کی ئی زبانوں میں کتب شائع ہوچکی ہیں۔دنیا کی تاریخ میں اسلامی دور ایک روشن باب ہے جس میں سابقہ علوم ہی روایت نہیں کئے گئے بلکہ نئے علوم و فنون کی داغ بیل بھی ڈالی گئی اور پرانے علوم کو نقل کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں ماہرانہ اضافے اور تحقیقات شامل کی گئیں،۔

تاریخ علم الادویہ
علم طب ایک اہم اور شریف علم ہے ،ادویہ سازی اس کی اہم شاخ اور اس کی روح کی حیثیت رکھتی ہے،ادویہ سازی میں مسلم اطباء نے کارہائے نمایاں سر انجام دئے،ہر ایک نے اپنے انداز سے تحقیقات کیں ہر ایک کا اپنا انداز تحقیق،اسلوب نگارش اور طرز مباحث ہر دور میں الگ الگ رہا، لیکن غرض و غایت ایک ہی تھی یعنی بنی نوع انسانی کو اسقام و امراض اور جسمانی آفات سے بچانا،تندرستی کی بقاء کی جدوجہد کرنا۔یہ علم انبیاء کی میراث ہے، ہر قوم نے اپنے اپنے حصے کا کام کیا،کچھ محسنین طب کے نام یاد رہے، اور بے شمار پردہ اخفاء میں مستور ہوگئے۔
یوں تو طب کرہ معمورہ پر ہر خطے میں پروان چڑھی ،لیکن اسلامی دنیا میں یونانی طب کو شہرت ملی اس کی مختلف وجوہ ہیں اس پر پھر کبھی بات ہوگی۔طب یونانی کے روز اول ہی سے یہ علم ترقی پزیر اور نمو انگیز رہا ،ترقی کے مختلف مراحل سے گزرکرتحقیقات کے نئے دور میں داخل ہوا۔
مشہور یونانی حکیم بقراط کے عہد تک دوسو (200)ادویات پر کام ہوچکاتھا اور دنیا ان دوسو ادویات کی طبی خصوصیات سے آگاہ ہوچکی تھی،جب یہ علم تراجم کی وساطت سے عربی کے پاس پہنچا تو ان کی خلوص نیت اور ہمہ وقت کی تحقیقات نے طب کو نئی جہت دی، ان کی سچی لگن و جستجو نے طب کو عوام و کواص تک رسائی دی، اہل اسلام نے مختلف اقوام کے تجربات سے کماحقہ فائدہ اٹھاتے ہوئے علم طب کی پھر سے تراش کی، طب کی دنیا میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔تاریخ علم الادویہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نویں صدی سے تیرھویں صدی تک ادویہ کی تحقیقات اور تعداد میں بے حد اضافہ ہوا،اس قدر محنت شاقہ سے کام لیا گیا کہ محققین کی تصنیف و تالیفات سے کتب خانہ معمور ہوتے گئے،مسلم اطباء نے علم طب میں نئی تحقیقات قلمبند کرکے شہرت دوام حاصل کی۔
عہد نبوی میں حارث بن کلدہ غالباََ پہلا شخص تھا جس نے اہل عرب کو یونانیوں کے طریقہ ہائے علاج سے روشناس کرایا ،اس کے بعد تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوگیا،۔
(۱)الحارث بن کلدہ الثقفی(المتوفی670ء)
یہ مشہور عربی طبیب تھا جو آخر عہد جاہلی میں پیدا ہوا علم طب میں مہارت حاصل کی قبیلہ بنوثقیف سے تعلق تھا طائف میں پیدا ہوئے۔جوانی کے دنوں میں ایران کا سفرکیا اور جندی شاہ پور کے طبی مدرسہ میں طبی علم حاصل کیا ان کی حاذقیت نے انہیں عرب دنیا میں نمایاں مقام بخشا عرب علاقوں میں ان کی شہرت دور دورتک پھیلی ہوئی تھی(ابن جلجل طبقات الاطباء54 ) جس وقت میدان طب میں ان کا طوطی بولتا تھا انہیں دنوں میں طلوع آفتاب اسلام ہوا رسول اللہ ﷺ نے کئی مواقع پر ان کی خدمات حاصل کیں اپنے اصحاب کو ان سے علاج کرانے اور طبی مشاورت کی ہدایات دیں،حضرت سعد بن ابی وقاص کو دل کا دورہ پڑا رسول اللہ ﷺ نے ان کی عیادت فرمائی عجوہ کھجوریں گٹھلی سمیت کوٹ کر کھلائی گئیں انہی حارث بن کلدہ سے علاج کرانے کو کہا(ابوداؤد ،الطب) ابن کلدہ کے بارہ میں مختلف آراء ہیں لیکن یہ بات مسلم ہے جس وقت سعد بن ابی وقاص کودل کا دورہ پڑا تھا اس وقت یہ مسلمان نہ تھے ۔جامع الصول والے لکھتے ہیں’’وان ذالک دلیل علی جواز  الاخذ بصفۃ اھل الکفر،اذاکانوا من الطب‘‘ یعنی کفار طبی ماہرین کی خدمات حاصل کے لئے یہ بات بطور دلیل پیش کی جاسکتی ہے(جامع الاصول 286/12الجزری ابن الاثیر(المتوفی606ھ)
 ڈاکٹر اقتدار فاروقی لکھتے ہیں’’مندرجہ بالا حدیث کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ حضرت سعد کے لئے صرف ایک صلاح نہیں بلکہ عمومی طورپر پوری امت کے لئے ایک پیغا م ہے کہ جب کوئی فردکسی شدید مرض میں مبتلاء ہوتو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے قریب کے کسی ماہر طبیب سے رجوع کرے،طبیب کا صرف ماہر ہونا شرط ہے ،اس کا دین اور نسل اور قومیت کیا ہے اس کا کوئی واسطہ علاج سے نہیں‘‘(طب نبوی اورنباتات احادیث)
حارث بن کلدہ انہیں طبیب العرب بھی کہا جاتا ہے ۔کا قول ہے ’’بخار سب دوأوں کا سردار ہے پیٹ سب بیماریوںکی آماجگاہ ہے۔انہی کا قول ہے’’ایک کھانے پر بغیر ہضم ہے دوسرا کھانہ ہلاکت ہے(جامع العلوم والحکم1239/3)
 حضرت عبد الملک بن عمیر سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حارث بن کلدہ جو کہ پر عرب کے طبیب تھے۔ کہتے ہیں۔ میں سورج کو تین وجہ سے ناپسند کرتا ہوں۔ ہوا کو بوجھل کردیتا ہے۔ کپڑے کو پرانا کردیتا ہے۔ اور دبی ہوئی بیماری کو باہر نکال دیتا ہے۔ ابن ابی شیبہ:جلد ہفتم:حدیث نمبر 306 (
صاحب ماثر الامراء نے تو یہ بھی لکھا ہے’’جب بارگاہ رسالت میںحاضر ہو اتو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے دعائے خیر فرمائی اور فرمایا کہ تیری اولاد میںاللہ تعالیٰ قیامت تک طبابت و جراحی جاری رکھے گا(ماثر الامراٗ 77/1)
ان کی طرف ایک کتاب المحاورۃ فی الطب بھی منسوب کی جاتی ہے جس میں مختلف مکالمات ہیں ابن کلدہ کا نوشیرواں سے ایک مشہور مکالمہ بھی مذکور ہے۔سلیمان ابن جلجل نے ایک حکایت نقل کی ہے ۔
 ۔۔۔ ابونجیح (رح) سے مروی ہے کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے طبیب عرب ” حارث بن کلدہ “ سے سوال کیا ” دوا کیا ہے “ اس نے کہا دانتوں کو بھینچنا ۔ یعنی پرہیز ، ابو عبید نے روایت کیا غریب میں ۔ (ابن السنی ، ابو نعیم ٍالبیہقی فی شعب الایمان) کنزالعمال:جلد پنجم:حدیث نمبر 3830 مکررات 0 متفق علیہ
۲)رفاعۃ ابو زمثۃ التمیمی(المتوفی94ھ بمطابق669ء)
یہ نبو تمیم کے باشندے تھے اسلام لانے کی غرض سے مدینہ منورہ حاضر ہوئے ان کے والد ماجد بھی طبیب تھے(ابن جلجل)انہوں نے نبیﷺ کے کندھے پر ایک ابھار(ختم نبوت)دیکھا انہوں نے خیال کہ یہ کوئی سرطانی ابھار ہے انہوں نے ارادہ کیا کہ اس کا آپریشن کردیا جائے جب یہ بات نبیﷺ کو معلوم ہوئی تو فرمایا’’ان اللہ ھو الطبیب،ولکنک رجل رفیق‘‘(مسند احمد )حقیقی شافی تو اللہ کی ذات ہے تم ایک محبت رکھنے والے دوست ہو۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے عہد نبوی ﷺمیں اطباء یہ استعداد رکھتے تھے کہ اعمال جراحی کرسکیں ۔
عہد اموی میں عیسی بن حکم کی کتاب الکناش اور تیاذوق کی کتاب الادویہ اس کا روشن ثبوت ہیں۔عہد عباسی میں علم طب میں زبردست ترقی کی۔خلفاء کی فیاجانہ سرپرستی نےاطباء کونیا ولولہ دیا،مالی معاونت نےعلم طب کی اشاعت کو چار چاند لگادئے،طب کے فروغ و ارتقاء کا نیا دور شروع ہوگیا۔
جب دیسقوردس کی کتاب الحشائش کومعتبر و مستند تسلیم کرتے ہوئےتحقیق و ترجمے کے لئے منتخب کیا گیا تو یہ علم وسیع تر ہوتا گیا،اس کی وسعت پزیری کو صاحب "عیون الابناء فی الطبقات الاطباء" لکھتے ہیں:"دیسقوریڈس کی کتاب کا عربی ترجمہ سب سے پہلے عباسی خلیفہ جعفر المتوکل کے دور میں اصطفن بن بسیل کے ذریعہ ہوا،حنین بن اسحق نے اس کی تصحیح اور نظر ثانی کا فریضہ سر انجام دیا،اصطفن کو جن یونانی الفاظ کے عربی متبادل مل سکے ان کو لکھ دیا اور بقیہ ناموں کو جوں کا توں باقی رکھا اس امید کے ساتھ کہاللہ کا کوئی بندہ ان الفاظ کو عربی میں منتقل کردیگا،اس کے بعد یہ ترجمہ اندلس کے حکمرانالناصر بن عبدالرحمن بن محمد کے زمانے میں بغداد سےاندلس پہنچا،وہاں اہل مشرق اور اندلس نے اس سے خوب فائدہ اٹھا یا،اسی اثنا میں قسطنطنیہ کے رومی حکمران ارمانیوس(Romanos)نے337ھ میں دیسقوریدس کی اصل کتاب جو اگریقی یعنی قدیم یونانی زبان میں تھی اور جڑی بوٹیوں کی تصاویر سے مزین تھی،الناصر کے پاس بطور تحفہ ارسال کی،اتفاق ایساکہ اس وقت اندلس کے نصاریٰ میںسے کوئی بھی شخص اس زبان کا جاننے والا موجود نہ تھا،اس لئے یہ کتاب کچھ مدت تک الناصر کے کتب خانہ میں بلا ترجمہ ہی پڑی رہی،اہل اندلس کے پاس سوائے اصطفن کے ترجمہ سے استفادہ کرنے کے کوئی دوسرا ذریعہ نہ تھا،جو بغداد سے اندلس پہنچا تھا،الناصر کو جب اس کی اہمیت کا اندازہ تو اس نے اس کتاب کا ترجمہ کرانے کا فیصلہ کیا،اس نے ارمانیوس کو ایک خط لکھ کر ایسا شخص بھیجنےکی فرمائش کی جو اغریقی زبان کا ماہر ہو،اس کی درخواست پر340ھ میں الناصر کی خدمت میں نقولا نامی ایک راہب کو بھیجا گیا،جس نے قرطبہ پہنچ کر اپنا کامسرانجام دیا،اس سلسلہ میں محمد بن سعد،عبدالرحمن بن اسھق بن ہیثم اور ابو عبداللہ صقلی نے اس کی مدد کی۔یہ لوگ کتاب الحشائش کے نکات کو سمجھنے،نباتات و عقاقیر کے ناموں کی تحقیق کرنے اور ان کے افعال و کواص دریافت کرتے تھے،ان میں صرف وہی دوائیں رہ گئی تھیں،جن کے ناموں کا پتہ نہ چل سکا"(عیون ابناء الاطباء)
بعد ازاں ابن جلجل نے372ھ/983ء میں ہشام موید باللہ کے دور اقتدار میں اس کتاب کی طرف توجہ مبذول کی اور بہت سی ادویہ مفردہ کی تشریح کی اور اپنی کتاب"تفسیر ادویہ المفردۃ من کتاب دیسوریدس"میں ان ادویہ کا بھی تذکرہ کیا جن کا ذکر دیسوریدس کی کتاب میں موجود نہیں ہے۔۔
ابن جلجل کے بعد ابن بطار کا دور آیا جس کا پورا نام ضیاء الدین عبد اللہ بن احمد المالمفی ہے۔وہ1197ء میںطلوع ہوا،اس نےادویہ کی تحقیق و تفتیش اور تلاش و جستجو میں جو خدمات سرانجام دی ہے وہ ناقابل فرماوش ہیں،ان کے کارنامے تاریخ کے صفحات پر ثبت رہیں گے،ابن اصبیقہ لکھتے ہیں:"حکیم عظیم ابو عبد اللہ بن احمد بن احمد الماللقی معروف بہابن البطار نباتات کی معرفت وتحقیق،ان کی جائے پیدائش اور ان کے مختلف ناموں کے بارے میںیکتائے روزگار اور علامۃ الدہر تھا،اس نے اغارقہ کے شہروں اور بلاد روم کا سفر کیا اور ان لوگوں سے ملاقات کی کی جنہوں نے اس معاملہ میں اس کی مدد کی،اس نے اس طریقے سےبہت سا علم حاصل کیا،ان کے اصلی مقامات پر جاکر معانیہ کیا،اس نے مغرب اور دیگر جگہوں کے ماہرین نباتات کی،ان کی ماہیت معلوم کی نیز دیسقوریدس کی کے کتاب کے بارے تحقیق کی۔"
ابن ابی اصیبعہ مزید لکھتے ہیں۔"ابن بطار ادویہ کی تحقیق و جستجو کے تعلق سے ملک شام گیا اور ملک ایوبی نے اس کو دیار مصر میں رئیس المشائبین و اصحاب البسطات مقرر کیا۔۔
ابن بیطار نے دیسقوریدس کی کتاب کی شرح لکھی اور اس کو"الابائنہ والاعلام"کے نام سے موسوم کیا۔اس کے علاوہ اس نے ادویہ پر ایک جامع کتاب قلمبند کی جو الجامع المفردات والادویہ والاغذیہ:کے نام سے معروف مشہورہے ،اس میں مصنف نے چودہ سو زائد دائوں کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں،اس کتاب کی غیر معمولی خصوصیات کی وجہ سے کئی زبانوں میں اس کے تراجم کئے گئے۔
رشید الدین المصوری کا نام بھی علم الادویہ کی تاریئخ میں اہمیت کا حامل ہے،یہ 573ھ میں شہر صور میں پیدا ہوئے اور 539ھ میں دمشق میں دنیائے فانی سے کوچ کرگیا،اس نے تحقیق تدقیق کی خاطر دور دراز مقامات کے اسفار کئے،ساتھ میں مصور کی خدمات حاصل کی ہوئی تھیں جو محققہ عقاقیر سامنے آتیں ان کی تصاویر بنا تے۔اس بارے میں۔ابن ابی اصبیعہ لکھتے ہیں:رشید الدین الصوری کے ساتھ ایک مصور بھی ہوتا تھا،جس کے پاس نوع بہ نوع کے رنگ ہوتے تھے۔رشید الدین ان مقامات کی طرف جاتاتھا،جو خاص خاص بوٹیوں کے لئے مشہور تھے مثلاََ کوہ لبنان وغیرہ مقررہ مقام پر پہنچ کر تے،تحقیق کرتے اس کے بعداپنے مصور کو جڑ پتے کو دکھاکران کی رنگین تصویریں بنواتے،اوروقت پیدائش ،جوانی،اور عروض و پختہ حالت میں اس کی تصاویربنانے کا حکم دیتے۔حقیقت کے قریب تر رنگ بھرواتے۔تکمیل کے بعد شامل کیا جاتا،انہوں نے اپنی کتاب کا نام"کتاب الادویہ المفردہ"کے  نام سے تحریر کیا"۔
ابن خلکان نے بھی اپنی کتاب "وافیات الاعیان"میں ادویہ کے  میدان میں عربوں کی شاندار خدمات کو قلمبند کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:انہوں نے ریوند کی جڑ،کافور اور سنا کے افعال و کواص معلوم کئے اور طب میںجڑ کا استعمال کیا،انہوں نے ایسی دوائیں دریافت کیں جن سے اطبائے یونان ناواقف تھے۔
عربوں کی تحقیقات کے جرجی زیدان بھی قدردان دکھائی دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں"وذالک غایۃ ما یفعلہ الباحثون فی ھذا العلم الیوم۔اور یہ اس کا م کا آخر ہے جسے اہل علم اور محققین سرانجام دے رہے ہیں۔"
اس کے علاوہ،دائود انطاکی۔الکندی،کرمانی،غافقی روشن مثالیں ہیں۔ ان کا دائرہ تحقیق سر زمین عرب تک ہی محدود نہ تھا اان کا میدان عمل بہت وسیع تھا۔حتی الوسع دیگر ممالک سے بھی عقاقیر منگوائی جاتیں تاکہ ان کے خواص پر تحقیقات کی جاسکیں۔بقول جرجی زیدان انہوں نے اس بارہ میں بے پناہ سعی مشکور فرمائی۔
قرابدین۔
جہاں تک قرابدین کا تعلق ہے،یہ یونانی لفظ کا معرب ہے جو ترکیب ادویہ کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے،ابتدائی دور میں اسے وہ مقام حاصل نہ تھاجو آج حاصل ہے،ترکیب ادویہ سے متعلق ایسے قووانین وضع نہیں کئے گئے تھے جن کی ملکی سطح پر اہمیت ہو۔عربی عہد میں فن دوا سازی کو اہم مقام ملا ،عرب مسلم اطباء اور کیمیادانوں نے تصعید،تقطیر،تذویب،تبلور اور تحریق جیسے اہم طریقے ایجا د کئے،جن کی مدد سے بہت مرکبات وجود میں آئے،اگر یہ کہا جائے کہ تحلیل و تجزیہ اور ترکیب و ترتیب کے ذریعہ فن دوا سازی اور صیدلہ کی بنیاد انہوں نے ڈالی تو بے جا نہ ہوگاانہوں نے اس فن کو وقیع بنا کرقرابدین (فارماکوپیا) مرتب کیں،اس سے قبل منظم انداز میںقرابدین کی تدوین کا ذکر نہیں ملتا۔
عرب خلفاءاور حکمرانوں کا طب سے لگائو اور بے پناہ شغف نےاس فنکو بام عرج تک پہنچایا۔عہد اسلامی میں جس اولین قرابدین کا ذکر ملتا ہے وہ یوحنا بن ماسویہ(المتوفی857ھ)کی تالیف ہے،اس کے بعد جن اطباء کے قرابدینی کتب کے حوالے ملتے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
(1)سابور بن سہل"المتوفی869ء"    (2)یعقوب کندی"المتوفی870ء"
(3)حنین بن اسحق"المتوفی877ء"    (4)زکریا رازی"المتوفی865۔925ء"
(5)ابن الجزار"المتوفی979ء"        (6)ابن جلجل"المتوفی976۔1007ء"
(7)ابن سینا"المتوفی980۔1037ء"    (8)سعید بن ہبۃ اللہ"المتوفی1101)
(9)ابن تلمیذ"المتوفی560/1164ء۔(10)سہلان بن کیسان"المتوفی990ء"
(11)نجیب الدین ثمر قندی"المتوفی619ھ/1222ء"
مذکورہ بالا فہرست میں یعقوب کندی کو اولین دورجہ حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب کا مستقل موضوع قرار دیا۔ذخیرہ مفردات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ مرکبات اور قرابدین پر بھی متعدد کتب قلمبند کیں،چند ایک درج ذیل ہیں۔
(1)قرابدین شفائی از حکیم مظفر بن حمد حسینی شفائی۔
(2)قرابدین قادری از حکیم محمد اکبر رزانی
(3)جمع الجوامع"قرابدین کبیر"از حکیم میر محمد حسین۔
(4)علاج الامراض از حکیم محمد شریف خاں
(5)قرابدین جلالی از حکیم جلال الدین امروہی
(6)قرابدین بقائی از حکیم محمد اسماعیل بن حکیم بقاء خاں
(7)قرابدین ذکائی از حکیم ذکاء اللہ خاں
(8)احسن القرابدین،از حکیم احسن خاں
(9)قرابدین اعظم۔از حکیم اعظم خاں۔
(10)قرابدین نجم الغنی از حکیم نجم الغنی
(11)قرابدین اعظم واکمل از حکیم محمد اکمل خاں۔
قرابدین کے علاوہ کچھ بیاضات،معمولات مطب کا بھی ذکر ملتا ہےجن میں مطب حکیم علوی خاں کو خاص شہرت حاصل ہے۔
 سبب تالیف قرابدین مارستانی۔
مولف اس کی تالیف کا سبب لکھتے ہوئے کہتے ہیں"ہم نے یہاں آفاق و انفس کی نشانیاں دیکھ کر اللہ کے علم،اس کی قدرت اور تمام لوگوں پر اس کے فضل و کرم کے پیش نظر کچھ چیزیں جمع کی ہیں،اس کاوش کے وعض میری خواہش  یہ رہی کہ جولوگ اس فن کو اختیئار کرتے اور اسے پریکتس میں لاتے ہیں ان کے لئے طبی کتابوں سے اخذ کرکے مختصرطورپر ترکیب ادویہ کے اصول یکجا کردوں،جنہیں وقت اور حالات کے لحاظ سےکسوٹی پر پرکھ لیا گیا ہو،جن سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ آسان ہو۔ میں نے شہر "لم"کے ہسپتالوں میں اطباء کو دیکھاہےوہ مرکبات کے چند نسکون پر انحصار کرتے ہیں،جوکچھ پتوں پر مشتمل ہوتے ہیں،انہوں نے ان ادویہ پر غور و فکر کرنے کے بعد بڑے بڑے معجونات تیار  کئےجن کے اثراتبے توجہی کی وجہ سے باطل ہوچکے تھے،انہوں نے جن چیزوں کو اپنایاوہ ترکیب ادویہ سازی میں خرابی کی وجہ سے اور اجزاء کے نکمے پن کی وجہ سے بےکار ہوچکی تھیں۔
طبیب کے لئے زیبا نہیں کہکہ وہ بدن کے اندر واقع ہونے والی ہر چھوٹی بڑی اور معمولی بیماری کا علاج کرنے بیٹھ جائے، بلکہ اسے چاہئے کہ مختلف تدبیریں اختیار کرے اور اسباب ستہ ضروریہ میں تعدیل سے کام لے،وہ نہ زیادہ چیزیں اپنائے اور نہ ہی بدن کے طبعی افعال میں خلل انداز ہوکیونکہ کسی ٹہری ہوئی چیز کو تھریک دینےکے مقابلہ میںکسی محرک چیز کو ساکن کرنا دشوار ہے۔اور جہاں تک ممکن ہو غذائی دوائی کے ذریعہ سے علاج کیا جائے،خالص دوائوں سے علاج کرنا مناسب نہیں ، اگر چہ اس میں دوائے غذائی کی اجازت ہو،اگر کالص دوائوں کے لئے مجبور ہونا پڑےتو حتی الامکان مفردات سے آگے نہ بڑھیں،کیونکہ یہ جسم کے لئے آسان ہیںاور دفیعہ مرض کے لئے کارگر ہیں۔جیساکہ جالینوس مرکبات کے بارے میں لکھتا ہے "جودوائیں مختلف اور کثیر المنفعتوں کے ساتھ ذکر کی جاتی ہیں وہ نفع بخش نہیں ہوتیں،اچھے طریقے سے ایک بھی فائدہ ان سے حاصل نہیں کیا جاسکتاکیونکہ وہ ایسی مختلف دوائوں سے مرکب ہوتی ہیں جن میں سے ہر ایک کسی ایک مرض کے لئے کارگر ہوتی ہے۔مثلاََاگر کوئی تکلیف میں مبتلاء ہواور لوگ اس میں مرکب دوا کا مطالبہ کریںتاکہ اس میں سے ہر نفع بخش دوا معمولی سی مقدار کئی بیماریوں میں فائدہ دے تو ظاہر بیماریوںمیں کبھی بھی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتاجس کے لئے وہ کثیر مقدار میں مطلوب ہوتی ہے بالخصوص ایسے دور میں جب کہ علوم و فنون کے آچار ناپید ہورہے ہوں اور فن و حرفت سرد مہری کا شکا ر ہوں ۔ عمدہ دوائوں کا ناپید ہونا ظاہر ہے ان کے صرف نام باقی رہ گئے ہیں،خالص شکل میں موجود نہیں ہیں،ان میں یا کھوٹ ہےیا وہ بے اثر ہوچکی ہیں،طویل عرصہ تک پڑے رہنے کی وجہ سے ان کے افعال کمزور ہوچکے ہیں،اکثر و بیشتر ادویہ کا حال یہ ہے کہ ساٹ بلات کے بعد ختم نہیں ہوتی۔لہذا کثیر اخلاط پر مشتمل مرکبات کو اس دور میںچھوڑ دینا زیادہ بہتر ہے اور ترکیب کی ضرورت پڑنے پر اس میں نمایاں مرکب پر اکتفاء کرنا ایک الگ بات ہےکیونکہ اس سے فائدہ کی توقع ہے۔لوگوں کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ اطباء کی قرابدین اور ادویہ کی ترکیب میں جدو جہد نہ کی جائے اور بوقت ضرورت قوانین ترکیب کی گوناگونی کے پیش نظر اس میں غور و تدبر نہ کیا جائے۔اور بوقت ضرورت قوانین ترکیب کی گوناگونی کے پیش نظر اس میں غور و فکر نہ کی جائے،اس لئے کہ مریض اور مزاج کی رعایت زیادہ موزوں ہے بجائے اس کے کہ ان قرابدینوں سے  نقل کی جائےجن میں زیادہ تر بے کار و لایعنی چیزیں بھری پڑی ہیں اور اغلاط و تحریفات،متروکات اور خورد برد سے اٹی پڑی ہیں،لوگوں کا یہ حال ہے کہ انہوں نےان قرابدینوں کو اللہ کی کتاب کی حیثیت دے رکھی ہےجہاں کسی تبدیلی اور رد و بدل کی گنجائش نہیں ہے اور جن و انس میں سے کوئی بھی اس کی نظیر نہ لاسکا،ایسے ہی لوگوں کو جالینوس نے تنقید کا نشانہ بنایاہے اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ"جب ان میں سے بیشتر نسخے جائع ہوگئے اور وہ غم و اندوہ سے دوچار ہوئے اور ان کے دوسرے مجموعے حاصل کئےجس میں راہ یاب نہ تھےاور ایسے لوگوں کی،جو قوی ادویہ کا علم رکھتے تھے اور ان کی تراکیب سے واقف تھےاس بات کی ضمانت لے لیکہ وہ جب چاہیں ان سے بہتر چیزوں کو ترکیب دیں۔چنانچہ جب کسی مرض میںکوئی دوا نہ ہونے کے سبب مختلف دائوں کو مرکب کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس مقصدبراری کے لئے کچھ ترکیبیں مرض اور بیماری کی رعایت کرتے ہوئے انجام پائیں اور کچھ دوسرے نسخے اعضاء اور ان کے اردگردکا لحاظ کرتےترتیب دئے گئے اسی طرح بعض دوسری ترکیبیں بھی وجود میں آئیں اور ترکیب کے کچھ اسباب قرار پائے(قرابدین مارستانی مقدمہ)

 

قرابدین مارستانی کی علمی و طبی،تاریخی افادیت۔ Of Qarabuddin Maristani Scientific and medical, historical utility.من قراب الدين المريستاني المنفعة العلمية والطبية والتاريخية.#Hakeemqari younasshahid قرابدین مارستانی کی علمی و طبی،تاریخی افادیت۔ Of Qarabuddin Maristani Scientific and medical, historical utility.من قراب الدين المريستاني المنفعة العلمية والطبية والتاريخية.#Hakeemqari younasshahid Reviewed by tibb4all on October 17, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.