کمر کے مہرے اور ان کی سوزش....Waistband And their inflammation - Tibb4all

کمر کے مہرے اور ان کی سوزش....Waistband And their inflammation

  کمر کے مہرے
اور ان کی سوزش

 Waistband
And their inflammation

 حزام
والتهاباتهم


کمر کے مہرے اور ان کی سوزش:
عموی طور پر بھاری لوگوں کو مہروں میں تکلیف کی شکایت ہوتی ہے۔یہ ایک ایسی نامراد علامت ہوتی ہے مریض ساری زندگی سہاروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔اس کے علاج میں غفلت انسان کو معذور بنا سکتی ہے۔عمومی طور پر لوگ کولہے کی مہروں میں کھچاؤ اور درد کی شکایت کرتے ہیں ،یہ درد گردوں کی وجہ سے ہوتا ہے عمومی مشاہدہ گواہ ہے ۔ ایسے لوگوں میں عمومی طور پر پیشاب میں جلن کی شکایت ہوتی ہے ۔
بالائی مہروں کی سوزش۔
رہڑھ کی ہڈیوں کے بالائی ستوں میں خرابی،مہروں کے درمیانی ٹکیہ(DSC)کے گھس جانے سے پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں جسمانی دباؤ اعصابی جڑوں یا رہڑھ کے گودے پر آپڑتاہے، اس سے جوڑوں کی سوزش وجلن کا آغاز ہوتا جاہے جس سے پہلے مہرے متأثر ہوتے ہیں، پھر باقی ماندہ ہڈیوں کے ڈھانچے کے مختلف حصوں میں درد شروع ہوجاتے ہیں یہ ایک انحطاطی عمل ہے جسے روکنا بہت ضروری ہے۔۔
رہڑھ کی ہڈی جسم کے عقبی حصے کا اہم ترین جزو اور ایک ستون کی حیثیت رکھتی ہے، یہ ہڈیوں کے24بلاکوں یا مہروں پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہوئے ہیں ۔ ان ہر دو مہروں یا بلاکوں کے درمیان قدرت نے ایک ایک ٹکیہ یا قرص رکھی ہے جو کری ہڈی اور لچک دار بافتوں سے بنی ہوئی ہے ،یہ ٹکیاں کمر پر پڑنے والے بوجھ اور دھچکوں کو جذب کرتی ہیں ،ہڈی کے سخت مہروں کو ایک دوسرے سے ٹکرانے اور ٹوٹنے سے محفوظ رکھتی ہیں ۔ اگر یہ موجود نہ ہوتیں تو کمر کی حرکت کی صلاحیت ناممکن ہوجاتی ۔ مہروں میں سوزش اس وقت شروع ہوتی ہے۔جب ان کا درمیانی خلاء تنگ ہوجانے کی وجہ سے رگیں دباؤ کی زد میں آجاتی ہیں۔
مہروں کی تکلییف اور علامات:
اس بیماری کی بڑی علامت بے چینی اور بہت درد ہوتا ہے جوکاندھوں کے دونوں اطراف  گردن کے عقبی جانب،ہنسلی کی ہڈی اور سر کی جانب پھیل سکتا ہے بعض کیسوں میں دونوں بازوؤں اور انگلیوں میں بھی درد ہونے لگتا ہے۔اس کی ایک اہم علامت اکڑاؤ ہے جو شدید بھی ہوسکتا ہے جو ہلکا ہلکا دیر تک بھی رہ سکتا ہے اس سے نقل و حرکت میں جزو ی یا مکمل طور پر رکاوٹ بھی پڑسکتی ہے۔مہروں کی اس بیماری کی دیگر علامات میں متأثرہ جگہ یامقامات کا سُن ہوجانا بھی ہے،جزوی یا کلی طورپر بے حسی ، جھجناہٹ محسوس ہونا سرچکرانا یا سر میں درد ہونا شامل ہے بعض اوقات بازو یا ہاتھ کے پٹھوں میں کمزوری بھی محسوس ہونے لگتی ہے۔ زیادہ بہتر تشخیص ایکسرے سے کی جاسکتی ہے
اسباب:
بالائی مہروں کی سوزش کے بڑے اسباب میں سے زخم آنا۔غلط و غیر فطری انداز میں بیٹھنا ، نامناسب غذا کھانا۔نفسیاتی دباؤ پڑنا۔حرکات و ورزش سے پہلو تہی کرنا شامل ہوسکتے ہیں۔ گردن کے قریب کسی حادثہ میں لگی ہوئی چوٹ بھی سال ہا سال بعد بھی اس صورت حال سے دوچار کرسکتی ہے۔دیر تک بیٹھے رہنا،نامناسب و بھاری وزن اٹھانا ۔جذباتی الجھنیں شامل ہیں۔نرم کرسیوں اور گدوں صوفوں کا ستعمال نامناسب انداز سے بیٹھنا وغیرہ بھی اسباب میں شامل ہوسکتے ہیں۔
علاج:
پشت کے بالائی حصے کے درد کو دور کرنے کے لئے یا عضلات کو نرم کرنے کے لئے دی جانے والی دوائیں بیماریوں کی اصلاح نہیں کرتیں بلکہ وقتی افاقہ دیتی ہیں، مریض ان کا عادی ہوجاتا ہے اگر کم دوا سے افاقہ نہ ہوتو دوا کی مقدار بڑھادی جاتی ہے۔بیماری جڑ پکڑ جاتی ہے اور مریض دواؤں کے سہارے ایام زندگی بسر کرتا ہے۔
مہروں کے امراض میں عموی طورپر درس و تدریس۔لکھنا پڑھنا کشیدہ کاری آج کے دور میں دیر تک کمپیوٹر پر بیٹھنا وغیرہ اس کا سبب بن سکتی ہیں۔مریض کو ایسی ورزشیں تجویز کریں تو مہروں کے لئے توازن کا سبب بنیں تاکہ مہروں کی ٹوٹ پھوٹ میں کمی ہوسکے۔آسان ترین عمل پیدل چلنا تیراکی کرنا۔سائیکل چلانا لیکن اس دوران کمر کو سیدھی رکھنے کی کوشش کرنا ہے چاہئے۔دیگر مشقیں کو جو مہرو ں کے درد میں آرام کا سبب بنتی ہیں۔جوڑوں کو حرکت دینا، انگلیوں کو بار بار کھولنا بند کرنا۔ہتھیلیوں کو اوپر نیچے حرکت دینا۔انہیں کلاک وائز اور انٹی کلاک دائرے میں گھمانا اسی طرح سر کو ایک کاندھے سے دوسرے کاندھے کی طرف بار بار جھکانا یہ مشقیں روزانہ کئی بار کرائیں۔جولوگ بیٹھ کرکام کرتے ہیںانہیں اپنے اوپر لازم کرلینا چاہئے کہ ہر گھنٹے کے بعد اٹھ کرکچھ چہل قدمی کرلیں۔نرم نششتوں سے اٹھ کھڑے ہوں ۔نرم کرسی یا گدے کی جگہ سخت چیز کا استعمال کریں۔تکیہ کا استعمال ترک کردیں۔اگر ممکن نہ ہوتوپتلا تکیہ لگائیں۔
یاد رکھئے انسان اسی وقت بیمار ہوتا ہے جب وہ کسی ایسی عادت کو اپنائے جو فطرت سے میل نہ کھاتی ہو۔جولوگ اپنا کام خود کرتے ہیں محنت و مشقت کے عادی ہوتے ہیں انہیں بیماریاں کم لگتی ہیں اگر لگ جائیں تو جلد صحت کی طرف لوٹتے ہیں۔اگرانسان اپنے مذہب پر کار بند ہوجائے، نمازیں ٹھیک انداز سے شروع کرلے امید ہے کہ کمر کے مہرے کہیں برابلم نہیں کریںگے۔جس انداز کی خوراک اور غذائی ہمارے مینو مں داخل ہوچکی ہیں بالخصوص برائیلر مرغی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا جو چیز اپنے پاؤں ں پر کھڑی نہیں ہوسکتی وہ ہمیں کیا طاقت دیگی؟
کمر درد کے لئے ایک نسخہ
:
ہوالشافی۔اجزائے ترکیبی؛آسگندھ ناگوری،بیخ بدھار،سندھ مغز بادام۔مغز اخروٹ مغز ناریل ،مویز منقی ہر ایک 100gتمام اجزاء باریک پیس لیں۔ترکیب  استعمال: ایک ایک چمچ صبح دوپہر شام دن میں تین بار کھائیں؛فوائد و خواص:پرانا کمر درد۔ڈسک پرابلم۔ مہروں کا ہلنا۔مہروں کے درمیان فاصلہ جیسے دردناک مسائل ایک سے دو ہفتوں میں ٹھیک ہوجاتے ہیں ۔بستر سے لگا ہوا مریض اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہوجاتا ہے۔معطی کا مجرب نسخہ ہے۔
دوسرا نسخہ جسے بے شمار لوگ آزما چکے ہیں:
گوند کتیرا ایک چھٹانک،گوند ببول(کیکر)ایک پاؤ۔دیسی گھی ایک چمچ چاول والا۔گوندوں کو گھی سے ہلکا چرب کرکے بھون لیں۔جب بریاں ہوجائیں تو باریک پیس کر محفوظ کرلیں خوراک: ایک چاول ولا چمچ نیم گرم دودھ یا پانی میںحل کرکے کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے لیں یا کھانے کے ایک گھنٹہ بعد لیں۔دن میں دوبار کافی ہے۔
فوائد
 مہروں، جوڑوں کی تکلیف۔پٹھوں کا کھچاؤ۔جسم میں بے چینی وغیرہ کے لئے بے شمار لوگوں کا آزمودہ ہے۔عورتوں میں لیکوریا، مردوں میں سرعت انزال کا اعلی ترین نسخہ ہے ۔ خواتین کی ٹانگوں میں درد رانوں کی اینٹھن میں کامیاب چیز ہے۔اگر اس میں کشتہ حلرزون ملالیا جائے تو اعلی اثرات کا حامل نسخہ بن جاتا ہے۔وہ لوگ کو کمر کی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہوکر نماز بھی پڑھ سکتے ہوں، ان کے لئے انمول تحفہ ہے۔ایسے نمازی جو قطروں کی شکایت کرتے ہوں انہیں استعمال کرائیں اور دعائیں لیں۔
ہڈیوں کے بوسیدگی کا عمل:
عمر کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کے مساموں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتاجاتا ہے  ساتھ ہی ان کے ٹوٹ جانے اور فریکچر ہوجانے کاخدشہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔یہ مسام بڑھتے بڑھتے اور کھلے ہوتے جاتے ہیں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے یہ مسام سوراخوں کی صورت اختیار کرجاتے ہیں، ہڈیوں کی ساخت شہد کے چھتے کی طرح ہوجاتی ہے۔اگر یہ عمل رہڑھ کی ہڈیوں کو لگ جائے تو ایک طویل تکلیف کا عمل شروع ہوجاتا ہے معمولی دباؤ سے ہڈی ٹوٹ جاتی ہے یا ٹیڑھاپن اُبھر آتا ہے ۔
رہڑھ کی ہڈی چند پتلی پتلی پلیٹوں کا سلسلہ ہوتی ہے، جو ایک دوسری کو قطع کرکے گزرتی ہیں  ان کے گرد ایک خول سا چڑھا ہوا ہوتا ہے جو اُن کی مضبوطی کا ضامن ہوتا ہے، یہ پلیٹیں اورخول مل کر ہڈی کہلاتے ہیں، جسم کو ایک خاص شکل عطاکرتے ہیں ،جن لوگوں کو ہڈیوں کی بوسیدگی کا عارضہ لاحق ہوتا ہے ان کی یہی پلیٹیں سوراخوں کی بہتات کی وجہ سے کھوکھلی ہوجاتی ہیں، یہاں تک کہ ان کا وجود معمولی چوٹ کو بھی برداشت نہیں کرسکتا، ایک ضرب یا چوٹ ہی انہیں معذور بنانے کے لئے کافی ہوتی ہے ۔ہڈیوں کی پوسیدگی کی بیماری کسی عمر میں بھی لگ سکتی ہے لیکن بڑھاپے میں اس کا شکار ہوجانا ،عام سی بات ہے۔کسی بھی شخص کی ہڈیوں کی کمیت و سائز میں زمانہ بلوغ تک تیزی سے بڑھوتری ہوتی رہتی ہے ۔تیس سال کے ہونے تک یہ عمل جاری رہتا ہے اس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہو جا تی ہے ۔عورتیں زمانہ سن یاس میں(بندش حیض ) کے بعد اس بیماری کا تر نوالہ ثابت ہوتی ہیں لیکن ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب اس بیماری کی رفتار میں کمی واقع ہوجاتی ہے ، مردوں میں ہڈیوں کی بوسیدگی کا عمل عمومی طور پر 45سال کے بعد ہونے کا خدشہ ہوتا ہے قوت مدافعت کی بنا پر مختلف افراد میں اس کی نسبت بھی مختلف ہوتی ہے ۔عام طورپر کلائیاں ، رہڑھ کی ہڈی،کولہوں کی ہڈیاں بوسیدگی کی زدمیں آتی ہیں ۔
ہڈیوں کی بوسیدگی کی علامات:
ہدیوں کی بوسیدگی کا عمل شروع ہوتے ہیں معمر افراد ہو شدید درد کا احساس ہونے لگتا ہے  اس کے ساتھ ہی ان کے قد میں کمی آجاتی ہے،جب جھکتے ہیں تو کبڑے دکھائی دیتے ہیں  اس ظاہری تبدیلی کے ساتھ اندرونی اعضاء بالخصوص پھپھڑوں، اعضائے ہضم کے مابین فاصلہ کم ہوجاتا ہے۔دوسری علامات میں کمر درد،عقبی عضلات میں تشنج(خود بخود پھیلاؤ، سکڑاؤ )لمبی ہڈیوں میں درد،پیڑو ک ہڈیوں کا پتلا ہوجانا،کمر میں لچک کم ہوجانا اور جھکنے میں دقت پیدا ہونا اور بعض ہڈیوں کا اکثر ٹوٹے ہوئے رہنا شامل ہے۔
اسباب:
معمر افراد کی ہڈیوں کے مساموں میں غیر معمولی اضافہ ہوجانا،غذائت کی کمی اور جسم میں غذا کو جذب کرنے کی صلاحیت کا کم ہوجانے کا نتیجہ ہوتا ہے ۔کیلشیم اور وٹامن Dکی جسم میں زیادہ عرصہ تک کمی رہے تو اس سے ہڈیوں کے ڈھانچے میں کمزوری واقع ہوجاتی ہے ۔ منرل(نمکیات) کی کمی ہڈیوں میں سکڑاؤ پیدا کردیتی ہے۔مردوں کی نسبت یہ مرض عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے ۔گرکر کولہے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا حادثہ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ہڈیوں کی بوسدگی کا عمل ہوتا ہے۔دیگر اسباب میں گوشت کا زیادہ کھانا،تمباکو نوشی ،کثرت شراب ، بندش حیض کے بعد ہارمونز میں رونما ہونے والا عدم توازن اور جسمانی مصروفیتوں میں کمی واقع ہوجانا شامل ہے۔اگر یہ عمل زیادہ عرصہ تک جاری ہے تو ہڈیوں کی تعمیر ی عمل کم ہو جا تا ہے اور کیلسیم کا انجذاب معمولی رہ جاتا ہے۔
تشخیصی عمل سے جو بات سامنے آتی ہے وہ نمکیات کا جسم میں کم ہونا ہے میگنیز کی کمی زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ایسے پھل اور غذائیں جن میں میگنیز کی مقدار زیادہ ہو کھلانے سے مرض میں نمایاں کمی ہوجاتی ہے۔خوراکی طورپر غدی عضلاتی اور غدی اعصابی نسخہ جات اور خواص و فوائد والی غذائیں، دوائیں مفید رہتی ہیں ۔سورج کی شعاعیں ،مچھلی، دودھ ، مکھن، انڈے وغیرہ بہت مفید ہیں یہ غذائیں ہڈیوں کی کمزوری،دانتوں کی بوسیدگی،مسوڑھوں سے پیپ آنا ،عضلات کی کمزوری ہڈیوں کے نقائص میں بہت مفید ہیں۔ان اشیاء کے زیادہ استعمال سے مشتعل مزاجی،طبیعت کا متلانا،قبض،ہائی بلڈ پریشر اور شریانوں میں کیلشیم میں جمع ہوجانا (ایچ کے باکھرو)
حدبہ:کوب نکلنا
کوب یعنی پیٹھ کے مہروں کا اپنی جگہ سے اکھڑ جانا،ان کا میلان آگے کی جانب ہوتو حدبہ مقدم کہلاتا ہے اور پیچھے کی جانب ہوتو حدبہ مؤخر کہلاتا ہے اس علامت میں رہڑھ کے اوپر کی جھلی میں سوزش ہوجاتی ہے جس سے ہڈی میں چونے کے اجزاء پوری طرح جذب نہیں ہوتے وہاں عضلات میں تحلیل ہوجاتی ہے(غدی عضلاتی تحریک ہوتی ہے)کبھی سوزش ورم کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو اسے ریاح فراسہ کہاجاتا ہے(تحقیقات امراض و علامات)
خالق کائنات نے انسانی رگوں و اوتار کو پچھلی جانب لگایا ہے تاکہ ان کی ممکنہ حفاظت ہوسکے اگر کسی حادثہ یا چوٹ کی وجہ سے کمر یا رہڑھ کی ہڈی میں چوٹ آجائے تو حرکات اعضاء میں بہت بڑی رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ دردوں کے لئے کمر میں لگنے والے انجیکشن کی وجہ سے کچھ لوگ دائمی تکلیف میں مبتلاء ہوگئے۔اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ چوٹ کی وجہ سے کمر درد یا اکڑاؤ پیدا ہوجائے تو سمجھو خون کی روانی میں فرق آچکا ہے مناسب تدبیر کرکے اس کا ازالہ کریں۔کھچاؤ اکڑاؤ کی صورت یں گر م اشیاء درد کی صورت میں خشک اشیاء کا استعمال کریں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ امساکی دوا کھانے کے بعد کمر میں درد اور کھچاؤ پیدا وجاتا ہے اس صورت میں رطوبات کی کمی پیدا ہوجاتی ہے غذا ئی یا دوائی تدبیر سے رطوبات پیدا کریں تاکہ درد اور کھچاؤ میں آرام کی صورت پیدا ہوسکے۔

 

کمر کے مہرے اور ان کی سوزش....Waistband And their inflammation کمر کے مہرے  اور ان کی سوزش....Waistband And their inflammation Reviewed by tibb4all on November 21, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.