اصطلاحات۔قانون مفرد اعضاء۔ ۔۔Terms. Law Single Organs - Tibb4all

اصطلاحات۔قانون مفرد اعضاء۔ ۔۔Terms. Law Single Organs

 

 اصطلاحات۔قانون مفرد اعضاء

 Terms. Law Single Organs

الشروط. أجهزة القانون الواحد

 اصطلاحات۔۔قانون مفرد اعضاء۔
نظریہ مفرد اعضاء کے تحت جو مجربات دئے گئے ہیں ان کے درجات مقرر کئے گئے ہیں (1)محرک(2)محرک شدید(3)ملین(4)مسہل(5)اکسیر(6)تریاق(7)مقوی اس سے دوا کے استعمال کا صحیح اندازہ کیا جاسکتا ہے ،یہ فنی باتیں ہیں مناسب ہے کہ ان کی مختصر وضاحت کردی جائے۔
(1.2)محرک اور محرک شدید۔
اس سے ایسی دوا مراد ہے جوکسی عضو کے فعل کو تیز کردے ، یہ تیزی اس عضوکے فعل میں انقباض پیدا کردینے سے پیداہوتی ہے۔علاج کے سلسلہ میں سب سے پہلے محرک اس کے بعد شدید کا استعمال ہونا چاہئے، اگر ان سے بھی کام نہ چلے تو اگلا اقدام کرنا چاہئے ۔شروع میں تیز دوا دینا حکیم کا نہیں عطائی کا کام اور جاہلانہ فعل ہوتا ہے
(3,4)ملین و مسہل:
ملین و مسہل نرم یا تیز پاخانہ لانے کے معنی میں استعمال نہیں کیا ،اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے اندر محرک اور شدید کے افعال زیادہ طاقت کے ساتھ موجود ہوں، اگر اسے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے زیادہ پاخانے لانے والا عمل بھی بوقت ضرورت کیا جاسکتا ہے، اسے تھوڑی مقدار میں دیا جائے تو اس سے محرک و شدید کے فوائد بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں، ان کی تیاری میں خاص نسبت سے ادویات کی شمولیت کی جاتی ہے تاکہ ان کی بہتر تیاری کے ساتھ ساتھ اجزاء کی فراہمی میں بھی آسانی رہے، سب سے اہم بات یہ کہ نسخہ یاد رکھنے میں دشواری پیش نہ آئے۔
(5)اکسیر:
جس کو کیمیا میں حیات کہتے ہیں،آیوورویدک میں رسائن کہا جاتا ہے، یہ ایسی دوا ہوتی ہے جس سے جوانی واپس آجائے، اس دوا میں تین خوبیاں لازمی پائی جاتی ہیں (1)دائمی اثر (2) جاذب (3)برقی اثر۔دائمی اثر سے مراد یہ ہے کہ اس کا اثر استعمال کے فوراََ بعد ختم نہ ہو جائے بلکہ کافی مدت تک جسم میں اس کا اثر جاری رہے۔جولوگ غذا دوا اور زہر کا فرق سمجھتے ہیںوہ دائمی اثر کا صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں ۔جازب کا مطلب یہ ہے استعمال کے بعد لگا تے ہی خودبخود جسم میں جذب ہوجائے ، خون و رطوبت کو اپنی طرف جذب کرنے کے ساتھ جزو بدن بنانے کی کوشش کرے ۔برقی اثر کی صورت یہ ہے کہ وہ جسم میں برقی اثرات جسم میں جاری و ساری کردے، نیز اپنے اثر میں برق رفتار ہوتاکہ خلیات میں دور تک پہنچ سکے اگر کسی دوا میں یہ تینوں خوبیاں نہ ہوں بلکہ اس میں ایک یا دو خوبیاں پائی جائیںتو اس میں باقی بھی پیدا کرنی چاہئے پھر اکسیر کہلانے کی مستحق ہے ،ورنہ اکسیر کہلوانے کا کسی دوا کو حق نہیں ہے ۔
(6)تریاق:
تریاق سے مراد ایسی دوا ہے جس کے استعمال سے مخصوص زہر یا مخصوص اثرات باطل و ختم ہو جائیں جیسے ترشی کا اثر کھار سے ٹوٹ جاتا ہے۔یا افیون کا اثر کچلہ سے باطل ہوجاتا ہے ۔
محقق الطب لکھتے ہیں ’’یاد رکھیں تریاق کسی دوا ۔زہر اور عفونت کے متضاد شے کو کہتے ہیں جیسے کھاد کے مقابلہ میں تیزاب ،سانپ کے عفونتی زہر کے مقابلہ میں عشر(آک)کھلانا تریاق ہیں، یاد رکھیں دوا زہر اور عفونت جس قدر شدید ہوں ان کے تریاق بھی اسی قدر شدید مؤثر ہونے چاہیئں۔اطباء کو خوفناک زہروں اور امراض کے تریاق کا پورے طورپر علم ہونا چاہئے اس سے قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں(تحقیقات سوزش و اورام399/1)
(7)مقوی:
ایسی غذا یا دوا جو کسی عضو یا خون میں طاقت پیدا کردے، ایسی دوا عضو کے مزاج اور ساخت کو درست کرتی ہے، یہ دوائیں عمومی طور پر قابض ہوتی ہیں، ان کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ ہلکے خون یا رطوبت کو اعضاء کی طرف جذب کراتی ہیں۔
اکسیرات:
(1)عضلاتی غدی اکسیر: شنگرف رومی ایک تولہ۔مرمکی تین تولے دونوں کو ایک گھنٹہ کھرل کریں۔مقدار خوراک ایک رتی سے ایک ماشہ تک حسب ضرورت۔
(2) غدی عضلاتی اکسیر:پارہ ایک تولہ۔گندھک سات تولے۔دونوں کو کم از کم ایک گھنٹہ کھرل کریں ،ایک رتی سے ایک ماشہ تک حسب ضرورت۔
(3)غدی اعصابی اکسیر:ہڑتال ایک تولہ سنڈھ چار تولے، کالی مرچ تین تولے، تین گھنٹے تک کھرل کریں ،خوراک ایک رتی سے ایک ماشہ حسب ضرورت۔
(4)اعصابی غدی اکسیر:حجر الیہود۔کہربا،نوشادر،الائچی خورد ہر ایک چھ ماشے قند دو تولے تھوڑا تھوڑا قند شامل کرکے ایک گھنٹہ کھرل کریں ،ایک ماشہ سے تین ماشہ تک حسب ضرورت سردیوں میں شہد ملاکر چٹائیں، گرمیوں میں شربت کے ہمراہ دیں۔
(5)اعصابی عضلاتی اکسیر:کشتہ قلعی طباشیر،الائچی کلاںتینوں ایک تولہ ورق نقرہ تین ماشے کی دفتری تینوں کو کھرل کریں، ایک ایک کرکے ورق شامل کرتے جائیں، جب تمام ورق ختم ہوجائیں تیار ہے ،خوراک چار رتی سے ایک ماشہ سے حسب ضرورت پانی سے دیں یا مسیر ہوتو مکھن بالائی یا گلقند سے دے سکتے ہیں ۔
(6)عضلاتی اعصابی اکسیر:سم الفار ایک ماشہ،کشتہ چاندی دو تولے ،دونوں کو ملاکر دوگھنٹے کھرل کریں ایک چاول سے ایک رتی تک حسب ضرورت۔
تریاقات:
(1)عضلاتی غدی تریاق:اجوائن دیسی حسب ضرورت لیکر ایک چینی کے پیالہ میں ڈال دیں،پھر اوپر اتنا تیزاب گندھک ڈالیں کہ اجوائن بمشکل تر ہوسکے۔اس کے بعد پندرہ بیس یوم کے لئے گرد و غبار سے بچاکر رکھ دیں،نرم ہوگیا ہوتو ٹھیک ،ورنہ ایک دو دن اور رہنے دیں، پھر کھرل میں ڈال کر آدھا گھنٹہ کھرل کریں، بس تیار ہے۔گولیاں بنالیںیا ایسے ہی کام میں لائیں ،خوراک دو رتی سے ایک ماشہ تک ہمراہ آب نیم گرم۔
(2)غدی عضلاتی تریاق:مرچ سرخ ایک چھٹانک رائی دو چھٹانک باریک پیس کرچنے کے برابر گولیا ں بنا لیں،خوراک ایک گولی سے چارگولیوں تک نیم گرم پانی کے ساتھ۔
(3)غدی اعصابی تریاق:نیلا تھوتھا۔جمال گوٹہ اور شیر مدار ہر ایک، تولہ تولہ، رائی پندرہ تولے، سہاگہ سات تولے۔اول نیلا تھوتھا اور جمال گوٹہ ملاکر پیس لیں،پھر شیر مدار ڈال کر ایک گھنٹہ کھرل کریں،اس کے بعد سہاگہ ملائیں، آخر میں رائی کا اضافہ کریں، سفوف بناکر رکھ لیں، مقدار خوراک دو چاول سے ایک ماشہ تک نیم گرم پانی سے۔
(4)اعصابی غدی تریاق:افیون ایک ماشہ۔لوبان کوڑیہ ایک تولہ قند سفید ایک تولہ سفوف تیار کریں، مقدار خوراک نصف رتی سے ایک ماشہ تک ہمراہ تازہ سادہ پانی۔
(5)عضلاتی اعصابی تریاق:سرمہ سیاہ ایک تولہ۔ریٹھے کا چھلکانو تولے۔پہلے ریٹھہ کا سفوف کریں پھر سرمہ سیاہ تھوڑا تھوڑا ملاکر کھرل کریں، جب تمام سفوف ختم ہوجائے بس تیار ہے، مقدار خوراک ایک رتی سے ایک ماشہ تک ہمراہ نیم گرم پانی ۔
روغنیات:یعنی لطیف ادویات۔
اندرونی ادیات کی طرح بعض وقت شدت مرض کے لئے بیرونی طور پر بھی ادویات استعمال  کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر بیرونی طور پر ان ادویات کو صحیح طور پر مسلسل استعمال کیا جائے تو ہمیشہ کے لئے درست ہوجاتا ہے کیونکہ اس طرح ادویات کا اثر اعصاب،غدد اور عضلات پر ہوتا ہے، ان کے افعال میں کمی بیشی اور ضعف پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ ادویات مختلف کیفیات و مزاج رکھتی ہیں، جذب ہوکر اخلاط کے مطابق روغنیات کا ذکر کیا جاتا ہے ان کو بیرونی طور پر طلاء لیپ اور مالش کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے، ضرورت کے وقت انہی سے مراہم تیار کی جاسکتی ہیں،یا انہی روغنیات میں ان کے مطابق ادویات شامل کرکے یا آگ پر حل کرکے استعمال کی جاسکتی ہیں ،ان روغنیات اور ارواح کو اندرونی طورپر اپنی مقررہ مقدارسے دیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں مفرد اعضاء کے مطابق لطیف اودیات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے، جن میں لطافت و تیزی اور زود اثری کی خاص اہمیت حاصل ہے اس لئے ان ادویات کو ارواح کا نام دیا ہوا ہے(ارواح روح کی جمع ہے)لیکن درحقیقت انہیں ارواح کہنا غلط ہے لیکن اس نام کے علاوہ اور کوئی نا م یا اصطلاح فن میں نہیں ہے۔
(1)عضلاتی غدی روغن اور روح:۔روغن تلخ ،ہوالشافی۔اس تحریک کی روح روغن دار چینی اور روغن تلخ ہے، ان دونوں کا الگ الگ یا دونوں کو ملاکر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔چودہ اور ایک کی نسبت سے ملاکر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
(2)غدی عضلاتی روغن اور روح۔روغن تارپین روح کے طورپر روغن قرنفل کے ساتھ ایک اور چودہ کی نسبت سے ملائیں۔
(3)غدی اعصابی روغن اور روح۔ہوالشافی:روغن بید انجیر روح کے طورپر ست اجوائین ایک اور چوبیس کی نسبت سے ملائیں اور کام میں لائیں ۔
(4)اعصابی غدی،روغن اور روح۔ہوالشافی:روغن کدوارواح کے طورپرست پودینہ کا ایک نسبت نو حصے کے ملاکر کام میں لائیں ۔
(5)اعصابی عضلاتی روغن اور روح:روغن بادام روح کے طورپرکافور کے ساتھ ایک اور نو کی نسبت سے ملاکر کام میں لائیں۔
(6)عضلاتی اعصابی روغن اور روح۔ہوالشافی:روغن کنجد روح کے طورپر اور روغن صندل سات کی نسبت سے ملائیں۔یہ چند ایک لکھ دئے گئے ہیں اسی انداز میں اور بھی بہت سے بنائیں جاسکتے ہیں۔
کحل۔کاجل۔آنکھ میں لگانے والی دوائیں:
(1)عضلاتی غدی کاجل:۔ہوالشافی سادہ دھواں جو کڑوے تیل سے تیار کیا گیا ہو جمع شدہ نو حصے، نیلا تھوتھا ایک حصہ، روغن تلخ کے ساتھ ملاکر کاجل بنالیں۔
 (2)غدی عضلاتی کحل:ہوالشافی مامیراں چینی ۔مغز تخم نیم مسلسل دو گھنٹے کھرل کریں تیار ہے۔
(3)غدی اعصابی کحل:ہوالشافی فلفل سیاہ ایک حصہ نوشادر دو حصے ہلدی سات حصے عرق بادیان ایک ایک پاؤ میں کھرل کریں۔
(4)اعصابی غدی کحل: ہوالشافی۔سمندر جھاگ،سہاگہ ہم وزن دونوں ایک گھنٹہ کھرل کریں سرمہ تیار ہے۔
(5)اعصابی عضلاتی کحل۔ہوالشافی۔سرمہ سیاہ۔شورہ قلمی ہم وزن ایک گھنٹہ کھرل کریں سرمہ تیار ہے۔اسی قسم کے بے شمار نسخہ جات و سرمہ جات طبی کتب میں پائے جاتے ہیں  ہمارا مقصد اس مختصر سی تحریر سے پورا ہوگیا ہے، اس لئے باقی کو ترک کیا جاتا ہے۔
دوا کے بارہ میں اہم بات:
ناتجربہ کار اطبائو معالجین مریض کے لئے جلد فوائد کے حصول تیز سے تیز تر دوا تجویز کرتے ہیں، یاد رکھئے اگر مریض کی علامت زیادہ بڑھی ہوئی نہ ہوتو دوا فائدہ کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتی ہے، البتہ ہلکی دوا نے مفید نتائج سامنے نہیں آئے تو کچھ تیز دوا تجویز کی جاسکتی ہے۔



اصطلاحات۔قانون مفرد اعضاء۔ ۔۔Terms. Law Single Organs  اصطلاحات۔قانون مفرد اعضاء۔ ۔۔Terms. Law Single Organs Reviewed by tibb4all on November 21, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.