طب کےاصول اور قانون.Principles and Law of Medicine.مبادئ وقانون الطب - Tibb4all

طب کےاصول اور قانون.Principles and Law of Medicine.مبادئ وقانون الطب

  طب کےاصول اور قانون

Principles and Law of Medicine

 مبادئ وقانون الطب


اصول اور قانون۔
از:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
    فن طب ایک بے نظیر اور گوہر نایاب قوانین کا مجموعہ راز فطرت ہے۔مذکورہ بالا سطور میں ایسی علامات جوکہ آجکل مرض کے طور پر جانی جاتی ہیں بظاہر ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن جب ہم علاج کی طرف جاتے ہیں توایک ہی قسم کے نسخہ جات بہت سے امراض میں استعمال ہورہے ہوتے ہیں، اجنبی تجسس کا شکار ہوجاتا ہے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہم امراض کے متعلق قانون بیان کر دیں اور اصول علاج بتادیں تاکہ یہ خدشات ذہن سے دور ہو سکیں ۔اصول امراض اور علاج کے لئے یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ ہمارا پورا نظام دل،دماغ۔جگر کے ماتحت چل رہا ہے۔پورا وجود عضلات (گوشت) اعصاب (پٹھے) غدد (جگر) عضلات کا مزاج خشک۔اعصاب کا سرد اور غدد کا گرم ہوتا ہے۔یہی نظام پوری کائینات میں جاری و ساری ہے۔جس طرح تین اعضا سے ہمارا پورا وجود مرکب ہے، اسی طرح امراض بھی تین قسم کے ہیں۔جنہیں ہم سابقہ صفحات میں بیان کر آئے ہیں یعنی امراض یاتو خشکی کے بڑھ جانے سے ہونگے جنہیں عضلاتی امراض کہیںگے۔یا پھر بلغی رطوبات میں اضافہ سے دیکھنے میں آئیں گے یہ دماغ و اعصاب کی تیزی سے ہو نگے   یا پھر امراض گرما ہونگے جوکہ جگر کی بڑھی ہوئی صورت ہوگی۔سہل انداز میں یوں سمجھو کہ اگر کسی جگہ ہمیں کسی سخت چیز کو نرم کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کے لئے ہم کیا کریں گے ؟ یقیناََ اسے گرمی پہنچائیں گے، سخت چیز نرم ہوجایئگی۔اسی طرح اگر کہیں پانی بھرا ہوا ہے اسے خشک کرنے کے لئے ہم کیا کریں گے ؟ یقیناََ مٹی یا خشک چیز ڈالیں گے تو تری ختم ہوجایئگی۔اسی طرح اگر کہیں آگ لگ جائے تو اس کا تدارک کس طرح کریں گے؟ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ جلتی آگ پر پانی ڈالیں گے تو آگ بجھ جایئگی،بس ایسے ہی امراض کا علاج بھی کرلو کہ خشک امراض جوکہ عضلاتی ہیں ،ان کا علاج جگر کو تحریک دیکر کرلو۔بلغی امراض میں خشکی پیدا کرکے شفا حاصل کرلو۔ جگر کے امراض میں دماغ کو تحریک دیکر علامات ختم کرلو اگر تم اس کلیہ کو سمجھ گئے تو علاج معالجہ میں بھی پوری مہارت کا ثبوت دے سکتے ہو اگر آپ کے پاس صرف تین قسم کی ادویات موجود ہیں توآپ پورے انسانی وجود میں پیدا ہونے والی علامات و امراض کو قابو کرسکتے ہو، ہمارے فارماکوپیاکو دیکھیں تو چند ادویات ہی استعمال ہو رہی ہیں باقی کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی ۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ باقی ادویات کی اہمیت ختم یا کم ہوگئی ہے ؟ اللہ کی ہر تخلیق ایک الگ شاہکار ہے ،جو ایک چیز میں فائدے رکھے ہیں وہ دوسری میں کہاں؟َ البتہ نعم البدل کے طور پر اللہ نے انسان کو بہت ساری چیزیں بتادی ہیں، اگر ایک علاقہ میں کوئی چیز موجود ہے تو دوسری جگہ ہوسکتاہے و ہ موجود نہ ہو۔اگر کسی کو ایک چیز نہ ملے تو اسکے نعم البدل کسی دوسر ی چیز کو استعمال کیا جاسکتاہے، قدرت کی فیاضی دیکھئے کہ کسی کو کچھ ادویات الہام کیں کسی کو دوسری اشیاء کے خواص القاء کردئے ۔ گرانی کے اس دور میں مہنگے اور نایاب اجزا کی نایابی اور عدم دستیابی گھمبیر صورت اختیار کرگئی ہے، خدا ان لوگوں کو جزائے خیر دے جنہوں نے اس گھٹن مرحلہ کو باسانی طے کروا دیا ہے،آج جو بھی محنت کرے معمولی سی سوجھ بوجھ والا بھی طبی مسلہ کو حل کرسکتا ہے۔لیکن ہر کسی کو اپنی ذات پر یقین نہیں ہوتااس لئے کسی ماہر کی تلاش ہمہ وقت موجود رہتی ہے ۔
بات ہورہی تھی امراض اور اصول شفا پر۔جو آدمی طب کے بنیادی قوانین کو پہچانے گا وہ علاج و معالجہ کے میدان میں بھی خودکفیل ہوگا،جو آدمی قوانیںسے لابلد ہوگا اس کے سامنے ہزاروںبے خطا اور مجرب نسخہ جات کا ڈھیر بھی بے کار ہوگا ، اگر قوانین کا علم ہوگا تو وہ گھاس پھونس سے بھی اپنا علاج کر سکے گا ۔
 حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ’’لکل دائدواء فاذا اصیب دواء الدارء برأ باذن اللہ‘‘[احمد و مسلم الدیباج5/34سنن الکبری بیہقی9/343]کہ ہر بیماری کی دوا موجود ہے جب کوئی دوا بیماری کے مطابق دی جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفاء مل جاتی ہے۔ البتہ ایک تنبیہ موجود ہے کہ جب ہر بیماری کی دوا موجود ہے تو پھر حرام اشیاء کے توسط سے علاج مت کرو [کنزالعمال حرف الطاء12/267]


طب کےاصول اور قانون.Principles and Law of Medicine.مبادئ وقانون الطب  طب کےاصول اور قانون.Principles and Law of Medicine.مبادئ وقانون الطب Reviewed by tibb4all on November 21, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.