گھریلو اشیاء کے تیر بہدف فوائد: اس کتاب سے استفادہ کے رہمنا اصول..Targeted advantages of household items: Guiding Principles of Using This Book - Tibb4all

گھریلو اشیاء کے تیر بہدف فوائد: اس کتاب سے استفادہ کے رہمنا اصول..Targeted advantages of household items: Guiding Principles of Using This Book

 

گھریلو اشیاء کے تیر بہدف فوائد:
اس کتاب سے استفادہ کے رہمنا اصول
 

Targeted advantages of household items:
Guiding Principles of Using This Book


گھریلو اشیاء کے تیر بہدف فوائد:
اس کتاب سے استفادہ کے رہمنا اصول۔
اللہ کا بے حد و بیشمار احسان ہے جس نے ناقص انسان کو اپنی ضروریات کی کفالت کا علم و ہنر عطاء فرماکر روز مرہ استعمال کی ایسی اشیاء باافراط مہیا فرمادیںجن سے ہمارے دستر خوان کی شان اور زبان کی لذت کا سامان دستیاب ہوتا ہے۔جن اشیاء کو ہم بطور لذت اور چٹخارے کے ہنڈیا میں ڈالتے ہیں ان کے طبی فوائدکا مطالعہ کرکے خوشی سے جھوم اٹھیں گے۔جو اشیاء و ادویات معالج سے طلب کرتے ہیں انہی خواص کی حامل اشیاء ہمارے باورچی خانے میں موجود ہیں لیکن لاعلمی ہمیں دکھ و تکلیف کے ساتھ ساتھ ہمارے جیبوں پر بھی بوجھ کا سبب بنتی ہے، ہمارے ماہانہ تخمینہ خرچ پر بھی ناگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ہماری بیان کردہ اشیاء کی فہرست قلیل ہے جب کہ باورچی خانہ میں استعمال کئے جانے والے مصالحہ جات کی فہرست طویل ہے۔اگر کبھی فرصت ہوئی تو اِن پر لکھنے کا سوچیں گے ۔
سائنسی اصول کے مطابق غذا میں پانچ اجزاء کی موجودگی لازم ہے(1)پروٹین یعنی لحمی اجزاء (2)کاربو ہائیڈریٹس۔نشاشتہ اور شکر(3)فیٹس۔روغن آئل وغیرہ (4)سالٹ یعنی نمک(5)حیاتیں یعنی وٹامن۔ہمارا کچن ہی ہمارا دوا خانہ ہے، کبھی غور وفکر سے کام لیں تو حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ دیسی طریق علاج بے ضرر فائدہ سے بھرپور اور غذائی ہے اس کے اجزاء کو غذا اور بطور دوا کام میں لایا جاسکتا ہے، مختلف اقسام کے غلے۔گوشت  مچھلیاں ۔انڈے،سبزیاں پھل دودھ بالائی مکھن وہی وغیرہ ہمارے دسترخوان پر سجی اشیاء اور ذائقہ پیدا کرنے کی غرض سے ڈالے گئے مصالحہ جات میں دوا سے غذائی فوائد زیادہ ہیں اس کے علاوہ میوہ جات، گڑ، شکر، شہد اور نمکیات ،مصالحوں میں الائچی ،ہلدی ،لہسن، پیاز ادرک، زیرہ سفید وغیرہ۔دیسی طب پر نگاہ ڈالی جائے تو اس کے اکثر مفردات و مرکبات اغذیہ و پھل و پھولوں سے ترتیب دئے جاتے ہیں خمیرہ جات،لعوق چٹنی مربہ شربت ،عرق جوشاندے بے پناہ فوائد کی حامل اشیاء ہیں جو دوسرے طریق علاج میں دکھائی نہیں دیتیں، کوئی بھی معالج و طبیب اس بات سے انکار نہیں کرسکتا ہے قدرت نے انسان کے رہنے کے لئے جو مقام و ملک متعین کیا ہے اس کی غذائی و دوائی ضروریات بھی اسی زمین میں رکھ دی ہیں، مقامی غذاؤں اور دواؤں سے بڑھ کر کوئی چیز مفید نہیں ہوسکتی۔ہمارے خطہ میں خاندانی نظام بہت منظم و مربوط انداز میں چلا آرہا ہے جس سے دیگر اقوام محروم ہوچکی ہیں ۔
 دیسی وغذائی ٹوٹکے آج بھی نسلاََ بعد نسلِِ تیر بہدف چلے آرہے ہیں جن کا جواب نہیں ۔ ہمارے ہاں حلوہ جات مٹھائیاں۔شربت ،عرق ایسی نعمتیں ہیں جن کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔یہ میڈیکل کی نشہ آور اور زہریلی ادویات و مرکبات سے کہیں افضل ہیں جنہیں مہنگے داموں خرید کر معدہ میں اتارا جارہا ہے، جن کی خاصیت ہے اگرایک علامت و بیماری کو فائدہ دیںگی تو چار بیماریاںتحفۃََ دے جائیں گی۔اس مختصر تحریر میں ہر چیز کے تعارف کے بعد جامع انداز میں فوائد بیان کردئے گئے ہیں لیکن یہ اختصار حکماء کے لئے تو مفید ہے عوام اس سے آشائی نہیں رکھتے اس لئے کچھ تفصیلی نسخہ جات بھی لکھ دئے گئے ہیں۔ ان سطور کو اس حالت میں تحریر کررہاہوں کہ ذہنی طور پر والدہ کی علالت سے پریشان ہوں ان کی بیماری کی طوالت اور بڑھاپے کی محتاجی مستزاد ہیں ،ان کی طبیعت میں اللہ سکون پیدا فرمائے، راحت کاملہ عطاء فرمائے ان کی خدمت کی غرض سے تمام مصروفیات ترک کردی ہیں، یہ تحریر میں انہیں کی طرف معنون کرتاہوں انہیں کہ دعاؤں کا صلہ ہے کہ یہ سطور آپ تک پہنچ رہی ہیں دعا ہے ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر سلامت رہے۔
(آج مورخہ8/1/16بروز جمعہ)
اس کتاب سے استفادہ کے رہمنا اصول۔
کسی بھی تحریر یا کتاب سے استفادہ کی دوصورتیں ہوتی ہیں۔کسی خاص مقصد کو سامنے رکھ کر کتاب یا مطالعہ کیا جائے ایسے انسان کووہی کچھ ملے گا جس غرض کے تحت مطالعہ کیا تھا۔اس انداز سے ہر عبارت اس خاکہ میں ڈھلی ہوئی ملے گی جو اس نے ذہن میں ترتیب دیا ہو گا ۔ دوسری صورت یہ کہ وسعت ذہنی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے اور اس سے ضرورت کی چیزیں الگ کرلی جائیں۔ہر کتاب نہ تو من و عن قابل عمل ہوتی ہے اور نہ قابل قبول کسی بھی انسان کے کسی چیز کے بارہ میں تجربات و مشاہدات دوسرے سے الگ ہوسکتے ہیں ہر لکھنے والا اپنے تجربات کی بنیاد پر لکھتا ہے۔اگر کسی کا تجربہ دوسرے کے تجربے سے جداگانہ ہے تو اسے تنقید کے بجائے خوش ہونا چاہئے کہ معلومات میں اضافہ ہوا اور ایک تجربہ کے ساتھ دوسرا بغیر محنت کے ہاتھ گ گیا۔
اعتدال جسمانی کا نام صحت ہے قوئے جسمانی و روحانی میں بے اعتدالی کانام علالت و بیماری ہے ،جب تک حالت صحت و تندرستی کی کیفیت سے آشنا نہ ہونگے اس وقت تک بیماری و بے اعتدالی کی شناخت مشکل رہے گی ۔جو حالت صحت و تندرستی میں ہوتی ہے اس سے انحراف کانام بیماری ہے۔اللہ تعالیٰ نے کسی بھی جاندار کو اخلاط کے خاص اعتدال کے ساتھ بنا یا ہے کسی بھی جاندار کی ضروریات اسکی خوراک سے پوری ہوتی ہیں جو غذاکے فن سے آشنا ہوتا ہے وہ معالج کے در سے ناآشنا رہتا ہے۔انسانی جسم کائناتی اصولوںکے مطابق کام کرتا ہے اس کے بدلتے ہوئے موسموں کے ساتھ ساتھ اعتدال حرارت کو برقرار رکھتا ہے اگر موسمی تبدلیوں کے اثرات کو جھیلنے کی سکت نہ رہے تو سمجھو نظام جسمانی میں خرابی واقع ہوچکی ہے ۔ عمومی طورپر تین اشیاء کائنات میں بنیادی کردار کی حامل ہیں۔گرمی ،تری، خشکی،انہیںکے بدلاؤسے موسم میں تبدیلی آتی ہے کائناتی نظام کام کرتا ہے،یہ ایک دوسرے سے بدلتے رہتے ہیں ۔
جب خشکی اور حبس اپنی اعتدال سے تجاوز کرتی ہے تو گرمی اس کا اثر توڑتی ہے جب گرمی بڑھتی ہے توسردی آجاتی ہے، جہاںپانی کا غلبہ ہوتا ہے وہاں خشکی اس کا زورتوڑ کرتی ہے بس یہی اصول اس کتاب میں استعمال کیا گیا ہے ۔اس میں اعصابی یعنی تری والی اشیا ء ۔ خشک اشیاء اور گرم اشیاء ذکر کی گئی ہیں ان کے خواص و فوائد بیان کئے گئے ہیں کوئی بھی علامت و مرض ہو گرمی خشکی سردی سے باہر نہیں ہوتا ایک سمجھ دار انسان ان کیفیات میں اپنی سے بدلاؤ لاسکتا ہے اپنی مرضی کی کیفیات طاری کرسکتاہے۔غذائی اصولوں سے واقفیت رکھنے والے معالجین کے محتاج نہیں ہوتے۔آج تک کسی نہ دعویٰ نہیں کیا کہ دوا سے خون یا طاقت بن سکتی ہے دواکا کام تو نظام ہضم کو درست کرنا ہوتاہے اس کے بعد غذا جسم کا حصہ بننے لگتی ہے ۔ خون تو غذا کے ماحاصل کانام ہے اس لئے غذا کے اعتدال کا خیال رکھنا دراصل صحت کی طوالت کا خیال رکھنا ہوتا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں جناب فلاں کی خوراک بھی اچھی ہے گھی دودھ کا استعمال بھی کرتے ہیں ،اچھی اچھی غذا بھی اثر نہیں دکھاتی۔کبھی سوچا ہے کہ اس اچھی سے اچھی غذا کی تمہیں ضرورت بھی ہے یا صرف تم نے فرض کرلیا ہے کہ یہ اچھی غذاہے یہ کم اچھی ہے۔ہم نے اس بات کا لحاظ نہیں رکھا کہ جس غذا کو ہم اچھی سمجھ رہے ہیں ہمارے وجود کو اس کی ضرورت بھی ہے کہ نہیں؟اگر جسم کو ضرورت ہے تو ساگ پات بھی اعلی غذا ہے اور جسم کو ضرورت نہیں توگوشت۔بریانی ،متنجن بھی بے کار ہیں۔یہی بات دوائے غذا کی ہے دوا کے بارہ میں ایک وباء دیکھنے کو ملتی ہے مہنگی دوا اچھی اور سستی دوا کم معیاری ہوتی ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہونی چاہئے غذا یا دوا اس اصول کے تحت استعمال کرنی چاہئے کہ اس کی جسم کو ضرورت بھی ہے کہ نہیں۔یہ گھریلو اشیاء کے خواص و فوائد اس لئے بیان کئے گئے ہیں تاکہ ایک معمولی پڑھا لکھا بھی اس سے استفادہ کرسکے ۔ خاتون خانہ گھر میں افراد کے مزاج اور ضرورت کے مطابق مصالحہ جات کا استعمال کرسکیں۔ طبی دنیا میں تیار ہونے والے نسخے چار واسطوںسے تیار ہوتے ہیں۔پہلا معالج دوسرا پنساری، تیسرا تیمار دار، چوتھے نمبر پر بیمار ہوتا ہے، یہی اصول اس کتاب میں بھی کار فرما ہے کہ سب سے پہلے باورچی خانہ میں کام کرنے والا۔دوسرا اسے سامان لاکر دینے والا۔تیسرا اس کی حفاظت کرنے والا ،تیاری میں ہوشیاری سے کام لینے والا اس کے بعدضرورت مند یا کھانے والا۔اس لئے ان چیزوں کی ضرورت ان کی معتدل استعمال۔اس کے ساتھ ہماری تحریر کچھ دیگر ٹوٹکے بھی ملیں گے جن کا طب سے زیادہ دیگر استعمالات سے تعلق ہے ان ٹوٹکوں کو تحریر کرنے کا مقصد ان اشیاء کی خوبیاں اور ہماری ضرورتیں مدنظر رکھی گئی ہیں انسانی ضرورت سے متعلق فوائد اختصار کے ساتھ جو ممکن ہوئے بیان کردئے۔
طبیعت میں اختصار ہے، جی میں ان نسخہ جات کی طرف میلان پایاجاتاہے جو مختصر کم اجزاء پر مشتمل اور سہل الحصول ہوں، لمبے چوڑے نسخے بنانا ان کے اجزاء تلاش کرنا ایک خاص ڈھب سے انہیں تیار کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوتا ہے یہ باتیں کتابی حد تک ٹھیک اور مبالغہ آرائی کے لئے مصالحہ کاکام دے سکتی ہیں لیکن حقیقی زندگی اس سے بہت مختلف ہوتی ہے،آج کے مصروف دور میں لوگ پیسہ خرچ سکتے ہیں، بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن ا نکے پاس وقت نہیں ہے اس لئے اس کتاب میں جو نسخہ جات یا اشیاء کے فوائد لکھے گئے ہیں وہ ہماری پہنچ میں ہیں ،ہمارا کچن ان کا ذخیرہ ہے۔ہر گھر میں دستیاب اشیاء ہیں۔عمومی طورپر اس کتاب میں دئے گئے اجزاء ہی کی ترکیب سے نسخہ جات مرتب کئے گئے ہیں تاکہ نسخہ میں موجود کسی جز وکے لئے پریشان نہ ہونا پڑے۔کچھ عام دستیاب ہونے والی چیزیں ایسی بھی شامل کی گئی ہیں جو کم قیمت اور ہر جگہ دستیاب ہوسکتی ہیں۔مضر اور زہریلے اثرات والی اشیاء ہمارے دائرہ بحث خارج ہیں،تیز ترین دوا خود استعمال کرتا ہوں نہ دوسروں کو اس کا مشورہ دیتا ہوں،نہ ہی اس کتاب میں ایسی ادویات یا اجزاء لکھے گئے ہیں مجھے زہریلی اور تیز دواؤں کی ضرورت اس لئے محسوس نہیں ہوتی کہ مجھے وہی فوائد عام ملنے والی اشیاء سے مل جاتے ہیں جو فوائد دوسرے لوگ تیز ادویہ میں تلاش کرتے ہیں ۔ صرف غذا دوا کے صحیح مصرف کا ہنر جانتے ہوں نتائج پکے پھل کی طرح جھولی میں آگرینگے۔ رہی بات نسخہ جات کے مجرب ہونے کی امید ہے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے مبالغہ آرائی سے الگ ہے، جیسا لکھا ہے ویساہی ہے ،یہ الگ بات ہے کہ استعمال کرنے والا اس نسخہ کو غلط جگہ استعمال کرے ورنہ کوئی وجہ نہیںکہ نسخہ کام نہ کرے۔اس میں جو نسخہ جات تجربہ میں آئے ان کا حوالہ دینا مناسب نہ سمجھا لیکن دیگر نسخہ جات جو تجربہ کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں یا جن کتب سے انہیں خذ کیا گیا ہے حوالہ جات ساتھ میں لکھ دئے گئے ہیں لیکن زیادہ تر فوائد راقم کی طبی زندگی کے تجربات ہیںجب سے اللہ نے ان اشیاء کے فوائد سے بہرہ مند کیا ہے پورا مطب انہیں کے گرد گھوم رہا ہے، ہزاروں لوگ ان فوائد سے استفادہ کرچکے ہیں باقی شفاء کے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔وباللہ التوفیق۔
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو۔
ماہر غذائیات ،مولف کتب کثیرہ در طب و عملیات۔
منتظم اعلی سعد فارمیسی/
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی۔
سعد دواخانہ کاہنہ نو  لاہور پاکستان

گھریلو اشیاء کے تیر بہدف فوائد: اس کتاب سے استفادہ کے رہمنا اصول..Targeted advantages of household items: Guiding Principles of Using This Book  گھریلو اشیاء کے تیر بہدف فوائد: اس کتاب سے استفادہ کے رہمنا اصول..Targeted advantages of household items: Guiding Principles of Using This Book Reviewed by tibb4all on November 20, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.