پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب۔ایک مشفق و مہربان استاد: - Tibb4all

پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب۔ایک مشفق و مہربان استاد:

پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب۔ایک مشفق و مہربان استاد:



پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب۔ایک مشفق و مہربان استاد:
از :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم نے 1992 میں دور بارہ حدیث سے فراغت کے بعد شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں (بی ۔اے)کی کلاس میں داخلہ لیا۔یہاں سابقہ تعلیمی ماحول(مدارس دینیہ کے ) سے یکسر مختلف ماحول تھا،یہاں ہمیں وہ چیزیں پڑھائی گئیں جن کے بارہ میں قبل ازیں خیال تھا کہ اس قسم کی تحریرات کا مطالعہ کرتا وقت کا ضیاع ہے۔شعرا کی باتیں اتنی ہی سمجھ میں آتی تھیں جس قدر جوانی کے موسم میں کوئی عشق دنیا کا نمائندہ شعر ہوتا ہے۔جسے جوان اپنی محبت کے اظہار کے لئے لکھتا یا گنگنا تا ہے،شاہ ولی اللہ یونیورسٹی میں ہمیں اردو ادب بطور نصاب پڑھایا گیا۔شعر و شاعری ،نثر،مسجع و مفع عبارات کی تفہیم کرائی گئی۔
یہ باتیں انوکھی تھیں اور انداز تعلیم بھی نرالہ تھا۔خوش قسمتی سے ہمیں ماہر اساتذہ کی شاگردی کا موقع ملا۔ان میں جناب پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب کی شفقت نے کمال کردیا ،ان کی دھیمی مسکرانا۔اور مفکرانہ انداز۔اور دلائل سے بھرپور تدریسی اسباق نے خفیہ صلاحیتوں کو جلا بخشی۔یوں ایک سال ان کی شاگردی نے اردو کی غرض و غایت۔اردو کی افادیت،عبارت سناشی،لکھائی۔تفہیم عبارت کا سلیقہ مندانہ اسلوب نے تعلیم و تعلم کی نئی راہیں دکھائیں۔
استاد محترم پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب ان خوش خوش نصیب لوگوں میں سے ایک ہی جنہیں جو بھی ملا بھلا نہ سکا۔جہاںجہاںانہوں نےتدریسی خدمات سرانجام دیں لوگ انہیں بھلا نہ سکے،ان کا تذکرہ ہر کوئی کرتا ہے،اس لئے نہیں کہ وہ عدیم صاحب کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے ذکر خیر کرتا ہے بلکہ اس لئےوہ اس تذکرہ اپنی نسبت عدیم صاحب بیان کرکے ایک قسم کا تفاخر جتلاتا ہے کہ میں بھی ان کی عظمت سے آشنا ہوں۔
احباب نے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے قدیم فضلاء کو جمع کیا پھر مل بیٹھنے کی سبیل نکالی۔انہوں نے حاضرین کے لئے منقش کپوں کا اہتمام کیا جو جملہ احباب کو یادگاری طورپر دئے گئے۔اساتذہ کرام کے لئے ٹرافیوں کا بندوبست کیا گیا تھا۔لیکن دو ٹرافیاں بہت سی اہتمام کے ساتھ سنہرے حروف والی مہیا کی گئی تھیں۔ایک ٹرافی شیخ المشائخ۔استاد العلماء،محقق دوراں ،ندرت فکر کے شہسوار حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب دام فیوضھم العالیہ کے لئے تھی۔دوسری ٹرافی جناب پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب کے لئے تھی۔اس دن موسم سرما کی پہلی باران رحمت ست۔پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب موسمی بدلائو اورضعیف العمری کے سبب شریک محفل نہ ہوسکے۔ان کی کمی ہر ایک شریک محفل نے محسوس کی۔ان کا ذکر خیر چلا بہت ہی اہتمام سے طویل سے طویل ہوتا گیا۔
واپسی پر مجھے مولانا سعید مبشر صاحب کی گاڑی میں بٹھا دیا گیا کیونکہ کھانا جناب محسن بٹ اور سید مزمل شاہ گیلانی اور بھائی عبد اللہ ناصر چھوٹو وغیرہ احباب کے اصرار پر وڈالہ سندھواں رکھا گیا تھا۔رم جھم کے موسم میں ۔چلے  منزل کی طرف رواں دواں ہوئے۔اس گاڑی میں مولانا۔شوکت صاحب۔مولانا عبد الجبار صاحب (یہ آج کل سیالکوٹ جیل میں لایبریرین ہیں)قاری سعدی الرحمن مبشر صاحب (ان کااپنا ادارہ ہے شکر گڑھ شہر میں)چوتھا راقم الحروف تھا۔۔طے پایا کہ جناب پروفیسرغلام رسول عدیم سے ملاقات کرنی چاہئے۔گھر معلوم نہ تھا۔احباب سے فون پر گھر کا پتہ معلوم کیا۔نماز مغرب کے بعدپروفیسرغلام رسول عدیم صاحب کے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔پروفیسر عدیم صاحب اپنےدروازے پر اسی دھیمی اور مشفقانہ مسکراہٹ  کے ساتھ استقبال کیا۔ہم نے عجیب روحانی تازگی محسوس کی۔استاد محترم کے پھول جیسے کھلے چہرے کو دیکھ کر ان کی روحانی خوشی کا اندازہ ہورہا تھا۔
انہوں نے بیٹھک کا دروازہ کھولا،چائے کا کہنے لئے گھر میں جانے لگے تو انہیں چند لمحات بتانے کی درکواست کی،انہوں نے قبول کرلی،چند منٹ کی یہ ملاقات غیر محسوس انداز میں ایک گھنٹہ طویل ہوگئی۔انہوں نے بہت دعائیں دیں۔راقم الحروف نے اپنی کتاب "حاشیہ تعلیم الاسلام" پیش کی دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ان کے ساتھ چند یادگاری تصاویر بنوائیں۔انہوں نے خوش ہوکر اپنی ایک کتاب"مقبول قرانی دعائیں"عنایت فرمائی۔یہ لمحات میری زندگی کے قیمتی ترین لمحات تھے۔انہوں نے اپنا رابطہ نمبر دیا ہمارے نمبر انہوں نے خود نوٹ کئے۔اس وقت 82 سال سے اوپر تھے۔،لیکن ان کے اعضاء و جوارح اور مسکراہٹ ان کی بڑھتی عمر سے الگ تھی یہ سب چیزیں توانا اور صحت مند تھیں۔اللہ انہیں تادیر ہمارے سروں پر تادیر صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھے آمین۔۔
 

پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب۔ایک مشفق و مہربان استاد: پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب۔ایک مشفق و مہربان استاد: Reviewed by tibb4all on November 20, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.